Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لانگ مارچ کی آج کرک سے روانگی، ’گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کا شوق نہیں‘

وفاقی وزیر امیر مقام نے پی ٹی آئی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا (فوٹو: ریڈیو پاکستان)
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے آج کرک سے آگے روانگی کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے مطالبہ کیا ہے کہ اپنے مقاصد کے لیے خیبر پختونخوا کے عوام کا استعمال بند کیا جائے۔
پیر کو وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینیئر امیر مقام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں ثمر ہارون بلور اور زاہد خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں خیبر پختونخوا حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کیا اس نے کبھی کسی عوامی مسئلے پر لانگ مارچ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’آپ کے ماضی سے ثابت ہے کہ جس طرح آپ آئے اور پھر غائب ہوئے، اسلام آباد کے لوگ اس کے گواہ ہیں۔‘
امیر مقام کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر خیبر پختونخوا کسی عوامی مسئلے پر لانگ مارچ کرے تو ہم بھی اس کا ساتھ دیں گے۔‘
امیر مقام نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صوبے کو لاوارث چھوڑ رکھا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق خیبر پختونخوا کوئی الگ حکومت نہیں وہ بھی سٹیٹ کا حصہ ہے، صوبے کے پانچ کروڑ عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت اور دہشت گردوں کے درمیان لنک دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو دہشت گردوں سے آزاد کرانا اس کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں لوگ دہشت گردی کے خوف سے اپنے پیاروں کے جنازوں میں شرکت نہیں کرتے لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور ان کا مارچ آزادی سے گھوم رہا ہے۔
امیر مقام نے سوال اٹھایا یہ کہتے ہیں کہ عمران خان پورے ملک کے لیڈر ہیں تو پھر گلگت بلتستان، کشمیر، پنجاب اور سندھ میں ان کے لیے کوئی کیوں نہیں نکلتا۔

اتوار کو مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سہیل آفریدی نے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا (فوٹو: پی ٹی آئی، سوشل میڈیا)

ان کے بقول صرف خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اس لیے وہاں کے عوام کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی پہلے ان کی کارکردگی کو دیکھیں، پھر مارچوں میں جائیں۔
امیر مقام کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریاست کی ذمہ دار ہے کہ خیبر پختونخوا کے پانچ کروڑ عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔
ان کے مطابق ’آئینی راستہ اختیار کیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور سسٹم بھی چلتا رہے۔‘
خیال رہے اس وقت خیبر پختونخوا حکومت اور وفاق کے درمیان سخت تناؤ پایا جاتا ہے کیونکہ وہاں کی مقتدر پارٹی پی ٹی آئی نے اپنے قائد عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا جس کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
پہلے یہ لانگ مارچ 27 ستمبر کو ہونا تھا مگر پھر اسے ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔
اتوار کو بھی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے جس میں لانگ مارچ کا معاملہ بھی شامل تھا تاہم وہ کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔
اس کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ کے آغاز کا اعلان کیا تھا جو اس وقت کرک میں موجود ہے اور سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ آج وہاں سے آگے بڑھا جائے گا۔

شیئر: