Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ماضی کی یادیں اور حال یکجا: ریاض میں سو سال پرانا مکان کیفے میں تبدیل

ریاض کے علاقے العریجا میں ایک سعودی شہری نے تقریباً ایک صدی قبل چکنی مٹی سے تعمیر کیے گئے کچے مکان کو تزئین و آرائش کے بعد ایک منفرد اور مثالی سیاحتی مقام میں تبدیل کر دیا ہے۔
لاخباریہ کے مطابق العریجا میں مٹی سے تعمیر کیا گیا یہ مکان ہجری سال 1346 میں بنایا گیا تھا۔ اس مکان کو اس وقت 600 عربی ریال میں خریدا گیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب مملکت سعودی عرب کے قیام سے قبل رائج کرنسی کو ’عربی کرنسی‘ کہا جاتا تھا۔
تین برس قبل سعودی شہری عبدالکریم الربیعان نے یہ مکان خریدا اور اسے منہدم ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ قدیم نجدی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے اسی طرزِ تعمیر پر بحال کیا جس انداز میں یہ کچا مکان تقریباً ایک صدی قبل تعمیر کیا گیا تھا۔
عبدالکریم الربیعان نے ماضی اور حال کے درمیان تعلق کو برقرار رکھنے اور عہدِ رفتہ کی یادوں کو زندہ رکھنے کے لیے مکان کے قدیم طرزِ تعمیر کو نمایاں کیا۔
آج یہ قدیم مکان ایک علاقائی سیاحتی مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں ایک سادہ سا کیفے بھی بنایا گیا ہے۔
یہ تاریخی مکان ورثے اور ثقافت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک مثالی مقام ہے جہاں ماضی کی یادیں اور حال ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

شیئر: