آل ینفع ہیریٹیج گاؤں: جہاں تین ہزار سالہ تاریخ آج بھی زندہ ہے
جمعرات 30 جولائی 2026 7:08
یہ گاؤں منفرد طرزِ تعمیر کے باعث نمایاں سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
عسیر ریجن کے شہر ابھا سے 40 کلومیٹر جنوب مغربی جانب تمنیہ مرکز کے قریب گاؤں آل ینفع واقع ہے جس کی تاریخ تین ہزار برس قدیم ہے۔
ایس پی اے کے مطابق تاریخی و قدیم گاؤں اپنی منفرد طرزِ تعمیر اور ثقافتی ورثے کی وجہ سے خطے کے نمایاں سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے جو اس خطے کی سماجی اور اقتصادی زندگی کے ہر دور کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ قدیم ترین گاؤں تاریخ و ثقافت سے دلچسپی رکھنے والوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس کے ساتھ عسیر کے سیاحتی پروگرام‘ ’السماء ارضک‘ سلوگن کے تحت سیاحوں کو منفرد ثقافتی تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
تعمیراتی ورثے کے محقق علی سعید الشھرانی نے بتایا کہ ’آل ینفع روایتی سعودی طرزِ تعمیر کے ایک مربوط ماڈل کی نمائندگی کرتا ہے جہاں پتھر سے بنے کئی منزلہ مکان، تاریخی راستے اور کھلے چوک شامل ہیں جو علاقے کی قدیم سماجی و معاشی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’مقامی پتھر اور لکڑی کے استعمال نے گاؤں کی اصل تعمیراتی شناخت کو آج تک محفوظ رکھا ہوا ہے۔‘
علی سعید الشھرانی نے بتایا کہ ’گاؤں ’آل ینفع‘ کا نام مقامی لفظ ’النفعہ‘ سے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی منفعت یا باہمی تعاون اور اجتماعی طور پر ایک دوسرے کے کام آنا وغیرہ کے ہیں۔‘

تاریخ کے مطابق عہدِ رفتہ میں یہاں کے باسی زراعت کے پیشے سے وابستہ تھے جو کنویں کھودنے، گھروں کی تعمیر، سیڑھی دار کھیت بنانے اور فصلوں کی کٹائی کے کام مل کر کیا کرتے تھے۔ یہی عمل اس گاؤں والوں کی شناخت بن گیا۔
ماضی میں یہ بستی ’آل ینفع کے وطن‘ کے نام سے مشہور تھی کیونکہ یہاں آبادی نسبتا زیادہ تھی اور یہ علاقے کی بڑی آبادیوں میں شمار ہوتی تھی جس نے اسے تاریخی طور پر اہم سماجی اور معاشی مقام دیا۔
علی سعید الشھرانی نے مزید کہا کہ ’ایک سویڈش ماہر آثار قدیمہ کی تحقیقی ٹیم نے اس گاؤں پر کام کیا تھا جن کے مطابق گاؤں کی تاریخ تین ہزار برس سے بھی زیادہ قدیم ہے۔ یہاں دریافت ہونے والے فوسلز، قدیم کنویں اور آثار قدیمہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں یہ مقام صدیوں سے انسانی آبادی کا مرکز تھا۔

گاؤں میں 70 سے زائد پرانے کنویں موجود ہیں جو چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے تھے تاکہ سارا سال میٹھے پانی کی فراہمی ممکن رہے۔
ان کنوؤں میں سے سات ایک ہی مقام پر موجود ہیں جبکہ زیرِ زمین آبی گزرگاہوں کا منظم سسٹم کنوؤں اور بارش کے پانی کو گھروں کے نیچے سے گزارتے ہوئے پہاڑی ڈھلوانوں پر موجود زرعی کھیتوں تک پہنچاتا تھا جو اس دور کی منفرد انجینیئرنگ کا واضح ثبوت ہے۔
گاؤں کی قدیم جامع مسجد کی تعمیر کے بارے میں مورخین کا کہنا ہے کہ ’یہ سال ہجری 105 میں بنائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ پانچ دیگر تاریخی مساجد، مکانات اور گلیاں اس دور کی مستحکم سماجی ہم آہنگی اور اجتماعیت کی عکاسی کرتے ہیں۔‘

آل ینفع گاؤں کا رقبہ ایک لاکھ 20 ہزار مربع میٹر ہے جس میں تقریباً 460 کے قریب قدیم تاریخی مکان اور قلعہ نما عمارتیں ہیں جنہیں پہاڑی جغرافیے کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی پتھر اور مٹی سے تعمیر کیا گیا۔
واضح رہے آل ینفع گاؤں 31 اگست 2026 تک سیاحوں کے لیے کھلا رہے گا۔ 68 روزہ پروگرام کے دوران ثقافتی ورثے کی سرگرمیاں، عوامی فنون، دستکاریوں کی نمائش اور دیگر تفریحی پروگراموں کا اہتمام کیا گیا ہے۔
عسیر ترقیاتی اتھارٹی نے کہا کہ رواں سیزن میں 55 ہزار سے زائد سیاحوں کی آمد متوقع ہے جو مملکت میں ثقافتی اور تاریخی سیاحت کے فروغ کو اجاگر کرتی ہے۔
