Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آپ کے بال کھردرے، چمک سے محروم یا ٹوٹ رہے ہیں تو کیا کرنا چاہیے؟

آپ اگر مسلسل عام نل کے پانی سے بال دھوتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر بالوں پر پڑ سکتا ہے (فوٹو: جان ہالسٹک لیب)
بہت سے لوگ بالوں کے بے رونق ہونے کی وجہ کیمیکل والے شیمپو، آلودگی یا ہیئر سٹائلنگ کے لیے استعمال ہونے والی حرارت کو قرار دیتے ہیں۔ تاہم، نل کا پانی بھی آپ کے بالوں کے معیار کو متاثر کر سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق، آپ اگر مسلسل عام نل کے پانی سے بال دھوتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر بالوں پر پڑ سکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ پانی میں موجود آلودگی اور معدنی اجزا ہیں۔
کھارے پانی کے اثرات کا اندازہ اکثر نہانے کی بالٹی کی تہہ میں جمی سیاہی مائل تہہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس تہہ میں زیادہ تر میگنیشیم اور دیگر معدنی اجزا جمع ہوتے ہیں، جو بالوں کے معیار کو متاثر کر سکتے ہیں۔
طبی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نل کے پانی کی وجہ سے بالوں کے بے رونق ہونے کی ایک وجہ ان کی ساخت کو پہنچنے والا نقصان بھی ہو سکتی ہے، جسے صرف غذائیت سے بھرپور خوراک لینے اور مناسب مقدار میں معدنیات استعمال کرنے سے دور نہیں کیا جا سکتا۔
کھارا پانی بالوں کی صحت کے لیے نقصان دہ کیوں؟
کھارے پانی سے مراد ایسا پانی ہے جس میں کیلشیم اور میگنیشیم کی مقدار زیادہ ہو اور اس میں شامل معدنیات بالوں پر تہہ کی صورت میں جم سکتی ہوں۔ آپ اگر مسلسل نل کے پانی سے بال دھوتے رہیں تو وقت کے ساتھ وہ بے رونق ہو سکتے ہیں اور ان کی قدرتی چمک بھی کم ہو سکتی ہے۔
یہ مسئلہ جے پور، احمد آباد، دہلی این سی آر، بنگلورو، حیدرآباد، پونے، چنئی، لکھنؤ، کانپور، جودھپور، سورت اور وڈودرا جیسے شہروں میں خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔ بہت سے لوگ اس بات سے واقف نہیں کہ آلودہ یا کھارا پانی اِن کے بالوں کو کس طرح متاثر کر رہا ہے۔ ایسے میں بالوں کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے باتھ روم میں واٹر فلٹر لگانا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
نل کا پانی آپ کے بالوں کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟
 کھارے پانی میں موجود معدنی اجزا اگر بالوں پر مسلسل جمع ہوتے رہیں تو بال بے رونق ہو سکتے ہیں اور ان کا حجم کم محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس سے بالوں کی چمک اور نرمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

کھارے پانی میں موجود معدنی اجزا اگر بالوں پر مسلسل جمع ہوتے رہیں تو بال بے رونق ہو سکتے ہیں (فوٹو: ووئی کلر)

آپ کے بال اگر خشک اور الجھے ہوئے یا بے ترتیب رہنے لگے ہیں تو اپنے استعمال کے پانی کے معیار کی جانچ کروانا مناسب ہو سکتا ہے۔ آلودہ یا ناقص معیار کا پانی بالوں کی حالت مزید خراب کر سکتا ہے، یہاں تک کہ بال دھونے کے بعد بھی کھردرے اور اُلجھے ہوئے محسوس ہو سکتے ہیں۔
نل کے پانی کے بالوں کو نقصان پہنچانے کی علامات
کچھ علامات ایسی ہیں جن سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ نل کا پانی بالوں کے معیار کو متاثر کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر باقاعدگی سے بال دھونے کے باوجود وہ بے رونق نظر آنے لگیں۔ دیگر علامات میں بالوں کا ضرورت سے زیادہ پھولنا اور بے ترتیب ہونا، سر کی جلد کا خشک ہونا، بالوں کا زیادہ ٹوٹنا اور شیمپو کا مناسب طریقے سے جھاگ نہ بنانا شامل ہیں۔
کیا روزانہ بال دھونے سے مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے؟
آپ اگر روزانہ بال دھوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بال چپچپے محسوس ہوتے ہیں تو اس کی ایک وجہ پانی کا ناقص معیار بھی ہو سکتا ہے۔
تاہم، روزانہ بال دھونے اور ضرورت سے زیادہ بال دھونے میں واضح فرق ہے۔ روزانہ بال دھونے کا اثر ہر شخص کے بالوں کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔
کیا کھردرا پانی بالوں کے جھڑنے کا سبب بن سکتا ہے؟
انٹرنیشنل جرنل آف ٹرائیکولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کھردرے پانی کے مسلسل استعمال سے بال جھڑنے کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

آپ اگر روزانہ بال دھوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بال چپچپے محسوس ہوتے ہیں تو اس کی ایک وجہ پانی کا ناقص معیار بھی ہو سکتا ہے (فوٹو: واٹر سائنس)

کھردرا پانی بالوں کے ضرورت سے زیادہ ٹوٹنے اور مجموعی معیار میں خرابی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
اگرچہ روزانہ تقریباً 100 بالوں کا گرنا عام بات سمجھی جاتی ہے، لیکن اگر بال نل سے مسلسل عام یا کھردرے پانی کے اثر میں رہیں تو یہ مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔
کن لوگوں کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟
اِن لوگوں کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے جو مسلسل ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں پانی کھردرا ہو اور وہ روزمرہ استعمال میں اسی پانی کا سامنا کرتے ہوں۔
یہ اثر اِن لوگوں میں مزید نمایاں ہو سکتا ہے جن کے بال گھنگریالے، خشک یا رنگ کیے ہوئے ہوں۔

شیئر: