Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تبوک ریجن میں ’ریزن‘ آرٹ کی مقبولیت کیوں بڑھ رہی ہے؟

تبوک ریجن میں ریزن آرٹ کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ منفرد ڈیزائن سے تیار کی جانے والی مصنوعات میں تنوع ہے جو اس خطے کی شناخت اور قدرتی ماحول میں دلچسپی رکھنے والوں کو متوجہ کرتا ہے۔
سعودی آرٹسٹ می الحویطی نے ایس پی اے کو بتایا کہ ریزن آرٹ بنیادی طور پر دو اہم کیمیائی اجزا ’ریزن‘ اور ’ایپکوکسی‘ کو ملا کر تیار کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق کسی بھی فن پارے کی خوبصورتی و پسندیدگی کا انحصار اجزا کے درست تناسب، مناسب رنگوں کے انتخاب اور مختلف اقسام کے خام مال کا ماہرانہ انداز میں استعمال پر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فن کے لیے صبر و ضبط اور جدت طرازی و صلاحیت مطلوب ہوتی ہے۔ ریزن سے کی چینز، وال پینٹنگز، گفٹ آئٹمز و دیگر بہت سے چیزیں تیار کی جا سکتی ہیں۔
می الحویطی نے کہا کہ اس فن سے وابستہ افراد اپنے کام میں علاقے کے عناصر کو شامل کرنے پر توجہ دیتے ہیں، مثال کے طور پر خشک پھول، پھیلی ہوئی ریت اور رتییلے میدان، نگینے وغیرہ شامل ہیں جنہیں وہ اپنے فن کے ذریعے نمایاں کرتے ہیں۔

سعودی آرٹسٹ نے مزید کہا کہ ریزن مواد کی خاصیت اور قدرتی شفاف رنگت کے باعث فنکار کو اپنے خیالات و تصورات کو عملی شکل میں تبدیل کرنے کے بہت سے مواقع میسر آتے ہیں کیونکہ اس مادے کو مرضی کے رنگوں اور انداز میں مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔

 

شیئر: