اسرائیلی قید میں تشدد ہوتا ہے، صحت کی سہولیات بھی نہیں، فلسطین کے ’غریبوں کے ڈاکٹر‘ مارن رنتیسی کے الزامات
’غریبوں کا ڈاکٹر‘ کے نام سے مشہور فلسطین کے ڈاکٹر مازن رنتیسی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی اوفر جیل میں قید کے دوران انہیں طبی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اسرائیلی اخبار ہاریٹز کی ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر رنتیسی نے بتایا کہ انہیں غیر انسانی حالات میں رکھا گیا اور جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
ڈاکٹر مازن رنتیسی کم آمدنی والے فلسطینیوں کا اکثر مفت علاج کرتے ہیں۔ انہیں رواں برس 21 جون کو اُن کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر یونین آف ہیلتھ ورک کمیٹیز کے بورڈ کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دینے کا الزام عائد کیا گیا۔
یونین آف ہیلتھ ورک کمیٹیز ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو ہر سال ہزاروں فلسطینیوں کو طبی خدمات فراہم کرتا ہے۔
اسرائیل میں تشدد کے خلاف سرگرم تنظیم پبلک کمیٹی اگینسٹ ٹارچر اِن اسرائیل کے ایک وکیل کو دی گئی گواہی میں ڈاکٹر رنتیسی کا کہنا تھا کہ اوفر جیل میں قید کے ابتدائی 10 روز تک جیل انتظامیہ نے انہیں معمول کی ادویات فراہم نہیں کیں، اور تاحال اُن کی تجویز کردہ ایک بھی دوا فراہم نہیں کی جا رہی۔
ڈاکٹر مازن رنتیسی کے مطابق انہوں نے متعدد بار ڈاکٹر سے ملنے کی درخواستیں کی جنہیں نظر انداز کردیا گیا اور صرف ایک مرتبہ ایک طبی اہلکار نے کوٹھڑی کے دروازے سے ان کی نبض چیک کی۔
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ جیل میں موجود اسرائیلی اہلکار قیدیوں پر تشدد کرتے ہیں۔ اہلکار ہفتے میں کئی بار ان کی کوٹھڑی پر دھاوا بولتے اور قیدیوں کو مارتے پیٹتے تھے۔
ڈاکٹر رنتیسی کا کہنا تھا کہ کم عمر فلسطینی قیدی انہیں بچانے کے لیے اُن کے گرد حصار بنا لیتے ہیں اور خود مار کھاتے ہیں۔ ایک چھاپے کے دوران اہلکاروں نے کوٹھڑی میں آنسو گیس بھی چھوڑ دی جس سے انہیں سانس لینے میں شدید مشکل پیش آئی۔
ڈاکٹر مازن رنتیسی کی گرفتاری کے بعد ان سے پہلی بار بالمشافہ ملاقات کرنے والی وکیل سجا مشرقی بارانسہ نے ہاریٹز کو بتایا کہ قید کے دوران ان کے وزن میں بھی کافی کمی ہو گئی ہے۔
ڈاکٹر رنتیسی نے بتایا کہ انہیں بہت کم مقدار میں اور غیر صحت بخش کھانا دیا جاتا ہے جس میں میں پھپھوندی لگی روٹی، سڑے ہوئے ٹماٹر اور بدبودار چاول شامل ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چھ بستروں والی کوٹھڑی میں 10 قیدی رکھے گئے ہیں، جس کی وجہ سے چار قیدی باری باری فرش پر بچھے گدوں پر سوتے ہیں۔
’صفائی سُتھرائی کی صورتِ حال انتہائی ناقص ہے، قیدیوں کو صفائی کا کوئی سامان فراہم نہیں کیا جاتا اور نہانے اور کپڑے دھونے کے لیے سب کو مشترکہ طور پر صابن کی صرف ایک ٹکیہ فراہم کی جاتی ہے۔‘
ڈاکٹر رنتیسی نے الزام لگایا کہ جیل اہلکار قیدیوں کو فرہم کیے گئے گدوں پر پانی ڈال دیتے ہیں، جس سے اُن پر پھپھوندی لگ جاتی ہے۔ گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی کوٹھڑی پِسوؤں اور دیگر کیڑے مکوڑوں سے بھی بھری ہوئی ہے۔
اسرائیلی جیل سروس نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیدیوں کو اسرائیلی قانون کے مطابق رکھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر رنتیسی کے الزامات دیگر فلسطینی قیدیوں کی شکایات سے مِلتے جُلتے ہیں۔ گذشتہ برس اسرائیل کے پبلک ڈیفنڈر آفس کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ جیلوں کے حالات میں نمایاں بگاڑ آیا ہے اور زیرِ حراست قیدیوں کے حقوق کی غیر معمولی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
