3 لاکھ 15 ہزار سال پہلے انسان کیسے دکھائی دیتا تھا؟
3 لاکھ 15 ہزار سال پہلے انسان کیسے دکھائی دیتا تھا؟
بدھ 30 ستمبر 2026 12:22
سائنسدانوں نے 3 لاکھ 15 ہزار سال پرانے ابتدائی ’ہومو سیپینز‘ کا چہرہ ڈیجیٹل طریقے سے دوبارہ تشکیل دے دیا۔(فوٹو:ہیرٹیج)
سائنسدانوں نے 3 لاکھ 15 ہزار سال پرانے ابتدائی ’ہومو سیپینز‘ کا چہرہ ڈیجیٹل طریقے سے دوبارہ تشکیل دیا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قدیم انسان کی شکل کیسی رہی ہوگی۔
سائنسی جریدے ’ہیرٹیج‘ میں شائع تحقیق کے مطابق یہ تشکیل نو مراکش کے جبل اِرہود سے ملنے والے تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار سال پرانے فوسلز کی بنیاد پر کی گئی۔
تحقیق میں ’اِرہود 1‘ نامی فوسل کو بنیادی حیثیت دی گئی، جو 1960 کی دہائی میں جبل اِرہود سے دریافت ہوا تھا۔ اس کے ساتھ اسی مقام سے ملنے والے دیگر فوسلز کے جبڑے اور دانتوں کے حصے شامل کرکے تین جہتی مرکب کھوپڑی تیار کی گئی۔
ماہرین نے قدیم کھوپڑی کو ڈیجیٹل طور پر مکمل کیا، پھر جدید انسان کی کھوپڑی کے سی ٹی سکین کو اس کے مطابق ڈھال کر چہرے کی ممکنہ شکل تیار کی۔
اس دوران چہرے کے پٹھوں، ناک اور ٹھوڑی سمیت مختلف حصوں کا اندازہ لگایا گیا، جبکہ جدید افریقی آبادیوں کے نرم بافتوں سے متعلق اعداد و شمار بھی استعمال کیے گئے۔
ماہرین نے چہرے کی دو ڈیجیٹل شکلیں تیار کیں۔ پہلی سیاہ و سفید اور بغیر بالوں کے ہے، جس میں ہڈیوں سے ظاہر ہونے والی خصوصیات کو نمایاں کیا گیا ہے۔
دوسری شکل میں جلد کی رنگت، بال اور داڑھی شامل ہیں، تاہم یہ تفصیلات فوسلز سے براہِ راست معلوم نہیں کی جاسکتیں اور انہیں اندازے کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے کھوپڑی کے اندر موجود دماغی گنجائش کا بھی اندازہ لگایا۔(فوٹو:ہیرٹیج)
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے کھوپڑی کے اندر موجود دماغی گنجائش کا بھی اندازہ لگایا، جو تقریباً 1,364 ملی لیٹر نکلی۔ یہ مقدار جدید انسانوں میں پائی جانے والی حد کے اندر ہے اور پہلے کیے گئے اندازوں سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔
جبل اِرہود کے فوسلز کی تاریخ بھی خاصی دلچسپ ہے۔ 1960 کی دہائی میں دریافت کے بعد ابتدائی طور پر انہیں تقریباً 40 ہزار سال پرانا سمجھا گیا اور ’اِرہود 1‘ کو افریقی نیئنڈرتھل کی ایک قسم قرار دیا گیا تھا۔
بعد کی تحقیقات میں فوسلز کی عمر کے اندازے میں کئی بار تبدیلی آئی، تاہم 2017 میں نئی تاریخ بندی سے معلوم ہوا کہ یہ باقیات تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار سال پرانی ہیں اور ان کا تعلق ہومو سیپینز سے ہے۔
اس دریافت نے انسانی ارتقا کے بارے میں سائنسدانوں کی سوچ بدل دی۔(فوٹو:ہیرٹیج)
اس دریافت نے انسانی ارتقا کے بارے میں سائنسدانوں کی سوچ بدل دی ہے۔ شواہد سے معلوم ہوا کہ ہومو سیپینز شاید افریقہ کے کسی ایک علاقے میں اچانک وجود میں نہیں آئے بلکہ مختلف علاقوں میں طویل عرصے کے دوران ارتقا پذیر ہوئے۔
جبل اِرہود کے فوسلز کے چہرے، جبڑے اور دانتوں میں جدید انسان سے کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں، تاہم ان کی کھوپڑی موجودہ انسانوں کے مقابلے میں زیادہ لمبی اور کم گول ہے۔
محققین کے مطابق ڈیجیٹل تشکیل نو کسی ایک قدیم انسان کا ’اصل چہرہ‘ نہیں دکھاتی بلکہ دستیاب ہڈیوں کی بنیاد پر اس کی ممکنہ شکل پیش کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیجیٹل طریقہ مستقبل میں نامکمل قدیم انسانی فوسلز کے چہرے دوبارہ تشکیل دینے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔