افغانستان میزبان اور انڈیا مہمان، دہلی میں ہونے والا ’فرینڈ شپ کپ‘ کیسے انجام پایا؟
افغانستان میزبان اور انڈیا مہمان، دہلی میں ہونے والا ’فرینڈ شپ کپ‘ کیسے انجام پایا؟
پیر 21 ستمبر 2026 15:35
افغانستان نے پہلی بار اپنے ملک سے باہر نئی دہلی میں انڈیا کے خلاف اپنی ہوم سیریز کی میزبانی کی۔(فوٹو:اے ایف پی)
افغانستان نے پہلی بار اپنے ملک سے باہر نئی دہلی میں انڈیا کے خلاف اپنی ہوم سیریز کی میزبانی کی، جہاں ارون جیٹلی سٹیڈیم میں کھیلی گئی تین ٹی20 میچز کی سیریز کو ’فرینڈ شپ کپ‘ کا نام دیا گیا۔
کرک انفو کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ صورت حال اس لحاظ سے منفرد تھی کہ انڈیا اپنے ہی ملک میں ہونے والی سیریز میں میزبان کے بجائے مہمان تھا جبکہ افغانستان نے دہلی کو اپنے ہوم وینیو کے طور پر استعمال کیا۔
ارون جیٹلی سٹیڈیم میں افغانستان کی میزبانی کے آثار بھی نمایاں تھے۔ اندرونی سڑک پر انڈین ترنگے کے علاوہ افغانستان کے تاریخی نشان ’طاقِ ظفر‘ کا کارڈ بورڈ بھی نصب کیا گیا تھا۔
پغمان میں موجود ’طاقِ ظفر‘ افغانستان کی 1919 کی آزادی کی یادگار ہے اور اسے دہلی میں افغانستان کی موجودگی کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا۔
افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) کے مینیجر منہاج الدین رز نے کرک انفو کو بتایا کہ دہلی کو سیریز کے لیے منتخب کرنے کی بنیادی وجہ سٹیڈیم کی گنجائش تھی۔ ان کے مطابق انڈیا کی ٹیم کو دیکھنے کے لیے شائقین کی بڑی تعداد آتی ہے اس لیے چھوٹے وینیوز میں انہیں جگہ دینا مشکل ہوتا۔
ان کے مطابق انڈیا کے دیگر مقامات پر بھی اچھی سہولیات موجود ہیں، تاہم افغانستان سے دہلی کا سفری رابطہ نسبتاً براہ راست اور آسان ہے جبکہ شہر میں افغان کمیونٹی بھی موجود ہے۔
تینوں ٹی20 میچز میں 20 ہزار سے زائد تماشائی سٹیڈیم پہنچے، تاہم انڈیا نے تینوں میچز جیت کر سیریز اپنے نام کی۔
دہلی کا انتخاب کیوں ہوا؟
ڈی ڈی سی اے کے صدر روہن جیٹلی کہتے ہیں کہ دہلی کو منتخب کرنے کی ایک اور وجہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی سفارش تھی اور خاص طور پر 2024 میں گریٹر نوئیڈا میں افغانستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹیسٹ کے دوران پیش آنے والا ایک واقعہ بھی وجہ بنا۔
افغانستان نے اس وقت گریٹر نوئیڈا کے نئے سٹیڈیم میں نیوزی لینڈ کے خلاف واحد ٹیسٹ کی میزبانی کی تھی، تاہم ناکافی ڈرینیج کے باعث بارش کی وجہ سے میچ مکمل طور پر منسوخ ہو گیا اور ایک بھی گیند نہ کھیلی جا سکی۔
اس واقعے کے بعد اے سی بی نے اپنی اہم سیریز کے لیے نئے ہوم وینیو کی تلاش شروع کی اور دہلی اس سلسلے میں سامنے آیا۔
افغانستان اپنے ملک میں سکیورٹی مسائل کے باعث بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی نہیں کر سکتا۔ 2009 میں انٹرنیشنل سٹیٹس حاصل کرنے کے بعد سے متحدہ عرب امارات اور انڈیا اس کے اہم ہوم بیس رہے ہیں۔
افغانستان کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ پانچ سال کا معاہدہ 2027 تک ہے، جبکہ انڈیا میں وہ گریٹر نوئیڈا، لکھنؤ اور دہرادون کے بعد اب دہلی کو بھی ہوم وینیو کے طور پر استعمال کر چکا ہے۔
افغانستان نے 2018 میں بنگلورو میں انڈیا کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ بھی کھیلا تھا۔
2015 میں انڈیا کے ساتھ معاہدہ
افغانستان اور انڈیا کے کرکٹ روابط نئے نہیں ہیں۔ 2015 میں اے سی بی نے بی سی سی آئی کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت افغانستان اپنی ہوم کرکٹ گریٹر نوئیڈا میں منعقد کرتا۔
اس انتظام کا آغاز 2017 میں آئرلینڈ کے وائٹ بال دورے سے ہوا تھا۔ ڈی ڈی سی اے کے لیے بھی افغانستان کی میزبانی کا انتظام آئی پی ایل سے مختلف تھا۔
نئی دہلی میں موجود افغان کمیونٹی بھی اس سیریز کے پس منظر کا ایک اہم حصہ رہی ہے (فائل فوٹو: اے سی بی)
روہن جیٹلی کے مطابق آئی پی ایل میں عام طور پر فرنچائزڈ، کرکٹ بورڈ اور ریاستی کرکٹ ایسوسی ایشن کے درمیان سہ فریقی معاہدہ ہوتا ہے جبکہ اس سیریز میں معاملہ صرف ڈی ڈی سی اے اور اے سی بی کے درمیان تھا۔
ان کے مطابق ’بی سی سی آئی کا براہ راست کوئی کردار نہیں تھا تاہم سٹیڈیم استعمال کرنے کے لیے بی سی سی آئی کی رضامندی حاصل کی گئی تھی۔‘
دہلی کی افغان کمیونٹی
دہلی میں موجود افغان کمیونٹی بھی اس سیریز کے پس منظر کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ جنوبی دہلی کے جنگ پورہ اور لاجپت نگر میں افغان کمیونٹی کی نمایاں موجودگی رہی ہے۔
سنہ 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ اور اس سال کے ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران بھی افغان کمیونٹی کے افراد بڑی تعداد میں سٹیڈیم پہنچے تھے۔
تاہم حالیہ برسوں میں ویزے کی تجدید کے مسائل اور دیگر ممالک میں منتقلی کے باعث نئی دہلی میں افغان آبادی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس لیے اس سیریز کے دوران افغان جرسیوں اور جھنڈوں کی تعداد بھی پہلے کے مقابلے میں کم نظر آئی۔
واٹس ایپ گروپس سے انتظامات
سیریز کے انتظامات کے لیے اے سی بی کے میڈیا اور مارکیٹنگ شعبے کے 10 سے بھی کم حکام دہلی پہنچ سکے۔ ان کی محدود تعداد کی ایک وجہ ڈومیسٹک کرکٹ کی مصروفیات تھی، جبکہ برکس سمٹ کے باعث دہلی کے لیے براہ راست پروازوں کی کمی بھی ایک مسئلہ بنی۔
برکس سمٹ 13 ستمبر کو پہلے ٹی20 کے روز دہلی میں ہورہی تھی۔
روہن جیٹلی کے مطابق براڈکاسٹ اور ٹیلی کاسٹ کے علاوہ سکیورٹی اداروں، دہلی پولیس، مقامی انتظامیہ اور دیگر محکموں کے ساتھ رابطے سمیت تقریباً تمام انتظامی معاملات ڈی ڈی سی اے نے سنبھالے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اے سی بی کے لیے یہ کام مشکل ہو سکتے تھے، جبکہ ڈی ڈی سی اے سال میں کئی مرتبہ ایسے انتظامات کرتا ہے، اس لیے اس نے افغانستان کو ایونٹ کے انعقاد میں مدد فراہم کی۔
پہلے ٹی20 کے دوران برکس سمٹ کے باعث شہر میں سکیورٹی سخت تھی، جس کے تحت سٹیڈیم اور اس کے اطراف میں سکیورٹی کی ذمہ داری انڈین سرحدی سکیورٹی فورس نے سنبھالی، جبکہ باقی دونوں میچز میں مقامی پولیس نے سکیورٹی فراہم کی۔
سیریز کو بڑا ایونٹ بنانے کی کوشش
اے سی بی اس سیریز کو صرف ایک عام ہوم سیریز کے طور پر نہیں بلکہ بڑے ایونٹ کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا، خاص طور پر اس لیے بھی کہ یہ انڈیا میں کسی ٹیسٹ وینیو پر اس کی پہلی سیریز تھی۔
اے سی بی کے مارکیٹنگ اور میڈیا سربراہ اکبر پکتین کے مطابق بورڈ نے ٹی وی براڈکاسٹر، آن لائن سٹریمنگ پلیٹ فارم اور معروف کمنٹیٹرز کو شامل کیا۔
ڈی ڈی سی اے نے سٹیڈیم میں اشتہارات کے انتظام میں بھی مدد کی، جن میں دسمبر میں ہونے والی افغانستان پریمیئر لیگ کی تشہیر شامل تھی۔
دونوں بورڈز کے درمیان آمدنی کی تقسیم کا طریقہ بھی پہلے سے طے کیا گیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پکتین کے مطابق سٹیڈیم میں موجود اشتہارات میں تقریباً 60 فیصد افغان اور 40 فیصد انڈین اشتہاری شامل تھے۔ اشتہارات کے لیے جگہ کی طلب پوری کرنے کی غرض سے ڈی ڈی سی اے نے نیا تین سطحی ماحول دوست ایل ای ڈی سسٹم بھی متعارف کرایا۔
دونوں بورڈز کے درمیان آمدنی کی تقسیم کا طریقہ بھی پہلے سے طے کیا گیا تھا۔ روہن جیٹلی کے مطابق آپریشنل اخراجات اور میزبانی کی فیس نکالنے کے بعد باقی آمدنی اے سی بی کو منتقل کی گئی۔
فرینڈ شپ کپ اور ٹرافی فوٹو شوٹ
16 ستمبر کو آخری ٹی20 سے ایک روز قبل دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور کوچنگ سٹاف کے ساتھ بی سی سی آئی، ڈی ڈی سی اے اور اے سی بی کے حکام نے وسطی دہلی کے ایک ہوٹل میں میڈیا ڈنر میں شرکت کی۔
فرینڈ شپ کپ کو دونوں کرکٹ بورڈز اور وسیع تر طور پر دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا گیا۔
سیریز شروع ہونے سے ایک روز قبل اے سی بی نے ٹرافی فوٹو شوٹ بھی کرایا، جو عام طور پر انڈیا کی ہوم سیریز کے دوران بی سی سی آئی کے معمول کے پروگرام کا حصہ نہیں ہوتا۔
انڈین کپتان شریاس ایئر اور افغان کپتان ابراہیم زدران مکمل کِٹ میں ٹرافی کے ساتھ تصاویر کے لیے موجود تھے اور دونوں ’طاقِ ظفر‘ کے کٹ آؤٹ کے نیچے کھڑے ہوئے۔
منہاج الدین رز کا کہنا ہے کہ بڑے ایونٹس میں معمول کے انتظامی اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، تاہم اہم بات ایونٹ کو کامیابی سے مکمل کرنا ہے۔ ان کے مطابق کرکٹ کے نتیجے کو ایک طرف رکھا جائے تو ٹورنامنٹ کے انتظامات بخوبی مکمل ہوئے اور اگر افغانستان کو دہلی میں مزید میچز کی میزبانی کا موقع ملا تو وہ اس کے لیے خوش ہوں گے۔
دہلی میں افغانستان کی ہوم سیریز کی میزبانی اور ڈی ڈی سی اے کی جانب سے انتظامات میں مدد افغانستان کے لیے مستقبل میں انڈیا کے دارالحکومت میں مزید بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی کی بنیاد بن سکتی ہے۔