Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ نے اپنے شہریوں کو مشرق وسطیٰ چھوڑنے کی تیاری کی ہدایت کر دی

بیان میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہری احتیاط کریں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ، امریکہ نے اپنے شہریوں کو خطہ چھوڑنے کی تیاری کی ہدایت کر دی
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکہ نے خطے میں موجود اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر حالات مزید خراب ہونے کے خدشے کے باعث خطہ چھوڑنے پر غور کریں یا فوری انخلا کے لیے تیار رہیں۔
امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی سفارت خانوں کی جانب سے اردن کے دارالحکومت عمان، یروشلم اور بغداد میں جاری کیے گیے سکیورٹی الرٹس میں کہا گیا ہے کہ خطے میں تعینات یا موجود امریکی شہری غیرمتوقع صورتحال کے لیے تیار رہیں اور اپنی سفری منصوبہ بندی پر نظر رکھیں۔
بیان میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہری احتیاط کریں کیونکہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور سفری نظام میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے اور پروازوں سے متعلق تازہ معلومات مسلسل حاصل کرتے رہنے کی بھی تلقین کی۔
اردن میں امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امریکی فوجی اڈوں کے قریب جانے سے گریز کریں کیونکہ حالیہ ہفتوں میں ان اڈوں کو ایرانی میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل میں موجود امریکی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے قریب ترین بم شیلٹر کا مقام پہلے سے معلوم رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری پناہ حاصل کی جا سکے۔
یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایرانی حکومت کا طرزِ عمل غیرمتوقع ہے، جیسا کہ حالیہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے، جن میں بغیر پیشگی انتباہ اور بعض ایسے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جنہیں پہلے کبھی ہدف نہیں بنایا گیا تھا، جن میں مصر بھی شامل ہے۔‘
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بدھ کے روز مصر کی ایک بندرگاہ پر لنگر انداز امریکی ملکیت کے گیس بردار جہاز پر ڈرون حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی۔ مصری حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں تاہم اب تک کسی گروہ کو حملے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔
دوسری جانب ایران کی مسلح افواج نے امریکہ پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’جو بھی ملک جارح اور مجرمانہ امریکہ کے دفاعی حصار کا حصہ بنے گا، وہ جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔‘
رواں ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان چند روزہ وقفے کے بعد ایک بار پھر رات کے وقت حملوں کا تبادلہ شروع ہوا، تاہم جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کسی نئے حملے کی اطلاع نہیں ملی۔
مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ جنگ کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے خطے کے مختلف علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملے شروع کیے۔ اس کے بعد سے کشیدگی مسلسل برقرار ہے اور سفارتی کوششوں کے باوجود صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔

شیئر: