فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی کوریج پر اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل پر حملہ کی مذمت
جمعہ 31 جولائی 2026 18:34
یہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں چینل کے دفاتر پر دوسرا حملہ ہے (فوٹو: سی پی جے)
فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی کوریج کرنے پر ایک اسرائیلی نشریاتی ادارے پر ہونے والے حملے کی صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم (کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس) نے مذمت کی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق، ایک نقاپ پوش شخص نے پیر کی شام تل ابیب میں چینل 12 نیوز کی عمارت کے شیشے کے دروازے توڑ دیے اور جائے وقوعہ پر ایک تحریری نوٹ چھوڑ گیا جس میں بدنامِ زمانہ سدی تیمان حراستی مرکز میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی رپورٹنگ پر جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی۔
یہ حراستی کیمپ اُس وقت تنازع کا شکار ہوا تھا جب وہاں زیرِ حراست فلسطینیوں کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی اور جسمانی تشدد کی اطلاعات سامنے آئیں۔
بعد ازاں جب اس کیمپ پر تعینات اسرائیلی ریزرو اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا تو ارکانِ پارلیمنٹ اور حکومتی وزرا سمیت لوگوں کے ہجوم نے کیمپ میں گھس کر ان گرفتار اہلکاروں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
پیر کے حملے کی کیمرہ فوٹیج بھی سامنے آ چکی ہے۔ جائے وقوعہ پر چھوڑے گئے ہاتھ سے لکھے گئے نوٹ میں مبینہ طور پر دھمکی دی گئی کہ چینل 12 سدی تیمان کے حوالے سے اپنی رپورٹنگ پر معافی مانگے، ورنہ ’بالآخر کوئی نہ کوئی مارا جائے گا۔‘
یہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں چینل کے دفاتر پر دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل جولائی کے اوائل میں ایک اور نقاب پوش شخص عمارت کے شیشے کے مرکزی دروازے پر دو اینٹیں پھینکنے کے بعد فرار ہو گیا تھا۔
دونوں حملوں کے سلسلے میں اسرائیلی پولیس نے تفتیش شروع کر رکھی ہے تاہم تاحال کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔
سی پی جے کی علاقائی ڈائریکٹر سارا قدہ نے کہا کہ ’ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں چینل 12 پر یہ دوسرا حملہ ہے، اور اس کے ساتھ ہی صحافیوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے، جس سے اسرائیلی میڈیا کے خلاف دباؤ اور خوف پھیلانے کی خطرناک شدت ظاہر ہوتی ہے اور یوں اس حملے کو صرف توڑ پھوڑ کا واقعہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’اسرائیلی حکام کو واضح کرنا ہوگا کہ صحافیوں کو دھمکانے یا ان پر حملہ کرنے والوں کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، اور صحافیوں کے تحفظ اور ان کی آزادانہ رپورٹنگ کے حق کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔‘
اسرائیلی پولیس کے کمشنر ڈینی لیوی نے کہا کہ اس معاملے کو ایک سنگین واقعہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
چینل 12 کے ترجمان نے سی پی جے کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ خطرے کی ایک واضح علامت ہے۔ چینل 12 نیوز کے صحافیوں کا خون سستا نہیں ہے اور ہم قانون سازی، اشتعال انگیزی اور تشدد کے باوجود پسپا نہیں ہوں گے۔‘
