Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے ساتھ نئے مذاکرات کا آغاز آج، حملے مؤخر کرنے کے بعد صدر ٹرمپ کا اعلان

اتوار کو بھی آبنائے ہرمز قریب ایک بحری جہاز میں دھماکے کی اطلاع سامنے آئی (فوٹو: روئٹرز)
ایران پر حملوں کا سلسلہ روکنے کے فیصلے کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ نئے مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دو اگست کو صدر ٹرمپ نے امریکی افواج کو ایران کے خلاف نئے حملے فی الحال روکنے کا حکم دیا تھا تاکہ چھٹے مہینے میں داخل ہونے والی جنگ کے خاتمے اور معاہدے کی طرف بڑھا جا سکے۔
 اتوار کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز اور ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا احاطہ ہو گا۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ عمان کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچ گیا ہے جو آبنائے ہرمز میں ایک نئے راستے سے متعلق ہے۔
اتوار کو بھی آبنائے ہرمز کے قریب ایک بحری جہاز میں دھماکے کی اطلاع سامنے آئی جس سے اس اہم اور سٹریٹیجک گزرگاہ کے بارے میں غیر یقینی کی صورت حال مزید نمایاں ہوئی۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے نئے مذاکرات کے اعلان کے بعد پیر کو ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 4.7 فیصد گر کر 80.72 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
واشنگٹن اور تہران 28 فروری سے حالت جنگ میں ہیں جو اس وقت شروع ہوئی تھی جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا تھا جبکہ کئی ماہ سے جاری سفارت کاری کی وجہ سے کچھ عرصہ حالات نسبتاً پُرسکون رہے۔
پچھلے مہینے دوبارہ حملے شروع ہونے کے بعد یہ خدشات بڑھ گئے تھے کہ جنگ پھر سے شدت اختیار کر سکتی ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے ایران کو ’بہت سختی سے نشانہ‘ بنانے کی دھمکی دی تھی اور ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ وہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ سمیت دیگر نئے حملوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔
اس دوران خطے میں موجود امریکی سفارت خانوں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا تھا۔
تاہم سنیچر کو صدر ٹرمپ نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ ’ایک معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے بنیادی خدوخال موجود ہیں۔‘
اتوار کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اب ہم ایران کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں جو کل دوپہر سے شروع ہوں گے۔‘
تاہم انہوں نے مذاکرات کے مقام کے بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ جبکہ ان میں شامل ہونے والے ممالک کے حوالے سے بھی تفصیل فراہم نہیں کی۔
صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کہا  کہ ایران کے علاوہ امریکی اتحادی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی ان سے حملے مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
ان کے مطابق ’اگر حملہ کیا جاتا تو وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہوتا۔‘
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ سے حملے روکنے کے لیے نہیں کہا گیا۔
جنگ بندی کے حوالے سے چند ماہ قبل ہونے والا ایک معاہدہ ناکام ہو گیا تھا جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل تھا، اس کے بعد سے ایران نے آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔

شیئر: