Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ماضی کی گم شدہ داستان‘: قصیم میں تاریخی محل السعید کی بحالی

قصر السعید کی تاریخ 200 برس سے زیادہ قدیم بتائی جاتی ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
 قصیم ریجن کی کمشنری الشماسیہ میں موجود تاریخی محل ’السعید‘ کی تعمیرِ نو محض وقت کے ساتھ  ڈھے جانے والی مٹی کی دیواروں کو دوبارہ کھڑا کرنے کی کوشش نہیں بلکہ علاقے کی تاریخ کے ایک دور کی جزئیات کو دوبارہ زندہ کرنے کی کاوش ہے۔
ایس پی اے کے مطابق قصر السعید کی تاریخ 200 برس سے زیادہ قدیم ہے جسے الشماسیہ میں ابتدائی آباد کاری سے وابستہ قدیم ترین محلات میں شمار کیا جاتا ہے۔
مٹی سے بنی یہ عمارت اس دور میں اس کے رہائشیوں کے سماجی مرتبے کی عکاسی کے علاوہ اس دور میں علاقے کے رہن سہن اور طرز زندگی کی بھی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔
ماہرِ تعمیرات خالد سلیمان السعید نے بتایا کہ ’ان کے خاندان نے قصر کو دوبارہ بحال کرتے ہوئے اسے محض ایک پرانی عمارت سمجھ کر نئے سرے سے تعمیر کرنے کے بجائے اسے ایک تاریخی ورثے کے طور پر دیکھا جس کی اصل تفصیلات کو اسی انداز میں بحال کرنا ضروری تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس مرحلے پر خاندان کی قدیم ملکیتی دستاویزات تعمیرِ نو کے دوران بنیادی حوالہ ثابت ہوئیں۔‘

 بحالی کا کام محض دیواروں، بنیادوں اور دروازوں کی تعمیرِ نو تک محدود نہیں تھا بلکہ محل کی انتہائی باریک تفصیلات و جزئیات کو محفوظ کیا گیا جن میں فصیل، کنواں، گڑھے، نقوش، دروازوں کی سمت اور محل کے مختلف حصوں کی تقسیم شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’محل کی تقریباً 90 فیصد تفصیلات کو اس کی قدیم حالت کے مطابق بحال کیا گیا ہے۔‘

محل تین منزلوں پر مشتمل ہے، اس میں چھت کے علاوہ متعدد کمرے اور ایسی سہولتیں بھی موجود ہیں جو اس دور کی روز مرہ ضروریات سے وابستہ تھیں جن میں اناج ذخیرہ کرنے کی جگہیں شامل ہیں۔ محل کی تعمیر مکمل طور پر مٹی سے کی گئی ہے تاکہ اس اصلی قدیم تعمیری شناخت کو بحال رکھا جائے۔
تعمیرِ نو کا کام مکمل ہونے کے بعد اب جبکہ محل کی مٹی کی دیواریں دوبارہ اپنی اصلی جگہ کھڑی ہو چکی ہیں، دروازوں کی سمتیں، فصیل اور کنواں بھی اپنی اصلی حالت میں واپس آچکا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ماضی کی ایک گم شدہ داستان زندہ ہو گئی ہو۔

 

شیئر: