Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

زحل سے عطارد اور مِلکی وے تک، اکتوبر میں آپ رات کے وقت کون سے فطری مظاہر دیکھ سکیں گے؟

شہروں میں رہنے والوں کے لیے بھی اکتوبر میں آسمان پر دیکھنے کو بہت کچھ ہوگا (فوٹو: پکسلز)
اکتوبر میں آسمان پر ٹوٹتے ہوئے ستاروں جیسے دکھائی دینے والے شہابِ ثاقب اور سیاروں کے خوب صورت نظارے ستاروں کو دیکھنے کے لیے رات دیر تک جاگنے کی کئی وجوہات فراہم کریں گے۔
اس ماہ شہابِ ثاقب کے دو سلسلے نمایاں ہوں گے۔ ڈریکونڈز 8 اور 9 اکتوبر کی درمیانی رات عروج پر ہوں گے اور اُس وقت آسمان پر چاند کی روشنی غیرمعمولی طور پر مدھم ہوگی، جس سے انہیں دیکھنا آسان ہوگا۔ اس کے بعد اورائنڈز اکتوبر کے آخر میں دکھائی دیں گے۔
نیشنل جیوگرافک میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق، اس کے علاوہ 4 اکتوبر کو زحل زمین کے قریب ترین مقام پر ہوگا اور آسمان پر معمول سے زیادہ بڑا اور روشن دکھائی دے گا۔ یہ زحل کے مشہور حلقوں کو دیکھنے کا بھی اچھا موقع ہوگا۔
شہابِ ثاقب دیکھنے کے لیے، اور موسمِ خزاں میں شمالی روشنیاں دیکھنے کے لیے بھی، ایسی جگہ بہتر ہوتی ہے جہاں مصنوعی روشنی کم ہو۔ لیکن شہروں میں رہنے والوں کے لیے بھی اکتوبر میں آسمان پر دیکھنے کو بہت کچھ ہوگا۔ بعض اہم نظارے، خاص طور پر سیارے، شہر کی روشنیوں کے باوجود دیکھے جا سکتے ہیں۔ بس یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ نظارے کب اور کہاں دیکھنے ہیں۔
4 اکتوبر: زحل زمین کے قریب ترین ہوگا
4 اکتوبر کو زحل زمین کے سب سے قریب ہوگا۔ اس وقت یہ آسمان پر معمول سے زیادہ بڑا اور روشن دکھائی دے گا۔ اس تاریخ سے پہلے اور بعد کے چند دن بھی زحل کے مشہور حلقے دیکھنے کے لیے بہترین ہوں گے۔
زحل کو دیکھنے کے لیے رات تقریباً 11 بجے جنوب مشرقی سمت میں نظر دوڑائیں۔ اس کے بعد اگلے چند گھنٹوں میں منظر مزید بہتر ہوتا جائے گا کیوں کہ زحل آسمان پر مزید بلند ہوتا جائے گا۔
زحل کے برف اور چٹان سے بنے حلقوں کو واضح طور پر دیکھنے کے لیے کم از کم ایک چھوٹی یا طاقت ور دوربین درکار ہوگی۔ زحل کے حلقے تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار میل تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں موجود برف کی وجہ سے یہ روشنی کو بہت زیادہ منعکس کرتے ہیں۔
5 اکتوبر: چاند اور مریخ ایک ساتھ دکھائی دیں گے

5 اکتوبر کی صبح چاند اور نارنجی رنگ کا مریخ طلوعِ آفتاب سے پہلے آسمان پر ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیں گے (فوٹو: سپیس انسائیڈر)

5 اکتوبر کو صبح سویرے اُٹھنے والوں کو آسمان پر ایک خوب صورت منظر دیکھنے کو ملے گا۔ ہلال کی شکل کا چاند اور نارنجی رنگت والا مریخ طلوعِ آفتاب سے پہلے آسمان پر ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیں گے۔
دونوں کو مشرقی اُفق کے اوپر تلاش کریں۔ صبح کچھ آگے بڑھنے پر مشتری بھی ان دونوں کی ترچھی سمت نیچے کی جانب دکھائی دے گا۔
یہ ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود ستاروں کو دیکھنے کا بھی ایک اچھا موقع ہوگا۔ چاند کے بالکل نیچے ستاروں کا ایک بڑا جھرمٹ موجود ہے جسے بِیہائیو کلسٹر کہا جاتا ہے۔ اس میں تقریباً ایک ہزار ستارے شامل ہیں۔
یہ جھرمٹ زمین سے تقریباً 600 نوری سال دور ہے اور تاریک آسمان میں عام آنکھ سے ایک دھندلے سے دھبے کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ معمولی یا طاقت ور دوربین سے یہ منظر زیادہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
8 اور 9 اکتوبر: ڈریکونڈز شہابِ ثاقب اپنے عروج پر ہوں گے
ڈریکونڈز شہابِ ثاقب کا سلسلہ آسمان پر سب سے زیادہ شہابِ ثاقب دکھانے والے سلسلوں میں شامل نہیں، لیکن اس سال اسے دیکھنے کے لیے حالات سازگار ہوں گے۔ اس کا عروج ایسے وقت میں ہوگا جب چاند بہت باریک اور گھٹتی ہوئی ہلال کی شکل میں ہوگا۔
چاند کی مدھم روشنی کی وجہ سے آسمان دیکھنے والوں کے لیے نسبتاً مدھم شہابِ ثاقب کو دیکھنا بھی آسان ہوگا۔
روشنی کی آلودگی سے دور تاریک آسمان کے نیچے ہر گھنٹے تقریباً 10 شہابِ ثاقب دکھائی دینے کی توقع ہے۔ ڈریکونڈز 8 اور 9 اکتوبر کی درمیانی شب سب سے زیادہ نظر آئیں گے۔ انہیں دیکھنے کا بہترین وقت غروبِ آفتاب کے تقریباً ایک سے دو گھنٹے بعد ہوگا۔
اس رات جنوبی آسمان میں زحل کو دیکھنا بھی نہ بھولیں۔
10 اکتوبر: نئے چاند کی رات، مِلکی وے دیکھنے کا بہترین موقع

خزاں کا موسم مِلکی وے یعنی ہماری اپنی کہکشاں کے روشن مرکز کو دیکھنے کے لیے سال کے بہترین اوقات میں سے ایک ہے (فوٹو: گیٹی)

خزاں کا موسم مِلکی وے یعنی ہماری اپنی کہکشاں کے روشن مرکز کو دیکھنے کے لیے سال کے بہترین اوقات میں سے ایک ہے۔ بہار کے موسم میں اسے دیکھنے کے لیے صبح سویرے اُٹھنا پڑتا ہے، لیکن خزاں میں رات ہوتے ہی مِلکی وے کا مرکزی حصہ آسمان پر نظر آنے لگتا ہے۔ اس موقع کو ضائع نہ کریں۔
امریکہ میں مِلکی وے کے مرکزی حصے کو دیکھنے کے لیے یہ سال کے آخری چند مہینوں میں سے ایک ہے، کیونکہ تقریباً نومبر سے فروری تک یہ حصہ سورج کے پیچھے چھپا رہتا ہے۔ 10 اکتوبر کی طرح نئے چاند کی راتیں اس روشن پٹی کو دیکھنے اور اس کی تصاویر بنانے کے لیے بہترین ہوتی ہیں۔ اس پٹی میں کروڑوں ستارے اور ایک بہت بڑا بلیک ہول موجود ہے۔
12 اکتوبر: عطارد سورج سے سب سے زیادہ دور دکھائی دے گا
 12اکتوبر کی شام مغربی اُفق کی طرف دیکھیں۔ وہاں عطارد اُس وقت دکھائی دے گا جب وہ سورج سے اپنی سب سے زیادہ دوری پر ہوگا۔ عام طور پر یہ تیز رفتار سیارہ سورج کے بہت قریب رہتا ہے، اس لیے اسے واضح طور پر دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسمان دیکھنے والے اس موقع کا انتظار کرتے ہیں جب عطارد سورج سے کچھ دور نظر آئے۔
اس ماہ عطارد کو دیکھنے کا بہترین موقع جنوبی نصف کرۂ زمین میں ہوگا، تاہم امریکہ میں بھی وہ لوگ اسے دیکھ سکتے ہیں جنہیں مغربی اُفق صاف دکھائی دیتا ہو۔ اس کے قریب ہلال کی شکل کے چاند پر بھی نظر رکھیں۔
آنکھوں کو نقصان سے بچانے کے لیے مغرب کی طرف دوربین یا کوئی اور دیکھنے کا آلہ سورج غروب ہونے کے بعد ہی استعمال کریں۔
21 اور 22 اکتوبر: اورائنڈز شہابِ ثاقب
تاریک آسمان میں اورائنڈز کے دوران ہر 20 گھنٹے تک شہابِ ثاقب دکھائی دے سکتے ہیں۔ اس سال یہ سلسلہ 21 اور 22 اکتوبر کی درمیانی شب اپنے عروج پر ہوگا۔ انہیں دیکھنے کا بہترین وقت صبح ہونے سے کچھ پہلے ہوگا۔
یہ شہابِ ثاقب آسمان کے اُس حصے سے آتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جہاں اورائن نامی ستاروں کا جھرمٹ موجود ہے۔ اورائنڈز اپنے روشن اور تیزی سے گزرنے والے شہابِ ثاقب کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یہ زمین کے گرد موجود ہوا کی تہہ میں داخل ہوتے ہوئے آسمان پر روشنی کی واضح لکیر بھی بنا سکتے ہیں۔
اس سال اورائنڈز کے عروج کے وقت چاند کافی روشن ہوگا، لیکن یہ صبح ہونے سے چند گھنٹے پہلے غروب ہو جائے گا۔ یہی وقت شہابِ ثاقب کو ان کی بہترین حالت میں دیکھنے کے لیے موزوں ہوگا۔
اس نظارے کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں مصنوعی روشنی کم ہو۔ اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ کسی ایسی جگہ سے دیکھیں جو خاص طور پر آسمان دیکھنے والوں کے لیے بنائی گئی ہو۔
26 اکتوبر: پورا شکاری چاند (ہنٹر مون)

اکتوبر کے پورے چاند کو شکاری چاند کہا جاتا ہے۔ یہ نام اس موسم میں سردیوں کے لیے خوراک جمع کرنے کی قدیم روایت کی وجہ سے پڑا (فوٹو: گیٹی)

اکتوبر کے پورے چاند کو شکاری چاند کہا جاتا ہے۔ یہ نام اس موسم میں سردیوں کے لیے خوراک جمع کرنے کی قدیم روایت کی وجہ سے رکھا گیا۔
26 اکتوبر کی شب آدھی رات گزرنے کے کچھ دیر بعد چاند اپنی پوری روشنی کے ساتھ طلوع ہوگا، تاہم اسے طلوع ہوتے یا غروب ہوتے وقت دیکھنا زیادہ خوب صورت ہوگا۔
سورج غروب ہونے کے آس پاس جب چاند مشرقی اُفق سے اوپر آئے گا اور صبح سورج نکلنے کے قریب مغرب میں غروب ہوگا تو یہ خاص طور پر بڑا اور نمایاں دکھائی دے گا۔ بعض اوقات اس کا رنگ بھی ہلکا نارنجی اور قدرے پراسرار سا محسوس ہو سکتا ہے۔
27  اکتوبر: چاند پلیئیڈز ستاروں کے جھرمٹ کے سامنے سے گزرے گا

امریکہ کے مشرقی ساحل پر رہنے والے لوگ چاند کو پلیئیڈز ستاروں کو مکمل طور پر اپنی اوٹ میں لیتا ہوا بھی دیکھ سکیں گے (فوٹو: سٹار واک)

27  اکتوبر کی شام روشن چاند پلیئیڈز نامی ہلکے نیلے رنگ کے ستاروں کے جھرمٹ کے قریب سے گزرے گا اور کچھ دیر کے لیے اس کے بعض ستاروں کو اپنی اوٹ میں بھی لے لے گا۔
یہ منظر مشرقی امریکی وقت کے مطابق شام تقریباً 6 بجے شروع ہوگا اور آدھی رات سے کچھ پہلے تک جاری رہے گا۔ چاند جب پلیئیڈز کے بعض ستاروں کے بالکل اوپر سے گزرے گا تو دونوں تقریباً رات ساڑھے 9 بجے ایک دوسرے کے سب سے زیادہ نزدیک ہوں گے۔
یہ منظر دنیا کے بڑے حصے میں دیکھا جا سکے گا، جس میں شمالی امریکہ بھی شامل ہے۔ امریکہ کے مشرقی ساحل پر رہنے والے لوگ چاند کو پلیئیڈز ستاروں کو مکمل طور پر اپنی اوٹ میں لیتا ہوا بھی دیکھ سکیں گے، جبکہ براعظم کے دوسرے حصوں میں آسمان دیکھنے والے چاند اور اِن ستاروں کے انتہائی قریب آنے کا منظر دیکھ سکیں گے۔

شیئر: