Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مکہ میں پہلی اور دوسری صدی کے چٹانی نقوش اور قدیم کنوؤں کے آثار دریافت

60 سے زائد نقوش اور چار میں سے 2 قدیم و تاریخی کنویں بھی ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
مکہ مکرمہ کے شمال مشرقی جانب واقع وادی العسیلہ اسلامی عہد کے آثارِ قدیمہ سے مالا مال ہے۔ یہاں 60 سے زائد نقوش موجود ہیں جبکہ چار قدیم و تاریخی کنوؤں میں سے دو بھی اسی وادی میں واقع ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق وادی میں پائے جانے والے آثارِ قدیمہ اس علاقے میں انسانی تہذیب کے ارتقا اور عربی رسم الخط کی ترقی کے گواہ ہیں۔ یہاں موجود آثارِ قدیمہ عہدِ رفتہ میں حجاج کے قافلوں کی آمد و رفت کے بھی امین ہیں۔
یہ وادی، جعرانہ کے علاقے میں مکہ مکرمہ کی حدود کے قریب، الشرائع علاقے کے شمال مغربی سمیت اور ریع النقراء سے ریع ام السلم علاقے کے ساتھ ہی واقع ہے۔
وادی کی لمبائی چھ  کلو میٹر ہے جبکہ اس کی چوڑائی دو کلو میٹر کے قریب ہے۔ علاقے کا نام ماضی میں ’العسیلہ‘ بنی عبداللہ بن خالد بن اسید سے منسوب ہوا جو خلیفہ حضرت عثمان بن عفان ؓ  کے عہد خلافت میں مکہ مکرمہ کے گورنر تھے۔
یہاں پائے جانے والے چٹانی نقوش تین بڑے پہاڑوں پر موجود ہیں جن میں ’الوجرہ الکبیر، الوجرہ الصغیر اور جبل ابوسرۃ‘ ہیں، نقوش پہلی اور دوسری صدی ہجری کے پیں۔
پہاڑی چٹانوں پر پائے جانے والے نقوش میں ’صفیہ بنت شیبہ بن عثمان، محمد بن عبدالرحمن بن ھاشم‘ کے نام نمایاں ہیں جو پہلی صدی ہجری میں نقش کیے گئے ہوں گے۔

وادی العسیلہ ماضی میں حجاج اور تجارتی قافلوں کی گزرگاہ رہا ہے جو مکہ مکرمہ کی طرف جانے والے تاریخی راستوں میں شامل ہے، خاص طور پر عراق سے آنے والے قافلے یہاں سے گزرا کرتے تھے۔

تاریخ میں وادی ہمیشہ سے اہمیت کی حامل رہی ہے، یہاں مختلف ادوار میں مسلم حکمرانوں نے خاص توجہ دی، حجاج کے قافلوں کی گزرگاہ ہونے کی وجہ سے یہاں پانی کی مستقل فراہمی پر خاص توجہ دی گئی۔
اس کے لیے مختلف مقامات پر کنویں کھودے گئے، جن میں سے بعض کے آثار آج بھی موجود ہیں۔
وادی میں چار تاریخی کنویں تھے جن میں سے دو اب بھی موجود ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے عباسی دور حکومت میں حجاج کے کاروانوں کی سہولت کے لیے مختلف مقامات پر کنویں کھودے گئے تھے۔

رائل کمیشن برائے مکہ مکرمہ اور مقامات مقدسہ عاقے میں پائے جانے والے آثار قدیمہ کے تحفظ اور بحالی کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے تاکہ یہاں آنے والوں کو اس علاقے کی تاریخی اہمیت سے روشناس کرایا جائے۔

 

شیئر: