Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تیل کی قیمتوں کا روزانہ تعین، عالمی مارکیٹ میں کمی کا اثر پاکستان میں کیوں نہیں ہو رہا؟

پارلیمانی کمیٹی نے پیٹرول کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کے طریقۂ کار کی توثیق کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں تیل اور گیس کے شعبے کے نگران ادارے ’اوگرا‘ کے چیئرمین نبیل اعوان کا کہنا ہے کہ ’روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔‘
اُنہوں نے جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں اضافہ صارفین کے لیے کسی ’شاک‘ سے کم نہیں ہوتا تھا۔ اسی شدید اثر کو کم کرنے کے لیے اب روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کی جا رہی ہیں۔‘
تاہم سینیٹرز نے اس نئے طریقۂ کار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اُٹھایا کہ ’عالمی مارکیٹ میں اگر تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں تو ملک میں ان کا اثر فوری طور پر کیوں دکھائی نہیں دے رہا؟‘
اس کے جواب میں چیئرمین اوگرا نے وضاحت کی کہ ’بین الاقوامی مارکیٹ میں حالیہ دنوں میں ہونے والی کمی کا اثر مقامی سطح پر فوری طور پر اس لیے نظر نہیں آ رہا کیونکہ روزانہ کی قیمتیں سات روزہ اوسط (ایوریج) کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں۔ یعنی آج مقرر کی جانے والی قیمت دراصل گزشتہ ایک ہفتے کی اوسط قیمت پر مبنی ہوتی ہے۔‘
چیئرمین اوگرا کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی مارکیٹ میں اگر قیمتیں کم ہوتی ہیں تو پاکستان میں اس کا فائدہ اگلے سات دنوں کے دوران منتقل ہوتا ہے، اور یہی طریقۂ کار قیمتوں میں اضافے کے وقت بھی نافذ رہتا ہے۔‘
خیال رہے کہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بیرسٹر نبیل عوان اس وقت چیئرمین اوگرا کی اضافی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اجلاس کے دوران اس فارمولے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین ’سلو پوائزن‘ ثابت ہو رہا ہے جس سے مارکیٹ میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے جس کے باعث  کاروبار ٹھپ ہو جائیں گے۔‘
چیئرمین اوگرا نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اس فیصلے کا واحد مقصد روزانہ کی بنیاد پر عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔‘

وفاقی وزیر پیٹرولیم کے مطابق، عالمی مالیاتی فنڈ سے مشاورت کے بغیر پیٹرولیم لیوی میں کمی نہیں کی جا سکتی (فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان)

اُن کے مطابق، شفافیت برقرار رکھنے کے لیے روزانہ ہونے والے ترامیم، عائد شدہ ٹیکسز اور تمام ریٹس ادارے کی آفیشل ویب سائٹ پر شائع کیے جا رہے ہیں۔
بیرسٹر نبیل عوان نے مزید بتایا کہ ’ملک میں درامد ہونے والا تیل تقریباً 20 سے 25 دن کے بعد پیٹرول پمپوں پر پہنچ کر فروخت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت جو پیٹرول یا ڈیزل فروخت ہو رہا ہے، وہ دراصل 20 سے 25 دن پرانا ہے۔‘
چیئرمین اوگرا نے واضح کیا کہ ’روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے سے مارکیٹ پر اثرات آہستہ آہستہ مرتب ہوتے ہیں، جس سے  شاک کا خاتمہ ہو گیا ہے۔‘
اُن کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اب پیٹرول پمپوں پر طویل قطاریں نظر نہیں آتیں اور مارکیٹ حالات کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔
چیئرمین اوگرا کا روزانہ قیمتوں کے تعین سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات اور ان کے حل سے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ ’مارکیٹ خود معاملات کو بہتر سمجھتی ہے۔‘
اُن کے مطابق، گاڑیوں میں جب روزانہ کی بنیاد پر ایندھن ڈلوایا جاتا ہے تو کرایے بھی اسی تناسب سے مقرر ہو جائیں گے، چنانچہ اس میں تشویش کی کوئی بات نہیں۔

سینیٹرز نے بھی پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کے نئے طریقۂ کار پر تشویش کا اظہار کیا (فوٹو: اے ایف پی)

چیئرمین اوگرا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں صبح و شام تبدیل ہوتی ہیں، لہٰذا یہ کوئی ایسا اقدام نہیں ہے جو پہلی بار پاکستان میں ہی کیا گیا ہو۔‘
’لیوی کم نہیں کی جا سکتی‘
وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران امریکہ جنگ شروع ہونے کے بعد حکومت نے پیٹرول پر لیوی میں کمی کی تھی، اور یہ لیوی 28 فروری سے پہلے کی سطح سے بھی کم ہو گئی تھی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’جنگ کے دوران لیوی 160 روپے سے کم کر کے 60 روپے کر دی گئی تھی، اور ہم اگر اب مزید لیوی کم کریں گے تو اس کے نتائج ہم سال 2022 میں پہلے ہی دیکھ چکے ہیں۔‘
اُنہوں نے واضح کیا کہ ’عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشاورت کے بغیر پیٹرولیم لیوی میں کمی نہیں کی جا سکتی۔‘
قائمہ کمیٹی کے ارکان کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکسوں کے دوگنے بوجھ پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جس پر چیئرمین اوگرا نے واضح کیا کہ ٹیکس عائد کرنا یا اکٹھا کرنا ریگولیٹر کی ذمہ داری نہیں ہے۔ تاہم اُنہوں نے یہ اعتراف کیا کہ اِس وقت پیٹرول پر فی لیٹر مجموعی طور پر 103 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ پیٹرولیم نے بریفنگ کے دوران مزید بتایا کہ ’حکومت اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے عمل سے باہر نکل چکی ہے اور یہ ذمہ داری اب مکمل طور پر ریگولیٹر (اوگرا) ادا کر رہا ہے۔‘
اُن کے مطابق اوگرا شفاف انداز میں روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کر کے انہیں اپنی ویب سائٹ پر جاری کرتا ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کمیٹی اجلاس کے بعد ’اردو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کو درپیش مشکلات کا اعتراف کرتے ہیں، لیکن حکومت کو قومی مفاد کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوتا ہے۔‘

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ روزانہ قیمتوں کا تعین ’سلو پوائزن‘ ثابت ہو رہا ہے جس سے مارکیٹ میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے (فوٹو: ڈان)

اُن کا کہنا تھا کہ ’پارلیمانی کمیٹی نے بھی روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کی توثیق کی ہے۔ حکومت کا مقصد مارکیٹ میں مسابقت (کمپیٹیشن) کو فروغ دینا اور عام آدمی کو کم قیمت پر پیٹرول فراہم کرنا ہے۔‘
اُن سے جب سوال کیا گیا کہ کیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی فوری کمی ممکن ہے، تو اُنہوں نے اسے مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ ’جنگ اگر شدت اختیار کرتی ہے یا کشیدہ رہتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں قیمتیں اوپر جائیں گی اور پاکستان میں بھی اِسی کے مطابق قیمتوں میں رد وبدل ہوگا۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’خطے میں اگر مستقل جنگ بندی ہوتی ہے تو اس کا فائدہ فوری طور پر پاکستانی عوام تک منتقل کر دیا جائے گا۔‘

شیئر: