امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ایران پر نئے حملوں کا فیصلہ اتحادیوں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے کہنے پر مؤخر کیا۔
خبر رساں اداروں ایسوسی ایٹڈ پریس اور اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’فوجیں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے حملے کے لیے مکمل طور پر تیار تھیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت اہم خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت اور ایرانی حکام کی درخواست کے بعد اس منصوبے کو منسوخ کر دیا تاکہ سفارت کاری اور مذاکرات کو ایک اور موقع مل سکے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے نیوجرسی میں ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے کہا کہ آپ کیا کہتے ہیں کہ ہم یہ حملہ کریں یا نہ کریں، جس پر انہوں نے کہا ہم حملے کے بجائے کسی معاہدے کو ترجیح دیں گے کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ ایسے حملے حالات کو کس سمت میں لے جا سکتے ہیں۔‘
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر ٹرمپ کے درمیان سنیچر کو بات ہوئی تھی، اس کے بعد امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک جنگ ختم کے معاہدے کے ’بنیادی خدوخال‘ تک پہنچ گئے ہیں۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے ایران پر نئے حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی حل تلاش کیا جا سکے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات کا سلسلہ پیر سے شروع ہو گا۔
علاوہ ازیں ایران پر حملے موخر کرنے کے اعلان کے بعد پیر کو تیل کی قیمتیں فی بیرل 4 ڈالر تک گر گئیں۔

صدر ڈونلد ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک فوری معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں جس کے ذریعے تہران کے جوہری پروگرام کو روکا جا سکے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولا جا سکے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دو اگست کو صدر ٹرمپ نے امریکی افواج کو ایران کے خلاف نئے حملے فی الحال روکنے کا حکم دیا تھا تاکہ چھٹے مہینے میں داخل ہونے والی جنگ کے خاتمے اور معاہدے کی طرف بڑھا جا سکے۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ عمان کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچ گیا ہے جو آبنائے ہرمز میں ایک نئے راستے سے متعلق ہے۔
اتوار کو بھی آبنائے ہرمز کے قریب ایک بحری جہاز میں دھماکے کی اطلاع سامنے آئی جس سے اس اہم اور سٹریٹیجک گزرگاہ کے بارے میں غیر یقینی کی صورت حال مزید نمایاں ہوئی۔
واشنگٹن اور تہران 28 فروری سے حالت جنگ میں ہیں جو اس وقت شروع ہوئی تھی جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا تھا جبکہ کئی ماہ سے جاری سفارت کاری کی وجہ سے کچھ عرصہ حالات نسبتاً پُرسکون رہے۔

پچھلے مہینے دوبارہ حملے شروع ہونے کے بعد یہ خدشات بڑھ گئے تھے کہ جنگ پھر سے شدت اختیار کر سکتی ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے ایران کو ’بہت سختی سے نشانہ‘ بنانے کی دھمکی دی تھی اور ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ وہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ سمیت دیگر نئے حملوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔
اس دوران خطے میں موجود امریکی سفارت خانوں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا تھا۔
تاہم سنیچر کو صدر ٹرمپ نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ ’ایک معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے بنیادی خدوخال موجود ہیں۔‘
اتوار کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اب ہم ایران کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں جو کل دوپہر سے شروع ہوں گے۔‘
تاہم انہوں نے مذاکرات کے مقام کے بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ جبکہ ان میں شامل ہونے والے ممالک کے حوالے سے بھی تفصیل فراہم نہیں کی۔

صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کہا کہ ایران کے علاوہ امریکی اتحادی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی ان سے حملے مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
ان کے مطابق ’اگر حملہ کیا جاتا تو وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہوتا۔‘
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ سے حملے روکنے کے لیے نہیں کہا گیا۔
جنگ بندی کے حوالے سے چند ماہ قبل ہونے والا ایک معاہدہ ناکام ہو گیا تھا جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل تھا، اس کے بعد سے ایران نے آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔












