مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پی ٹی آئی کا لکی مروت سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز
اتوار 4 اکتوبر 2026 19:01
پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے مطالبات کے حق میں اتوار کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کردیا۔
پاکستان کی حکومت گذشتہ کئی ہفتوں سے مظاہرین کے ممکنہ طور پر اسلام آباد کی جناب مارچ کو روکنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پی ٹی آئی نے اتوار کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز لکی مروت میں گنڈی چوک سے کیا۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی کے وزیراعلٰی خیبر پختونخوا نے ابتدا میں مارچ 27 ستمبر کو لانگ مارچ کی کال دی تھی، تاہم بعد ازاں اسے چار اکتوبر تک موخر کر دیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری کی گئی ویڈیوز میں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پارٹی کے حامیوں کو جمع ہوتے اور ’لانگ مارچ‘ کے لیے قافلوں کی صورت میں روانہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی سہیل آفریدی نے اس سے قبل ’ایکس‘ پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ عمران خان کی حمایت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ضرور ہوگا۔‘
اپوزیشن رہنما علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات آخری لمحات میں ’ڈیڈ لاک‘ کا شکار ہوگئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات میں اس مطالبے سمیت کئی امور پر اتفاق نہیں ہوسکا کہ عمران خان کو اُن کے ذاتی ڈاکٹر تک رسائی دی جائے۔‘
عمران خان کی گرفتاری پر عوامی بے چینی میں گذشتہ چند ماہ کے دوران اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر 74 برس کے عمران خان کے طبی علاج اور اُن تک ڈاکٹروں اور اہلِ خانہ کی رسائی نہ ہونے سے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان کشیدگی میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
پی ٹی آئی نے عمران خان کی تین بہنوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے، جن کی گذشتہ ماہ ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں بدعنوانی سے غداری اور تشدد پر اکسانے سمیت درجنوں مقدمات کا سامنا ہے، جو مئی 2023 میں ہونے والے بڑے پیمانے پر حکومت مخالف فسادات کے بعد درج کیے گئے تھے۔
عمران خان اور ان کی قانونی ٹیم ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی نوعیت کے مقدمات قرار دیتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ ان مقدمات کا مقصد ان کی مقبولیت کو محدود کرنا ہے۔
