Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایشین گیمز: چاپان کے11 سالہ یوکی کوریہارا نے ای سپورٹس میں گولڈ میڈل جیت لیا

یوکی کوریہارا ایشین گیمز کی تاریخ کے جاپان کے سب سے کم عمر کھلاڑی ہیں (فوٹو: جاپان ٹوڈے)
جاپان کے 11 سالہ ای سپورٹس کے غیر معمولی ہونہار کھلاڑی یوکی کوریہارا نے ہفتے کے روز ایشین گیمز میں طلائی تمغہ جیتنے کے بعد کہا کہ انہیں اس کامیابی پر ’کچھ شرمندگی سی محسوس ہوئی‘، کیونکہ انہوں نے اپنے سے تین گنا بڑی عمر تک کے کئی حریفوں کو باآسانی شکست دی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پرائمری سکول کے چشمہ لگانے والے طالب علم یوکی کوریہارا کو ایچی ناگویا گیمز میں شریک ہونے والا سب سے کم عمر کھلاڑی تصور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے پزل گیم ’پیویو پیویو چیمپئنز‘ کے فائنل میں 10-2 سے کامیابی حاصل کی۔
وہ جاپان کی ایشین گیمز کی تاریخ کے سب سے کم عمر کھلاڑی ہیں۔
’پیویو پیویو چیمپئنز‘ ایک پزل گیم ہے جس میں کھلاڑیوں کو اپنی سکرین پر موجود مختلف رنگوں کی بلبلہ نما اشکال کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر پھاڑنا ہوتا ہے، تاکہ سکرین خالی کی جا سکے۔
پورے مقابلے کے دوران یوکی کوریہارا غیر معمولی اعتماد اور سکون کے ساتھ کھیلتے رہے اور شاندار کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے باآسانی طلائی تمغے کے مقابلے تک پہنچ گئے۔
انہوں نے سیمی فائنل میں تھائی لینڈ کے 28 سالہ تانارک وونگ کِتکُن کو 10-1 سے شکست دی اور کم از کم چاندی کا تمغہ یقینی بنا لیا، وہ یوکی کوریہارا کے مقابلے میں بہت زیادہ تجربہ کار کھلاڑی تھے۔
یوکی کوریہارا کے چہرے پر فائنل میں جنوبی کوریا کے 24 سالہ کانگ ڈونگ شن کو شکست دینے کے بعد بھی مسکراہٹ نہیں آئی۔ مقابلے کے آغاز میں وہ 1-0 سے پیچھے بھی رہ گئے تھے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’سچ کہوں تو مجھے کچھ شرمندگی سی محسوس ہو رہی تھی، اس لیے میں اپنے تاثرات ظاہر نہیں کر پا رہا تھا اور چہرے کے تاثرات بھی زیادہ تبدیل نہیں کر سکتا تھا۔‘
انہوں نے پوڈیم پر طلائی تمغہ وصول کرتے وقت ہلکا سا جھک کر سلام کیا اور پھر میدان میں موجود شائقین کی طرف ہاتھ ہلایا۔
انہوں نے کہا کہ ’میں واقعی بہت خوش ہوں۔ طلائی تمغہ بہت خوبصورت، چمک دار اور وزنی ہے۔ اور اس کے ساتھ ملنے والا نرم کھلونا بھی بہت پیارا ہے۔ یہ بات بھی اچھی ہے کہ اس کا رنگ سنہری ہے۔‘

یوکی کوریہارا پوری ایشین گیمز کے دوران غیر معمولی اعتماد اور سکون کے ساتھ کھیلتے رہے (فوٹو: آر ٹی ایچ کے)

یوکی کوریہارا نے پرائمری سکول کی پہلی جماعت میں ’پیویو پیویو‘ کھیلنا شروع کی تھا اور جلد ہی ٹورنامنٹس میں حصہ لینے اور انہیں جیتنے لگے۔
انہیں اپریل میں پروفیشنل کھلاڑی کا لائسنس ملا اور وہ اب باقاعدگی سے بالغ کھلاڑیوں کو بھی شکست دیتے ہیں۔
انہوں نے ایشین گیمز شروع ہونے سے قبل کہا تھا کہ ’اسے سکول اور ٹیوشن کے ساتھ متوازن رکھنا مشکل ہے، لیکن یہ بہت مزے دار ہے۔‘
سال 1951 میں شروع ہونے والی ایشین گیمز کی تاریخ میں سب سے کم عمر تمغہ جیتنے والوں کا کوئی مستند عوامی ریکارڈ دستیاب نہیں۔
تاہم، انڈونیشیا کی بونگا نیماس نے 2018 میں جکارتہ میں ہونے والے ایشین گیمز میں خواتین کی سکیٹ بورڈنگ میں 12 سال کی عمر میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔
چین کی 13 سالہ چوئی چن شی نے بھی تین سال قبل ہانگژو میں خواتین کی سٹریٹ سکیٹ بورڈنگ مقابلے میں کامیابی حاصل کرکے ایشین گیمز کا طلائی تمغہ جیتا تھا۔

شیئر: