بچہ سکول جانے سے انکار کرے تو ڈانٹنے کے بجائے کیا کرنا چاہیے؟
بچہ سکول جانے سے انکار کرے تو ڈانٹنے کے بجائے کیا کرنا چاہیے؟
بدھ 12 اگست 2026 6:21
بہت سے سکول بچوں کو کھیلنے کے لیے بھی مناسب وقت نہیں دیتے۔ (فوٹو: بشکریہ سی این این)
اگر آپ کا بچہ سکول جانے سے گریز کر رہا ہے تو اسے ڈانٹنے یا اس پر چیخنے کے بجائے ایسے اقدامات کریں جو اسے دوبارہ سکول جانے اور معمولات زندگی پر واپس آنے میں مدد دے سکیں۔
بچوں کے سکول دوبارہ کھل گئے ہیں یا کھلنے والے ہیں، لیکن اگر وہ سکول جانے کے لیے تیار نہیں تو کیا کیا جائے؟ اگر آپ بھی ایسی صورتحال سے دوچار ہیں تو یہ جاننا مفید ہوگا کہ یہ مسئلہ آپ کے خیال سے کہیں زیادہ عام ہے۔
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق، نیوجرسی کے شہر ماہوا میں قائم ’ سکول اوائیڈنس الائنس‘ کی بانی اور چیف ایگزیکٹو جین ڈیمسکی کہتی ہیں، ’میں روزانہ اساتذہ سے بات کرتی ہوں اور وہ مسلسل بتاتے ہیں کہ یہ مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے۔‘
ڈیمسکی کے مطابق اب پہلے سے کہیں زیادہ والدین بھی ان کے آن لائن سپورٹ گروپس میں شامل ہو رہے ہیں۔
سکرین ٹائم بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے
گرمیوں کی چھٹیوں میں بچوں کے پاس سکرین استعمال کرنے کے لیے زیادہ وقت ہوتا ہے۔ بہت سی ایپس اس طرح ڈیزائن کی گئی ہیں کہ صارفین ان کے عادی ہو جائیں۔ یہ ایپس بچوں کو مسلسل مصروف رکھتی ہیں اور ویڈیو گیمز میں لائکس یا پوائنٹس کی صورت میں انہیں بار بار ’ڈوپامین‘ کا احساس فراہم کرتی ہیں، جبکہ اس کے لیے عموماً بہت کم محنت درکار ہوتی ہے۔
ایسے میں یہ حیرت کی بات نہیں کہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے صبح سویرے اٹھنا، تیار ہونا اور کلاس روم میں بیٹھنا مشکل محسوس ہو، جہاں انہیں مسلسل تفریح یا انعامات کے بغیر مشکل کام کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔
والدین اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ان کے بچے سکول میں زیادہ تر وقت بیٹھے رہتے ہیں، حالانکہ صحت مند رہنے کے لیے انسان کو دن بھر جسمانی سرگرمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سکول میں بچوں کو عموماً باہر وقت گزارنے کا موقع بھی کم ملتا ہے، حالانکہ صحت کے لیے یہ بھی ضروری ہے۔
بہت سے سکول بچوں کو کھیلنے کے لیے بھی مناسب وقت نہیں دیتے، حالانکہ پرائمری سکول کی عمر کے بچوں کے سیکھنے کے اہم ذرائع میں کھیل بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے سکولوں میں بچے سکرین کے سامنے بھی خاصا وقت گزارتے ہیں، حالانکہ طویل عرصے تک سکرین دیکھنا ذہنی دباؤ اور تھکن کا باعث بن سکتا ہے۔
بہت سے بچے خود بھی محسوس کرتے ہیں کہ یہ صورتحال مثالی نہیں۔ ڈیمسکی کے مطابق سکول سے گریز کرنے والے بچے اکثر انتہائی ذہین ہوتے ہیں۔
اگر بچہ سکول جانے پر آمادہ نہ ہو تو کیا کریں؟
اگر کوئی بچہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران دن کا بیشتر حصہ ڈیجیٹل ڈیوائس پر گزارتا ہے تو سکول کے پہلے ہی دن اسے سکرین سے مکمل طور پر دور کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
ڈیمسکی کے مطابق، جو بچے سکول جانے سے گریز کرتے ہیں وہ اکثر رات بھر جاگتے اور دن میں سوتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اس کے بجائے سکول کھلنے سے پہلے ہی بتدریج اس کا سکرین ٹائم کم کرنا شروع کریں۔ اسے تفریح کے لیے دوسری سرگرمیاں فراہم کریں اور سکرین کے استعمال کے لیے مناسب حدود مقرر کریں۔
یہ بھی یقینی بنائیں کہ آپ کا بچہ مناسب وقت پر سوئے تاکہ وہ سکول کے لیے صبح بروقت اٹھنے کا عادی ہو جائے۔ کوشش کریں کہ وہ اپنے موبائل فون کے ساتھ ایک ہی کمرے میں نہ سوئے۔
ڈیمسکی کے مطابق، جو بچے سکول جانے سے گریز کرتے ہیں وہ اکثر رات بھر جاگتے اور دن میں سوتے ہیں تاکہ سکول نہ جانے کی وجہ سے پیدا ہونے والے احساسِ جرم سے بچ سکیں۔
انہوں نے کہا، ’زیادہ تر بچے جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتے، یہ قدرتی طور پر ہونے لگتا ہے۔‘
موبائل فون کی توجہ ہٹانے والی موجودگی ختم کرنے سے بچے کے لیے سونا بہت آسان ہو سکتا ہے۔
سکول کے دوستوں اور اساتذہ سے مضبوط تعلقات بنائیں
ڈیمسکی کے مطابق، ’اپنے ساتھیوں، اساتذہ اور سکول میں موجود دوسرے افراد کے ساتھ تعلق اور رابطہ ان عوامل میں شامل ہے جو بچوں کو سکول میں رہنے میں مدد دیتے ہیں۔‘
سکول کھلنے سے پہلے ہی بتدریج اس کا سکرین ٹائم کم کرنا شروع کریں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے کہا کہ ایسے بچے جن کے سکول میں بڑوں کے ساتھ مضبوط تعلقات نہیں ہوتے، وہ عموماً نظم و ضبط میں خلل نہیں ڈالتے اور بعض اوقات ان پر کسی کی توجہ بھی نہیں جاتی۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا بچہ بھی اس صورتحال سے گزر رہا ہے تو اس کے استاد اور سکول کے پرنسپل سے کہیں کہ وہ بچے کے ساتھ انفرادی طور پر ملاقات کریں تاکہ اسے بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
یہ بھی یقینی بنائیں کہ آپ کا بچہ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لے اور اسے دوستوں کے ساتھ غیر رسمی طور پر وقت گزارنے کا موقع ملے۔ یہ دونوں اقدامات ہم جماعتوں کے ساتھ اس کے تعلقات مضبوط بنانے میں مدد کریں گے۔
سمارٹ فون کے بغیر دوستوں سے رابطہ کیسے برقرار رکھا جائے؟
اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچہ سمارٹ فون کے بغیر بھی اپنے دوستوں سے رابطے میں رہے تو لینڈ لائن فون، سمارٹ واچ یا ایسا سادہ موبائل فون استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے کال اور ٹیکسٹ میسج کی سہولت موجود ہو، لیکن انٹرنیٹ یا ایپس کو مسلسل سکرول کرنے کی سہولت نہ ہو۔