خطے کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال، وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر
خطے کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال، وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر
پیر 21 ستمبر 2026 15:25
باقر قالیباف نے کہا کہ ’ہمارے پیغامات اور شرائط کی وضاحت ثالثوں کے ذریعے دوسرے فریق تک واضح طور پر پہنچا دی گئی ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی پیر کو تہران پہنچے تاکہ ایرانی قیادت کے ساتھ خطے کی صورتحال پر بات چیت کی جا سکے۔
پاکستانی حکام نے پیر کو عرب نیوز کو بتایا کہ محسن نقوی ایک بار پھر دو روزہ دورے پر تہران گئے ہیں تاکہ اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقات کریں۔
وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’وہ ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے تاکہ خطے کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کی جا سکے۔‘
پاکستانی وزارتِ داخلہ کی جانب سے میڈیا کو جاری کردہ ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ نقوی تہران پہنچے اور ان کا استقبال ان کے ایرانی ہم منصب سکندر مومنی نے کیا۔ ویڈیو میں دونوں وزرا کو وفد کی سطح کی بات چیت کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔
یہ پیش رفت ایک دن بعد سامنے آئی جب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار نے کہا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط پہنچا دی ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ’ہمارے پیغامات اور شرائط کی وضاحت ثالثوں کے ذریعے دوسرے فریق تک واضح طور پر پہنچا دی گئی ہے، جب تک شرائط پوری نہیں ہوتیں اور امریکہ اپنے وعدے پورے نہیں کرتا، مذاکرات سے پہلے کی صورتحال اور کھلی آبنائے ہرمز کی طرف واپسی ناممکن ہے۔‘
امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ اور کشیدگی کی وجہ سے بات چیت جمود کا شکار ہے، جنگ کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز پر گرفت مضبوط کر لی ہے، جو دنیا کے تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جبکہ واشنگٹن ایران کی بندرگاہوں اور معیشت کو دبانے کی مہم چلا رہا ہے۔
پاکستان نے بارہا امریکہ اور ایران کو عبوری معاہدے کی طرف واپس جانے پر زور دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران نے ان حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ شہری اور اقتصادی مفادات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
پاکستان امریکہ-ایران جنگ میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ اسلام آباد نے دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کی اور جون میں ایک عبوری امن معاہدہ کرانے میں مدد کی۔ تاہم یہ معاہدہ جلد ہی ٹوٹ گیا اور دونوں فریقین نے مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ ایک دوسرے پر حملے شروع کر دیے۔
پاکستان نے بارہا امریکہ اور ایران کو عبوری معاہدے کی طرف واپس جانے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ مکالمہ اور سفارت کاری ہی کئی ماہ سے جاری اس تنازع کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔