یمنی افواج نے تعز میں حوثیوں کے بڑے حملے پسپا کر دیے، صنعاء میں اہداف پر حملے
یمنی افواج نے تعز میں حوثیوں کے بڑے حملے پسپا کر دیے، صنعاء میں اہداف پر حملے
اتوار 4 اکتوبر 2026 15:58
گزشتہ تین دنوں کے دوران حوثیوں نے تعز شہر اور صوبے کے دیگر علاقوں پر میزائل، ڈرون اور زمینی حملے مزید تیز کر دیے (فوٹو: اے ایف پی)
یمن کے جنوب مغربی صوبے تعز میں سنیچر کو سرکاری افواج نے ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کے ان حملوں کو ناکام بنا دیا جنہیں مقامی فوجی افسران نے حالیہ برسوں کے سب سے زیادہ ’جارحانہ‘ حملے قرار دیا۔ اسی دوران یمنی فوج نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ صنعاء میں بھی اہداف پر حملے کیے۔
عرب نیوز کے مطابق مقامی فوجی کمانڈروں نے کہا کہ حوثیوں نے تعز شہر سمیت صوبے کے مختلف سرکاری زیرِانتظام علاقوں پر شدید گولہ باری کی۔ مختلف ہتھیاروں سے سینکڑوں گولے داغے گئے اور بڑی تعداد میں پیدل فوج تعینات کی گئی تاکہ حکومتی دفاعی پوزیشنوں کو توڑا جا سکے۔
تعز میں تعینات یمنی فوج کے افسر کرنل عبدالباسط البحر نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’خدا کی قسم میں نے آج جیسی شدید لڑائیاں اور حملے کبھی نہیں دیکھے۔ یہ گزشتہ 12 سالہ جنگ کی سب سے شدید لڑائیوں میں سے ایک ہے۔‘
ایک ماہ قبل حوثیوں نے تعز اور الحدیدہ کے مغربی صوبوں میں یمنی سرکاری افواج کے خلاف کئی برسوں کی سب سے بڑی فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس میں ہزاروں جنگجوؤں کو تعینات کیا گیا اور میزائلوں و ڈرونز کی بھرپور بمباری کی گئی۔
ایک ہفتے بعد حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر مخا، جو قومی مزاحمتی فورسز کا اہم اڈہ ہے، پانچ دیگر اضلاع اور باب المندب آبنائے پر قبضہ کر لیا۔
بعد ازاں یہ پیش قدمی جمود کا شکار ہو گئی کیونکہ حوثی لحج کے جنوبی صوبے میں باب المندب پر نظر رکھنے والے پہاڑی سلسلے پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
گزشتہ تین دنوں کے دوران حوثیوں نے تعز شہر اور صوبے کے دیگر علاقوں پر میزائل، ڈرون اور زمینی حملے مزید تیز کر دیے جس کے نتیجے میں شدید جھڑپیں ہوئیں اور دونوں جانب درجنوں جنگجو ہلاک ہوئے۔
کرنل البحر کے مطابق حوثیوں کی بھاری فائر پاور اور پیدل فوج کی غیر معمولی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس کارروائی کی نگرانی حوثی تنظیم کے اعلیٰ کمانڈر، یا ممکنہ طور پر ایران کی پاسدارانِ انقلاب یا حزب اللہ کے کمانڈر کر رہے تھے۔ مقصد تعز پر قبضہ کرنا تھا، جو یمنی حکومت کے زیرِ کنٹرول بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’حوثی صبح تین بجے سے لے کر نمازِ ظہر تک مسلسل جنگجوؤں کی نئی نئی لہریں بھیجتے رہے۔ جیسے ہی ہم ایک حملہ ناکام بناتے، دوسرا شروع ہو جاتا۔ صرف اس محاذ پر جہاں میں تعینات تھا، ان کے درجنوں جنگجو مارے گئے۔ انہوں نے میزائلوں، توپ خانے اور ٹینکوں سمیت مختلف قسم کا فوجی ساز و سامان استعمال کیا۔‘
ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران حوثی بارہا کوششوں کے باوجود تعز شہر پر قبضہ نہیں کر سکے (فوٹو: اے ایف پی)
سب سے شدید لڑائی جبل ہان، ہذران اور تعز شہر کے مغربی مضافاتی علاقوں کے علاوہ الکدحہ اور جبل حبشی اضلاع میں رپورٹ ہوئی۔
سنیچر کی دوپہر تک سرکاری افواج بیشتر محاذوں پر حوثیوں کے حملوں کو پسپا کر چکی تھیں، اگرچہ بعض مقامات پر لڑائی جاری تھی۔
کرنل البحر نے کہا کہ ’ملیشیا کی تمام پیش قدمیوں کو ناکام بنا دیا گیا، ان کے بہت سے جنگجو مارے گئے، ساز و سامان تباہ ہوا اور انہیں پسپا ہو کر فرار ہونا پڑا۔‘
ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران حوثی بارہا کوششوں کے باوجود تعز شہر پر قبضہ نہیں کر سکے، کیونکہ انہیں مقامی جنگجوؤں اور فوجی دستوں کی سخت مزاحمت کا سامنا رہا۔
حوثیوں نے شہر کے بیشتر داخلی راستوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور ایک طویل محاصرہ کر رکھا ہے جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت کے لیے دشوار اور بعض اوقات کچی سڑکوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔
تعز کے بیس لاکھ سے زائد باشندوں پر اس محاصرے کے اثرات کے باعث عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے اس کی مذمت کرتی رہی ہیں۔
علی الفقیہ نے مزید کہا کہ ’تعز کو حوثیوں اور دیگر فریقوں کی جانب سے سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑا (فوٹو: اے ایف پی)
المصدر آن لائن کے مدیر علی الفقیہ نے عرب نیوز کو بتایا کہ حوثیوں نے تعز کو محاصرے، رہائشی علاقوں پر گولہ باری اور حالیہ وسیع فوجی کارروائیوں کے ذریعے سزا دینے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’تعز میں اعلیٰ تعلیمی معیار اور عوامی شعور نے یہاں کے لوگوں کو حوثی غلبے کے نتائج سمجھنے کے قابل بنایا، جسے وہ امامت کے منصوبے کی توسیع اور خطے میں ایران کے اگلے محاذ کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘
یہ اشارہ اُس امامت کی جانب تھا جس نے 1962 کے انقلاب تک یمن کے بعض حصوں پر حکومت کی تھی، اور ناقدین کے مطابق حوثی اسے دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں۔
علی الفقیہ نے مزید کہا کہ ’تعز کو حوثیوں اور دیگر فریقوں کی جانب سے سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ یہ قومی منصوبے کا علمبردار بنا رہا۔‘
دوسری جانب یمنی فوج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے سنیچر اعلان کیا کہ سرکاری افواج نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ صنعاء میں اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب دارالحکومت کے رہائشیوں نے شدید دھماکوں کی اطلاع دی اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں پہاڑی علاقوں سے دھویں کے گھنے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔