خوش گوار انجام صرف شادی نہیں، کبریٰ خان کی ڈاکٹر بہو، ازدواجی زندگی اور خُوب صورتی کے معیار پر گفتگو
خوش گوار انجام صرف شادی نہیں، کبریٰ خان کی ڈاکٹر بہو، ازدواجی زندگی اور خُوب صورتی کے معیار پر گفتگو
منگل 28 جولائی 2026 16:12
اداکارہ کے مطابق وقت کے ساتھ انہوں نے تنقید برداشت کرنا سیکھ لیا ہے (فوٹو: انسٹاگرام)
لالی وُڈ کی مشہور اداکارہ کبریٰ خان نے ایک تفصیلی انٹرویو میں اپنی حالیہ شادی، ڈرامہ ’ڈاکٹر بہو‘، سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید، خوبصورتی کے غیر حقیقی معیارات، کرداروں کے انتخاب اور مستقبل کے منصوبوں پر کھل کر گفتگو کی ہے۔
’گلاس ای ٹی سی بائے ملیحہ رحمان‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں اداکارہ نے بتایا کہ ان کے نزدیک ہر کہانی کا خوشگوار اختتام صرف شادی یا میاں، بیوی اور بچوں پر مشتمل زندگی نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات انسان کا خود کو دوبارہ دریافت کر لینا بھی ایک خوبصورت انجام ہوتا ہے۔
کبریٰ خان نے کہا کہ ’ڈاکٹر بہو‘ کی غیر معمولی کامیابی ان کے لیے بھی خوشگوار حیرت تھی۔ ان کے مطابق انہوں نے اور پوری ٹیم نے خلوص کے ساتھ کام کیا تھا اور پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ اگر ڈرامہ مقبول نہ بھی ہوا تو انہیں افسوس نہیں ہوگا کیونکہ سب نے اپنی پوری محنت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ’کسی بھی ڈرامے کی کامیابی صرف مرکزی اداکار یا ہدایتکار کی نہیں بلکہ پوری ٹیم کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ ہوتی ہے‘، جبکہ ہدایتکار مہرین جبار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ سکرپٹ اور ہر کردار پر دل سے کام کرتی ہیں۔
’ڈاکٹر بہو‘ صرف محبت کی کہانی نہیں
اداکارہ کے مطابق انہیں اس ڈرامے میں صرف ثانیہ کا کردار ہی نہیں بلکہ پوری کہانی پسند آئی کیونکہ ہر کردار اپنی الگ کہانی اور نقطۂ نظر رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ثانیہ کا اصل مسئلہ ماں بننا نہیں بلکہ برسوں کی محنت سے بنائے گئے اپنے پیشے، شناخت اور خوابوں کو کھونے کا خوف تھا۔ ان کے مطابق ’ڈرامہ ایک خودمختار عورت کی پیشہ ورانہ زندگی، اخلاقی ذمہ داری، شادی اور خاندانی توقعات کے درمیان کشمکش کو حقیقت کے قریب رہتے ہوئے پیش کرتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’حقیقی زندگی کی طرح اس کہانی میں بھی کوئی کردار مکمل طور پر اچھا یا برا نہیں بلکہ ہر کردار کے فیصلوں کے پیچھے ایک وجہ موجود ہے۔‘
اگر دوبارہ موقع ملا تو پھر بھی ثانیہ بنوں گی
کبریٰ خان نے بتایا کہ اگر انہیں دوبارہ موقع دیا جائے تو وہ ایک مرتبہ پھر ثانیہ کا کردار ہی ادا کرنا چاہیں گی، البتہ انہوں نے منّت کے کردار اور اداکارہ حاجرہ یامین کی اداکاری کو بھی غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کردار کے لیے ان سے بہتر انتخاب ممکن نہیں تھا۔
ڈرامے کے ممکنہ اختتام سے متعلق سوال پر کبریٰ خان نے کہا کہ ’میں یہ نہیں سمجھتی کہ ہر کہانی کا اختتام لازماً مرکزی جوڑے کے ایک ہونے پر ہونا چاہیے۔‘
ان کے بقول ’معاشرے نے برسوں سے یہ تصور دیا ہے کہ خوشگوار انجام صرف شادی ہے، جبکہ حقیقت میں ہر انسان کی خوشی مختلف ہوتی ہے اور بعض اوقات خود کو پہچان لینا اور اپنی شناخت حاصل کر لینا بھی ایک کامیاب انجام ہوتا ہے۔‘
اپنے کام کے طریقۂ کار پر بات کرتے ہوئے کبریٰ خان نے بتایا کہ ’میں ہر کردار کو ایک حقیقی انسان کی طرح سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ کردار سے ذہنی طور پر بات کرتی ہیں، اس کی سوچ اور وجوہات کو سمجھتی ہیں، اور اگر کسی کردار سے جذباتی تعلق قائم نہ ہو سکے تو وہ اس کردار کو قبول نہیں کرتیں۔ ان کے مطابق وہ ایک جیسے کردار دہرانے کے بجائے ہمیشہ مختلف اور چیلنجنگ کرداروں کا انتخاب کرتی ہیں تاکہ ہر کردار ان کے لیے نیا تجربہ ثابت ہو۔
سوشل میڈیا پر تنقید کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی
کبریٰ خان نے کہا کہ ’ڈاکٹر بہو‘ کے آغاز میں سوشل میڈیا پر ان کی جوڑی، وزن اور ظاہری شخصیت پر کافی تنقید ہوئی، لیکن انہوں نے خاموش رہنے کو ترجیح دی کیونکہ ان کے خیال میں ہر رائے کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ ’ابتدا میں لوگ سلمان اور ثانیہ کی جوڑی پر سوال اٹھا رہے تھے لیکن جیسے جیسے کہانی آگے بڑھی، وہی ناظرین ان کرداروں سے جڑ گئے۔‘ اداکارہ کے مطابق وقت کے ساتھ انہوں نے تنقید برداشت کرنا سیکھ لیا ہے اور اب وہ ہر تبصرے کو ذاتی مسئلہ نہیں بناتیں۔
خوبصورتی کا معیار معاشرے نے بنایا
کبریٰ خان نے کہا کہ ’شوبز انڈسٹری اور معاشرے نے خوبصورتی کا ایک ایسا معیار بنا دیا ہے جس میں ہر شخص فٹ نہیں بیٹھ سکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ خود سائز زیرو نہیں ہیں اور ایک وقت تھا جب وہ دوسروں کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرتی تھیں، لیکن اب ان کے نزدیک سب سے اہم چیز اچھی صحت ہے۔
ان کے مطابق وہ ہرگز نہیں چاہتیں کہ نوجوان لڑکیاں اداکاراؤں کو دیکھ کر اپنی صحت خراب کریں یا صرف خوبصورت نظر آنے کے لیے غیر ضروری ڈائٹنگ یا نقصان دہ طریقے اپنائیں۔
انہوں نے کہا کہ ’خوبصورتی کے معیارات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، اس لیے ہر شخص کو اپنا معیار خود طے کرنا چاہیے کیونکہ اصل خوبصورتی انسان کے کردار، دل اور صحت میں ہوتی ہے۔‘
پسندیدہ ساتھی فنکار اور گوہر رشید سے متعلق رائے
کبریٰ خان نے اپنے متعدد ساتھی اداکاروں کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے فنکاروں کے ساتھ کام کرنا پسند کرتی ہیں جو کردار کو حقیقت کے قریب لے جائیں۔
کبریٰ خان نے کہا کہ ’میں اور گوہر ایک دوسرے کے پیشہ ورانہ فیصلوں کا احترام کرتے ہیں‘ (فوٹو: انسٹاگرام)
گوہر رشید سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ انہیں مخصوص قسم کے کرداروں تک محدود کر دیا گیا ہے، کیونکہ ایک اچھے اداکار کو مختلف نوعیت کے کردار کرنے چاہییں۔
شادی کے بعد زندگی
شادی کے بعد کی زندگی پر گفتگو کرتے ہوئے کبریٰ خان نے کہا کہ ’میں اور گوہر ایک دوسرے کے پیشہ ورانہ فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’میاں، بیوی کا فرض صرف گھر چلانا نہیں بلکہ ایک دوسرے کی ترقی میں مدد کرنا بھی ہے، اس لیے ہم کبھی ایک دوسرے کے کام یا کرداروں کے انتخاب میں رکاوٹ نہیں بنتے۔‘
کبریٰ خان نے کہا کہ وہ مستقبل میں بھی ایسے ہی کردار کرنا چاہتی ہیں جو انہیں بطور اداکار چیلنج کریں اور ناظرین کو سوچنے پر مجبور کریں، کیونکہ ان کے نزدیک ایک اچھی کہانی صرف تفریح نہیں بلکہ معاشرے میں گفتگو کا آغاز بھی کرتی ہے۔