Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایئر کنڈیشنر نہیں ہے تو کوئی مسئلہ نہیں، آپ ان طریقوں پر عمل کر کے خود کو ٹھنڈا رکھ سکتے ہیں

آپ کو جب گرمی لگ رہی ہو تو سب سے پہلا اور اہم قدم خود کو ہائیڈریٹ رکھنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
آپ کے پاس چاہے بجلی کی سہوت نہ ہو، شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہوں یا اخراجات بچانا چاہتے ہوں، تو ایسی صورت میں مصنوعی ٹھنڈک کے بغیر بھی آرام دہ رہنے کے کئی طریقے موجود ہیں۔
گرمی موسمِ گرما کی خوش گوار سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے، لیکن جسم کا زیادہ دیر تک بہت زیادہ گرم رہنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے مطابق، ضرورت سے زیادہ گرمی دماغ اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ پسینہ آنا جسم کو ٹھنڈا کرنے کا قدرتی نظام ہے، لیکن جب یہ کافی نہ ہو تو ’ہائپر تھرمیا‘ جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس کی علامات میں ہیٹ کریمپس (پٹھوں میں کھنچاؤ)، ہیٹ ایڈیما (سوجن) اور ہیٹ سٹروک شامل ہیں۔ زیادہ نمی کے ساتھ گرمی اس خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہے، کیونکہ ہوا میں نمی کی زیادتی پسینے کو جلد پر جمع رکھتی ہے اور جسم کو قدرتی طور پر ٹھنڈا ہونے سے روکتی ہے۔
کچھ بنیادی چیزوں کے استعمال اور گھر کے درجۂ حرارت کو کنٹرول کرنے کے طریقے جان کر آپ بھی خود کو ٹھنڈا رکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے ذیل میں 14 طریقے پیش کیے جا رہے ہیں:
پانی کی کمی نہ ہونے دیں
فلوریڈا یونیورسٹی کے زرعی و حیاتیاتی انجینئرنگ کے سینئر لیکچرر ڈاکٹر وینڈل پورٹر کے مطابق آپ کو جب گرمی لگ رہی ہو اور جسم گرم ہو رہا ہو تو سب سے پہلا اور اہم قدم خود کو ہائیڈریٹ رکھنا ہے۔
ان کے مطابق پانی کا درجۂ حرارت اہم نہیں، کیونکہ جسم خود اسے گرم کر لیتا ہے۔ جسم اگر گرمی سے متاثر ہو رہا ہو اور خود کو ٹھنڈا کرنا چاہے تو اسے مناسب نمی درکار ہوتی ہے، کیونکہ جسم پسینے کے ذریعے ہی ٹھنڈا ہوتا ہے۔
ٹھنڈے پانی سے نہائیں
ٹھنڈے پانی سے نہانا یا شاور لینا جسم کے اندرونی درجۂ حرارت کو کم کر کے آپ کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

روایتی بلب ایل ای ڈی بلب کے مقابلے میں زیادہ گرمی پیدا کرتے ہیں چنانچہ گھر میں توانائی بچانے والے بلب لگائیں (فوٹو: شٹر سٹاک)

مزید ٹھنڈک کے لیے پودینے والا صابن استعمال کریں، کیونکہ اس میں موجود مینتھول دماغ کے اُن حصوں کو متحرک کرتا ہے جو جسم کو ٹھنڈک کا احساس دلاتے ہیں۔
گردن یا کلائیوں پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں
اپنی کلائیوں پر ٹھنڈی پٹی یا برف کی تھیلی رکھیں یا اسے گردن کے گرد لپیٹ لیں۔ یہ جسم کے ایسے حصے ہیں جہاں خون کی نالیاں جلد کے قریب ہوتی ہیں، اس لیے یہاں ٹھنڈک جلد اثر دکھاتی ہے۔
پنکھوں کا استعمال کریں
کھڑکیوں کے سامنے پنکھے اس طرح رکھیں کہ وہ کمرے کی گرم ہوا باہر نکالیں اور اندر ٹھنڈی ہوا آنے دیں۔
آپ کے علاقے میں اگر صبح اور شام کا درجۂ حرارت 50 سے 70 فارن ہائیٹ کے درمیان رہتا ہے تو گھر کے دونوں طرف کی کھڑکیاں کھول کر ہوا کا گزر ممکن بنائیں۔ اس سے قدرتی ہوا گرم ہوا کو باہر نکال کر ٹھنڈک پیدا کرتی ہے۔ البتہ سورج نکلتے ہی کھڑکیاں بند کر دیں اور موسم ٹھنڈا ہونے پر دوبارہ کھولیں۔
صرف پنکھے کے قریب بیٹھنا بھی جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
پردے یا بلائنڈز بند رکھیں
آپ کے گھر کی کھڑکیوں سے اگر صبح سے دوپہر تک سورج کی روشنی براہِ راست اندر آتی ہے تو پردے یا بلائنڈز بند رکھیں تاکہ دھوپ اندر آ کر گھر کو گرم نہ کرے۔
آپ بلیک آؤٹ پردے بھی لگا سکتے ہیں جو کمرے کو بہتر طور پر بند رکھتے ہیں اور دن کے وقت درجۂ حرارت بڑھنے سے روکتے ہیں۔
صحت مند اور دیرپا عمارتوں میں مدد کرنے والی آسٹریلوی تحقیقی کمپنی کی بانی سامنتھا ہال کہتی ہیں کہ آپ اگر ایئر کنڈیشنر استعمال کریں تو اسے 70 فارن ہائیٹ سے کم پر نہ رکھیں، کیونکہ اس سے کمرہ جلدی ٹھنڈا نہیں ہوتا بلکہ مشین زیادہ دیر چلتی رہتی ہے اور بعد میں درجۂ حرارت متوازن رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ درجۂ حرارت اس قدر ہی رکھیں جو آرام دہ ہو۔
ہوا دار بستر استعمال کریں
کاٹن کا کپڑا ہوا کو آسانی سے گزرنے دیتا ہے، اس لیے کاٹن کی چادریں یا کمبل رات کے وقت آپ کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

آئس کریم کھانے سے ٹھنڈک کا احساس ہو سکتا ہے، لیکن اگر آپ شدید گرمی محسوس کر رہے ہوں تو زیادہ چینی استعمال نہ کریں (فوٹو: شٹرسٹاک)

ڈاکٹر وینڈل پورٹر کے مطابق، کپڑے میں دھاگا جس قدر کم ہو گا، وہ اس قدر زیادہ ہوا دار ہوگا، کیونکہ زیادہ دھاگوں والے کپڑے میں بُنائی زیادہ گھنی ہوتی ہے۔
بیسمنٹ میں سوئیں
آپ اگر گرمی کی وجہ سے رات بھر سو نہیں پاتے تو ممکن ہو تو اپنے بیڈروم کی بجائے کسی اور جگہ سونے کی کوشش کریں۔ گرم ہوا چونکہ اوپر کی طرف اُٹھتی ہے، اس لیے اگر آپ کے گھر میں بیسمنٹ موجود ہو تو وہاں عارضی طور پر سونے کا انتظام کریں تاکہ رات کو نسبتاً ٹھنڈا ماحول مل سکے۔
کمبل یا کپڑے فریج یا فریزر میں نہ رکھیں
ایئر کنڈیشنر کے بغیر ٹھنڈا رہنے کے لیے عام مشورہ یہ دیا جاتا ہے کہ گیلی جرابیں، کمبل یا کپڑے فریج یا فریزر میں رکھ کر نچوڑ لیں اور سوتے وقت استعمال کریں، لیکن ڈاکٹر وینڈل پورٹر کے مطابق یہ اچھا خیال نہیں ہے۔

آپ کے گھر کی کھڑکیوں سے اگر صبح سے دوپہر تک سورج کی روشنی براہِ راست اندر آتی ہے تو پردے یا بلائنڈز بند رکھیں (فوٹو: شٹرسٹاک)

ان کے مطابق، یہ چیزیں چند منٹوں میں ہی جسم کی حرارت جذب کر کے گرم ہو جاتی ہیں، اور پھر آپ کے پاس صرف گیلی چیزیں رہ جاتی ہیں جو گدے میں پھپھوندی پیدا کر سکتی ہیں۔ اس لیے ایسا ہرگز نہ کریں۔
غیر استعمال شدہ کمروں کے دروازے بند رکھیں
آپ کے استعمال میں اگر کوئی کمرہ نہیں ہے اور وہاں وینٹیلیشن یا ہوا کا گزر ممکن نہیں تو اس کا دروازہ بند رکھیں تاکہ ٹھنڈی ہوا صرف ان کمروں تک محدود رہے جہاں لوگ موجود ہیں۔
کچن اور باتھ روم کے ایگزاسٹ فین استعمال کریں
کھانا پکانے کے بعد کچن میں جمع ہونے والی گرم ہوا کو باہر نکالنے کے لیے ایگزاسٹ فین چلائیں، اور نہانے کے بعد باتھ روم کی بھاپ نکالنے کے لیے بھی اسے ہی استعمال کریں۔
توانائی بچانے والے بلب لگائیں
ڈاکٹر وینڈل پورٹر یہ مشورہ دیتے ہیں کہ روایتی بلب (انکینڈیسنٹ) ایل ای ڈی بلب کے مقابلے میں زیادہ گرمی پیدا کرتے ہیں چنانچہ توانائی بچانے والے بلب خریدیں اور آہستہ آہستہ گھر کے بلب تبدیل کریں۔

گرمی سے بچنے کے لیے اپنی کلائیوں پر ٹھنڈی پٹی یا برف کی تھیلی رکھیں یا اسے گردن کے گرد لپیٹ لیں (فوٹو: شٹر سٹاک)

سامنتھا ہال کے مطابق، بلب تبدیل کرنے سے بجلی کے اخراجات تو کم ہوتے ہیں لیکن گھر کے درجۂ حرارت میں بہت زیادہ کمی نہیں آتی۔ تاہم، ڈاکٹر وینڈل پورٹر کے مطابق آپ اگر اُن جگہوں کے بلب تبدیل کریں جہاں آپ زیادہ وقت گزارتے ہیں تو اس کا فرق زیادہ محسوس ہوگا۔
صبح کے وقت سلو ککر پر یا پھر باہر کھانا پکائیں
اوون کی گرمی پورے گھر میں پھیل سکتی ہے، اس لیے کوشش کریں کہ گرمی کو ایک جگہ محدود رکھا جائے، مثلاً سلو ککر کا استعمال کریں۔ یا پھر باہر گرِل پر کھانا پکائیں تاکہ گرمی گھر کے اندر نہ آئے۔
ٹھنڈی اشیا سے لطف اٹھائیں
آئس کریم یا آئس لولی کھانے سے وقتی طور پر ٹھنڈک مل سکتی ہے، لیکن اگر آپ شدید گرمی محسوس کر رہے ہوں تو زیادہ چینی استعمال نہ کریں۔
ڈاکٹر وینڈل پورٹر کے مطابق، چینی میٹابولزم کو تیز کر دیتی ہے جس سے جسم اندر سے گرم محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس لیے ٹھنڈی چیز فائدہ دے سکتی ہے، لیکن زیادہ چینی نہیں۔
اپنے علاقے میں دستیاب سہولیات کے بارے میں آگاہ رہیں
آپ اگر تمام طریقے آزمانے کے باوجود گھر میں گرمی سے نجات حاصل نہیں کر پا رہے تو آن لائن دیکھیں کہ آیا آپ کے علاقے میں بغیر ڈکٹ والے ایئر کنڈیشنرز کے لیے کوئی مقامی پروگرام دستیاب ہے یا نہیں۔

کھڑکیوں کے سامنے پنکھے اس طرح رکھیں کہ وہ کمرے کی گرم ہوا باہر نکالیں اور اندر ٹھنڈی ہوا آنے دیں (فوٹو: شٹرسٹاک)

آپ کے علاقے میں بعض ‘کولنگ سینٹرز‘ یعنی ایئر کنڈیشنڈ عوامی مقامات کھلے ہو سکتے ہیں جہاں شدید گرمی کے دوران لوگ سکون حاصل کرنے جا سکتے ہیں اور وہاں حفاظتی اقدامات بھی کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر وینڈل پورٹر کے مطابق، آپ اپنے مقامی یوٹیلیٹی دفاتر سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کون سی سہولیات کہاں دستیاب ہیں۔

شیئر: