کیا اخروٹ کا استعمال گھٹنوں کے درد اور جوڑوں کی سوزش سے نجات دلا سکتا ہے؟
کیا اخروٹ کا استعمال گھٹنوں کے درد اور جوڑوں کی سوزش سے نجات دلا سکتا ہے؟
جمعہ 25 ستمبر 2026 5:56
اخروٹ میں ’الفا لنولینک ایسڈ‘ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے (فائل فوٹو: پکسابے)
دنیا بھر میں گھٹنوں اور جوڑوں کا درد ایک عام لیکن انتہائی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے جس سے نہ صرف معمر افراد بلکہ متحرک طرزِ زندگی رکھنے والے نوجوان بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
بڑھتی ہوئی عمر، چوٹ، جوڑوں کا حد سے زیادہ استعمال، غذائی اجزا کی کمی اور گٹھیا (آرتھرائٹس) جیسی بیماریاں اس دائمی درد کی بنیادی وجوہات میں شمار کی جاتی ہیں۔
گھٹنوں کی مسلسل تکالیف انسان کی روزمرہ کی نقل و حرکت کو شدید متاثر کرتی ہیں جس سے معیارِ زندگی میں واضح کمی آتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طبّی ماہرین کے مطابق اگرچہ ادویات اور فزیو تھراپی اس درد کے علاج کے بنیادی ذرائع ہیں، تاہم ہماری روزمرہ کی غذا بھی جوڑوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
غذائیت سے بھرپور اور سوزش سے بچانے والی غذاؤں کی فہرست میں اخروٹ ایک ایسا قدرتی تحفہ ہے جسے جوڑوں کی مضبوطی اور گھٹنوں کی صحت کے لیے ایک 'پاور ہاؤس' قرار دیا جاتا ہے۔
اخروٹ بنیادی طور پر سوزش ختم کرنے والے مرکبات اور ضروری معدنیات سے مالا مال ہوتے ہیں۔
یہ اجزا نہ صرف ہڈیوں کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ جوڑوں کے درمیان موجود نرم ہڈی (کارٹیلیج) کو گھسنے اور ٹوٹ پھوٹ سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
گھٹنوں کی سوزش اور جکڑن میں کمی
اخروٹ میں ’الفا لنولینک ایسڈ‘ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، جو نباتاتی اومیگا 3 فیٹی ایسڈ کی ایک قسم ہے۔ یہ جزو جسم میں سی رییکٹیو پروٹین (سی آر پی) جیسے سوزش بڑھانے والے اجزا کو کم کر کے دائمی سوزش کا خاتمہ کرتا ہے۔
اس عمل سے گھٹنوں کے جوڑوں میں ہونے والی رگڑ، جلن اور سوجن میں فوری اور نمایاں کمی آتی ہے۔
جوڑوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ اخروٹ مجموعی صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد کا حامل ہے (فائل فوٹو: ہیلتھ لائن)
آرتھرائٹس فاؤنڈیشن کے مطابق اخروٹ کے اثرات پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے یہ بات ثابت کی ہے کہ اس کا باقاعدہ استعمال سی آر پی کی سطح کو گرائپ کرتا ہے جو نہ صرف جوڑوں کے درد بلکہ دل کی بیماریوں کا سبب بھی بنتی ہے۔
گٹھیا اور جوڑوں کے درد سے نجات
اخروٹ میں پولی فینول اور وٹامن ای جیسے طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو آزاد ریڈیکلز کے باعث ہونے والے آکسیڈیٹیو تناؤ کا مقابلہ کرتے ہیں۔
یہ اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات گھٹنوں کی کارٹیلیج کو تحفظ فراہم کرتی ہیں اور آسٹیو آرتھرائٹس جیسی جوڑوں کی بیماریوں کی رفتار کو سست کر دیتی ہیں۔
جوڑوں کی اندرونی ساخت کو مغذی اجزا فراہم کر کے اخروٹ گھٹنوں کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔
جوڑوں کی لچک اور ہڈیوں کی مضبوطی
اخروٹ میں موجود ضروری چکنائیاں جوڑوں کے گرد سینووئل سیال کی حفاظت کرتی ہیں جس سے گھٹنوں میں چکنائی قائم رہتی ہے، ان کی لچک میں اضافہ ہوتا ہے اور صبح کے وقت ہونے والی جکڑن سے راحت ملتی ہے۔
اس کے علاوہ اخروٹ میگنیشیم، فاسفورس اور کیلشیم جیسے معدنیات کا بہترین ذریعہ ہیں جو ہڈیوں کی کثافت کو برقرار رکھنے کے لیے لازمی ہیں۔ مضبوط ہڈیاں ہی گھٹنوں کے جوڑ کو صحیح سہارا دیتی ہیں۔
اخروٹ میگنیشیم، فاسفورس اور کیلشیم جیسے معدنیات کا بہترین ذریعہ ہیں (فائل فوٹو: نیچرلی)
دیگر صحت بخش فوائد
گھٹنوں اور جوڑوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ اخروٹ مجموعی صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد کا حامل ہے۔
دل کی صحت: اومیگا 3 فیٹی ایسڈز بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کو کم کر کے دل کو تحفّظ فراہم کرتے ہیں۔
دماغی صلاحیت: یہ حافظے اور ذہن کی کارکردگی کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
نظامِ ہضم: پری بائیوٹک خصوصیات کی وجہ سے یہ معدے اور آنتوں کے مفید بیکٹیریا کو تقویت دیتے ہیں۔
وزن اور شوگر کا کنٹرول: پروٹین اور فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے یہ بھوک پر قابو پانے، انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے اور بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔
اخروٹ کو ایک متوازن غذا کا حصہ بنانا صحت مند زندگی کے لیے انتہائی مفید ہے۔ تاہم ماہرینِ طب کا مشورہ ہے کہ اگر آپ گھٹنوں کے شدید یا دائمی درد میں مبتلا ہیں تو صرف غذائی تبدیلیوں پر انحصار کرنے کے بجائے معالج سے بروقت طبی مشورہ ضرور لیں۔