کراچی کی ایک پُراسرار خاتون، سوشل میڈیا پر وائرل تصویریں، عدالت میں بغیر ہتھکڑی پیشی، پولیس کے سنسنی خیز دعوے، اور اب یہی کہانی شاید پاکستانی ٹی وی کی اگلی بڑی بایوپک بننے جا رہی ہے۔
مبینہ ’ڈرگ کوئین‘ انمول عرف پنکی کا نام پچھلے چند ہفتوں سے خبروں، سوشل میڈیا اور سیاسی بحثوں میں مسلسل گردش کر رہا ہے، لیکن اب اس کیس نے ایک نیا اور غیر متوقع موڑ لے لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی دنوں سے یہ خبریں زیرِ گردش ہیں کہ سیونتھ سکائی انٹرٹینمنٹ اور جیو انٹرٹینمنٹ مبینہ طور پر انمول عرف پنکی کی زندگی پر مبنی ایک بایوگرافیکل ڈرامہ تیار کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
متعدد انٹرٹینمنٹ پیجز اور شوبز ویب سائٹس نے دعویٰ کیا کہ اس پراجیکٹ میں مرکزی کردار اداکارہ صبا قمر ادا کریں گی، جبکہ اس کا سکرپٹ معروف صحافی اور ٹی وی میزبان شاہ زیب خانزادہ تحریر کر رہے ہیں۔
پورٹس کے مطابق ڈرامہ ابھی ابتدائی ڈیویلپمنٹ مرحلے میں ہے، تاہم اس نے پہلے ہی سوشل میڈیا پر غیرمعمولی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صبا قمر نے خود بھی اپنی انسٹاگرام سٹوریز پر ان خبروں سے متعلق پوسٹس شیئر کیں، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں مزید تیز ہو گئیں کہ شاید واقعی پاکستانی ٹیلی ویژن ایک ایسے حقیقی اور متنازع کیس کو سکرین پر لانے جا رہا ہے جس نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی تھی۔

اگر یہ منصوبہ حقیقت بنتا ہے تو یہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں ایک مختلف نوعیت کی پیش رفت سمجھی جائے گی، کیونکہ مقامی ٹی وی پر حالیہ برسوں میں کسی اتنے تازہ، ہائی پروفائل اور حقیقی کرائم کیس پر مبنی ڈرامہ شاذ و نادر ہی دیکھا گیا ہے۔
آخر انمول عرف پنکی کا کیس اتنا بڑا کیوں بن گیا؟
یہ کہانی اُس وقت نمایاں ہوئی جب کراچی پولیس نے رواں سال مئی میں گارڈن کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق گرفتاری کے دوران منشیات، اسلحہ اور مختلف ڈیجیٹل شواہد برآمد ہوئے۔ بعد ازاں تحقیقات آگے بڑھیں تو حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں بلکہ ایک منظم اور جدید طرز کے نیٹ ورک کی کہانی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مبینہ طور پر واٹس ایپ اور دیگر آن لائن ذرائع کے ذریعے آرڈرز لیے جاتے تھے، پھر بائیک رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں منشیات پہنچائی جاتی تھیں۔ تفتیش میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ اس نیٹ ورک میں مختلف شہروں کے افراد، مالی معاونین اور غیرملکی شہری بھی شامل تھے۔

یہ کیس اُس وقت مزید وائرل ہو گیا جب انمول عرف پنکی کو عدالت میں بغیر ہتھکڑی پیش کیے جانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ اس معاملے پر شدید ردعمل سامنے آیا، تحقیقات کا حکم دیا گیا اور یہ سوال اٹھنے لگا کہ آخر یہ ملزمہ کون ہے جس کے گرد اتنا غیرمعمولی شور پیدا ہو گیا؟
پھر معاملہ صرف سوشل میڈیا تک محدود نہ رہا۔ ’پنکی کیس‘ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک جا پہنچا، جہاں مبینہ طور پر اس نیٹ ورک سے جڑے ’وی آئی پی‘ افراد کے نام سامنے لانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ سیاسی شخصیات، بیوروکریسی اور بااثر حلقوں سے متعلق قیاس آرائیاں اس کیس کو مزید پراسرار بناتی رہیں۔












