Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور اَمرود کھائیے اور بیماریوں کو دور بھگائیے

اَمرود میں متعدد ایسے غذائی اجزا پائے جاتے ہیں جو صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
اَمرود کا شمار اُن پھلوں میں کیا جاتا ہے جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جبکہ بیریز، کیوی اور دیگر درآمد شدہ پھل زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں۔ لیکن یہ سادہ سا پھل غذائیت سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ جیب پر بھی زیادہ بھاری نہیں پڑتا۔
این ڈی ٹی وی میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق، اَمرود کو وٹامن سی اور فائبر سے لے کر پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس کے حصول کے لیے روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا آسان ہے۔ اِسے عام پھلوں کی طرح کھایا بھی جا سکتا ہے، فروٹ باؤل میں شامل کیا جا سکتا ہے یا چٹکی بھر نمک اور لال مرچ کے ساتھ بھی لُطف اُٹھایا جا سکتا ہے۔
لائف سٹائل کوچ لوک کاؤٹنہو نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں اَمرود کی غذائی اہمیت اجاگر کی ہے۔ اُن کے مطابق اِس پھل میں متعدد ایسے غذائی اجزا پائے جاتے ہیں جو صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
اَمرود وٹامن سی سے بھرپور
لوک کاؤٹنہو کے مطابق تقریباً 100 گرام اَمرود میں لگ بھگ 228 ملی گرام وٹامن سی پایا جاتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ کسی اور پھل میں موجود وٹامن سی کے مقابلے میں یہ مقدار کئی گنا زیادہ ہے۔ وٹامن سی جسم کے معمول کے مدافعتی نظام کو بہتر طور پر کام کرنے میں مدد دیتا ہے اور اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔
اَمرود فائبر سے بھرپور
لائف سٹائل کوچ کے مطابق 100 گرام اَمرود میں تقریباً 5 گرام فائبر ہوتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ فائبر آنتوں کی باقاعدہ حرکت، نظامِ ہاضمہ کی صحت اور پیٹ بھرنے کے احساس میں مدد دے سکتا ہے۔ فائبر کولیسٹرول اور خون میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
آئرن جذب کرنے میں مددگار
وٹامن سی جسم کو ’نان ہیم آئرن‘ جذب کرنے میں بھی مدد دیتا ہے، جو بنیادی طور پر پودوں سے حاصل ہونے والی غذاؤں میں پایا جاتا ہے۔ لوک کاؤٹنہو کے مطابق یہ امتزاج اُن افراد کے لیے خاص طور پر مفید ہو سکتا ہے جو زیادہ تر سبزیوں پر مشتمل خوراک استعمال کرتے ہیں۔
پوٹاشیم اور فولیٹ
اَمرود میں پوٹاشیم بھی پایا جاتا ہے، جو صحت مند بلڈ پریشر، پٹھوں کے افعال اور دل کی صحت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اَمرود میں فولیٹ بھی موجود ہوتا ہے، جو ڈی این اے کی تیاری، خلیوں کی تقسیم اور خون کے سرخ خلیوں کی معمول کے مطابق تشکیل کے لیے ایک ضروری غذائی جزو ہے۔
گلابی اَمرود کی افادیت
لوک کاؤٹنہو نے گلابی اَمرود کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اس کا رنگ لائکوپین نامی اینٹی آکسیڈنٹ کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے، جو عام طور پر ٹماٹروں میں بھی پایا جاتا ہے۔ اُن کے مطابق لائکوپین پروسٹیٹ، جلد اور بالوں کی صحت کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔

اَمرود کو وٹامن سی اور فائبر سے لے کر پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس کے حصول کے لیے روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا آسان ہے (فوٹو: اے بی سی فروٹس)

کیا ذیابیطس کے مریض اَمرود کھا سکتے ہیں؟
لوک کاؤٹنہو کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو لازماً اَمرود سے پرہیز کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ اس میں موجود فائبر اور پانی کی مقدار کی طرف توجہ دلاتے ہیں، تاہم ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کھانے کی مقدار اہم ہے۔
ماہر امراضِ خوراک نے اَمرود کا جوس پینے کی بجائے پورا پھل کھانے کا مشورہ دیا ہے تاکہ اس میں موجود فائبر برقرار رہے۔
لوک کاؤٹنہو نے کہا کہ ’سادہ سے دکھائی دینے والے پھل امرود کو مت بھولیں۔ یہ ایک مقامی، سستا، فائبر اور وٹامن سی سے بھرپور پھل ہے۔‘

شیئر: