Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مذاکرات کی ناکامی پر فریقین سوشل میڈیا پر آمنے سامنے، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا آغاز

حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان طویل نشستیں بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد نہ صرف فریقین نے ایک دوسرے پر ناکامی کا ملبہ ڈالتے ہوئے سوشل میڈیا پر لفظی جنگ شروع کر دی ہے بلکہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے طے شدہ منصوبے کے تحت خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کے لیے اپنے لانگ مارچ کا باقاعدہ آغاز بھی کر دیا ہے۔
سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کا آخری دور رات ڈھائی بجے ناکام ہوا جس کے فوراً بعد ایکس پر الزام تراشی کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔
’دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے‘
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ایکس پر حکومت کو بھیجا گیا سات نکاتی ڈرافٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ان میں سے ایک بھی مطالبہ غیر آئینی نہیں ہے مگر ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔‘
اس ڈرافٹ میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈرز کے درمیان ملاقات، مشترکہ مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سیاسی و طبی حقوق کے مطابق رہائی اور کے پی میں امن و امان کی صورتحال پر 72 گھنٹوں کے اندر مشترکہ لائحہ عمل بنانے کا مطالبہ شامل تھا۔ مسودے کے مطابق وفاق کی تحریری یقین دہانی کی صورت میں ہی مارچ منسوخ ہو سکتا تھا۔
کے پی حکومت آخری مرحلے میں مکر گئی: محسن نقوی
سہیل آفریدی کے اس بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کے پی حکومت پر اینٹی کلائمیکس کا الزام عائد کیا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کے پی حکومت سکیورٹی امور کو سیاست سے پاک رکھنے، ’پولیس ایکٹ 2026‘ پر نظرثانی، کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر تنظیموں کی بلا مشروط مذمت اور افغان مہاجرین کی واپسی پر تحریری معاہدے پر رضامند ہو چکی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’مذاکرات کے حتمی مرحلے میں کے پی حکومت اپنے عزم سے پیچھے ہٹ گئی حالانکہ جب صوبہ جنگ کی حالت میں ہو تو سکیورٹی پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔‘
حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن رانا ثنا اللہ نے بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بنیادی تنازع دہشت گردی سے متعلق وفاقی پالیسی پر کے پی حکومت کا عدم تعاون ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "بانی پی ٹی آئی کے علاج یا ملاقاتیں ثانوی باتیں تھیں، اصل مسئلہ سیکیورٹی پر یکسوئی کا ہے، اور لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔"
’اندھے آپریشنز قبول نہیں‘
دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما  سلمان اکرم راجہ نے ناکامی کا اصلی سبب حکومت کے اس اصرار کو قرار دیا کہ ’کے پی حکومت 72 گھنٹوں میں ضم اضلاع میں ایمرجنسی اور وفاق کے تمام فوجی اقدامات کی یکطرفہ تائید کرے۔‘
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کی حکومت دہشت گردی کے خلاف ہے لیکن وہ ایسے ’اندھے آپریشنز‘ کی مخالفت کرتی ہے جن سے معصوم لوگوں کا خون بہے یا شہری بے گھر ہوں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کا خاتمہ صوبائی اسمبلی اور مقامی جرگے کی مشاورت سے متفقہ لائحہ عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’پی ٹی آئی کا مرکزی ہدف عمران خان کو فوری شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنا اور ذاتی معالج کی شمولیت سے طبی بورڈ تشکیل دینا تھا مگر حکومت محض چند ملاقاتوں کی بحالی کے علاوہ کچھ دینے کو تیار نہ تھی۔‘
اس سے قبل اپوزیشن رہنما اور قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے بھی موقف اپنایا کہ قائد تک رسائی کے بغیر فیصلہ ممکن نہیں اور کسی قیدی کو مجبور کر کے معاہدہ کروانا ’مجرمانہ فعل‘ کے مترادف ہے۔
اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ
مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوتے ہی کے پی کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے شیڈول کا اعلان کر دیا اور اطلاعات ہیں کہ مارچ شروع ہو گیا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس اور وفاقی سکیورٹی اداروں نے دارالحکومت سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔
شہر کے داخلی راستوں پر کنٹینرز بدستور موجود ہیں اور پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداراوں کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔

شیئر: