Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نایاب تاریخی تصاویر کے ذریعے ’ریاض کے بگ بین‘ کی یاد پھر سے تازہ

بازار کے علاوہ الصفات سکوائر ایک ایسی جگہ بھی تھی جہاں ریاض کے لوگ خوشی کے موقع پر اکٹھے ہوتے (فوٹو: اخبار 24)
ریاض ریجن میونسپلٹی نے الصفات سکوائر کی نایاب تاریخی تصاویر جاری کی ہیں جو اس مقام کی روزمرہ کی زندگی کی ایک جھلک پیش کرتی ہیں جو کبھی سعودی دارالحکومت کی دل کی دھڑکن ہوا کرتا تھا اور یہ تصاویر اس کی مشہور کلاک کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں جسے مقامی زبان میں ’ریاض کا بگ بین‘ کہا جاتا تھا۔
اخبار 24 کے مطابق میونسپلٹی نے ایکس پر بتایا کہ الصفات سکوائر شہر کے وسط میں واقع تھا جس کے قریب قصر العدل (پیلس آف جسٹس)، جامع مسجد اور بڑی مارکیٹیں موجود تھیں۔
اس چوراہے پر واقع ہونے کی وجہ سے اسے ایک اہم عوامی سکوائر کی حیثیت سے ابتدائی شہرت حاصل ہوئی اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ ریاض کے قدیم بازاروں کی شناخت بن گیا۔
صبح کے سورج کی پہلی کرن کے وقت اونٹوں کے قافلے اس سکوائر پر آ جاتے، اونٹ وہاں آرام کرنے کے لیے بیٹھ جاتے اور دن کی تجارت کے لیے ریاض کے بازار کھل جاتے جہاں گھوڑے بیچے جاتے، اسلحے کا تبادلہ ہوتا اور خرید و فروخت کی گہما گہمی عروج پر ہوتی۔
بازار کے علاوہ الصفات سکوائر ایک ایسی جگہ بھی تھی جہاں ریاض کے لوگ خوشی کے موقع پر اکٹھے ہوتے اور اپنی روزمرہ کی زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتیں شیئر کرتے جس کے باعث یہ جگہ اس شہر اور اس کے باسیوں کے لیے ایک اجتماعی یادگار کے طور پر محفوظ ہوگئی۔

الصفات سکوائر شہر کے وسط میں واقع تھا (فوٹو: اخبار 24)

سنہ 1966 میں اس سکوائر کو ایک نئی پہچان ملی جو کہ الصفات کلاک تھی۔ یہ پورے سعودی عرب اور خلیج میں بولنے والی پہلی گھڑی تھی جو چار لاؤڈسپیکر کے ساتھ لگائی گئی جس کی آواز لگ بھگ دو کلومیٹر تک جاتی تھی اور کچھ ہی وقت میں یہ ریاض کی سب سے زیادہ پہچان والی جگہ بن گئی۔
میونسپلٹی کا کہنا ہے کہ یہ سکوائر شہر کی تاریخ اور اس کی ترقی کا جیتا جاگتا گواہ ہے۔ یہ ماضی اور حال کے درمیان ایک پُل کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ ایک ایسی جگہ ہے جو ریاض کی یاداشت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔

 

شیئر: