Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پیٹرولیم مصنوعات کی ڈی ریگولیشن سے مراد کیا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کے بعد ملک میں ایک بار پھر قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے پر بات ہو رہی ہے۔
سابق وزرا کے ساتھ ساتھ ماہرینِ توانائی بھی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کی جائیں تو اس سے نہ صرف صارفین کو فائدہ ہوگا بلکہ حکومت کی ذمہ داریاں بھی کم ہو جائیں گی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی ڈی ریگولیٹ ہونے کا مطلب کیا ہے اور اس کے فوائد و نقصانات کیا ہو سکتے ہیں؟
اس معاملے پر جب اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی سے رابطہ کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ ابھی تک ہمیں پیٹرول یا ڈیزل کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی، اور یہ اختیار صرف وفاقی حکومت کے پاس ہے جس کے مطابق اوگرا عمل کرے گا۔
پاکستان میں اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کیسے طے ہوتی ہیں؟
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس وقت اشتراکی نظام کے تحت طے کی جاتی ہیں، یعنی کچھ مصنوعات حکومت کے کنٹرول میں ہیں جبکہ کچھ مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق چلتی ہیں۔
پیٹرول، ڈیزل اور لائٹ ڈیزل جیسی مصنوعات کی قیمتیں اوگرا اور متعلقہ کمپنیاں عالمی مارکیٹ کی قیمتیں، ڈالر کے ریٹ اور ٹیکس و دیگر چارجز مدنظر رکھ کر وزارت پیٹرولیم کو اپنی سمری بھیجتی ہیں اور وزارت ہر ہفتے ان قیمتوں کو نوٹیفائی کرتی ہے۔
لیکن واضح رہے کہ اس وقت ہائی اوکٹین کی قیمت ڈی ریگولیٹ ہے اور اس کا تعین مارکیٹ فورسز کرتی ہیں جس کے نتیجے میں اس کی قیمتیں عالمی مارکیٹ، طلب و رسد اور ڈالر کے ریٹ کے مطابق فوری طور پر بدل سکتی ہیں۔

پیٹرول کی قیمت میں بے تحاشا اضافے کے بعد وزیراعظم نے 80 روپے کی کمی کا اعلان کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

’اوگرا قیمتیں ریگولیٹ یا ڈی ریگولیٹ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی‘
اس معاملے پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے ترجمان عمران غزنوی نے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ریگولیشن یا ڈی ریگولیشن کا اختیار صرف وفاقی حکومت کے پاس ہے۔ اوگرا اسی کے مطابق عمل کرتی ہے اور خود قیمتیں ریگولیٹ یا ڈی ریگولیٹ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔
ڈی ریگولیشن سے مراد کیا ہے؟
پیٹرولیم مصنوعات ڈی ریگولیشن سے سادہ طور پر مراد یہ ہے کہ پیٹرول، ڈیزل یا لائٹ ڈیزل کی قیمتیں حکومت خود نوٹیفائی کرنے کی بجائے مارکیٹ کے سپرد کر دے۔
اگر اسے مزید واضح کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت یا ریگولیٹری ادارہ قیمتوں کا براہِ راست کنٹرول ختم کر دے اور مارکیٹ یا کمپنیاں خود قیمتیں طے کریں۔
اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ حکومت ہر ماہ یا ہفتے قیمتیں مقرر کرنے کے عمل سے الگ ہو جائے گی، اور تیل و دیگر مصنوعات کی قیمتیں مارکیٹ کے اصول، طلب، سپلائی اور ٹیکس وغیرہ کے مطابق کمپنیاں خود لگائیں گی۔
ڈی ریگولیٹ ہونے کی صورت میں مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مختلف ہو سکتی ہیں یعنی ایک کمپنی اپنی لاگت کے حساب سے قیمت زیادہ رکھ سکتی ہے اور دوسری کمپنی کم قیمت طے کر سکتی ہے۔

اس وقت ہائی اوکٹین کی قیمت ڈی ریگولیٹ ہے اور اس کا تعین مارکیٹ فورسز کرتی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اردو نیوز نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن سے متعلق مزید جاننے کے لیے پاکستان کے معروف انرجی ماہر ڈاکٹر شعیب احمد سے بات کی ہے۔
ڈاکٹر شعیب نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ڈی ریگولیشن کا مطلب قیمتوں کے تعین کے نظام میں بنیادی تبدیلی ہے، یعنی سسٹم چینج۔
ان کے مطابق، حکومت جب کسی شعبے پر اپنا کنٹرول ختم کرتی ہے تو اسے ڈی ریگولیٹ کہتے ہیں، اور اگر کنٹرول برقرار رہے تو اسے ریگولیٹ کہا جاتا ہے۔
’ڈی ریگولیشن کے بعد عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھیں یا کم ہوں، تو اس کا اثر فوری طور پر مارکیٹ پر نظر آئے گا اور حکومت سبسڈی دینے کے اختیار سے محروم ہو جائے گی۔‘
ڈاکٹر شعیب احمد نے کچھ ممکنہ پیچیدگیوں کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق، پاکستان عالمی مارکیٹ سے پیٹرولیم مصنوعات خریدتا ہے، اور ملک میں پہنچنے میں چار سے آٹھ ہفتے لگ جاتے ہیں۔ اس لیے عالمی قیمت میں فوری اضافے کا اثر فوری طور پر مقامی مارکیٹ پر نہیں ہوتا۔ لیکن حالیہ دنوں میں حکومت نے قیمتیں فوری بڑھائی ہیں، جس کا کمپنیوں کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا۔

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اسلام آباد اور پنجاب میں سرکاری ٹرانسپورٹ سروس مفت ہے (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے خیال میں چاہے ڈی ریگولیشن ہو یا ریگولیشن، صارفین تک فائدہ پہنچنا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں دونوں صورتوں میں فائدہ عوام تک پہنچتے نظر نہیں آ رہا۔ تاہم، وہ ذاتی طور پر قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کو درست آپشن سمجھتے ہیں مگر اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کی تبدیلی کا فوری اثر مقامی مارکیٹ پر نہ آئے۔
اسی طرح، ماہر توانائی اور سابق ممبر گیس اوگرا محمد عارف بھی ڈی ریگولیٹ کے حق میں ہیں لیکن انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت ڈی ریگولیٹ کر کے کمپنیوں کو یہ اختیار دے گی کہ وہ اپنی مرضی سے پیٹرول درآمد کریں، کیونکہ ڈالر کی دستیابی بھی ایک مسئلہ ہے؟
ان کی تجویز کے مطابق، ڈی ریگولیٹ کے لیے حکومت کو آئی ایف ای ایم مارجن اور سبسڈیز ختم کرنا ہوں گی جبکہ پیٹرولیم لیوی کو 30 روپے تک محدود رکھنا ہوگا۔ اگر یہ تین عوامل طے کر دیے جائیں تو قیمتوں کا تعین ایک حد تک ڈی ریگولیٹ ہی ہوگا۔
محمد عارف کے مطابق، صارفین کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈی ریگولیٹ ہونے کے باوجود کمپنیاں ناجائز قیمتیں نہیں بڑھائیں گی اور نگرانی کے لیے کسی حد تک اوگرا اور ضلعی انتظامیہ کا کردار موجود رہے گا۔ تاہم، اس کے نتیجے میں مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا، اور اگرایک کمپنی کی قیمت زیادہ ہو تو صارفین کے پاس  دوسری کمپنی کے پاس جانے کا آپشن ہو گا۔

شیئر: