Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آسٹریلیا میں بھی اپوزیشن کا امیگریشن میں ’سب سے بڑی کمی‘ کا وعدہ

تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ تک ایک سال کے دوران آسٹریلیا میں خالص بیرونی ہجرت دو لاکھ 92 ہزار رہی (فوٹو: اے ایف پی)
آسٹریلیا کی قدامت پسند اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو ملک کی تاریخ میں امیگریشن میں سب سے بڑی کمی کی جائے گی۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ تک ایک سال کے دوران آسٹریلیا میں خالص بیرونی ہجرت دو لاکھ 92 ہزار رہی۔
لبرل پارٹی کے رہنما اینگس ٹیلر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کے پہلے دو برسوں میں یہ تعداد کم کر کے ایک لاکھ تک لائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’آسٹریلیا ایک گھر ہونا چاہیے، ہوٹل نہیں۔‘ ان کے بقول ملک کو ’سانس لینے کے لیے کچھ گنجائش‘ درکار ہے۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ اگر ان کی جماعت آئندہ انتخابات جیتتی ہے تو چار برسوں میں جاری کیے جانے والے عارضی ویزوں کی تعداد میں 6 لاکھ 50 ہزار کی کمی کی جائے گی۔
نیشنل پارٹی کے رہنما میٹ کیناون نے کہا کہ ’ہم ایک ملک ہیں، کیمپ گراؤنڈ نہیں۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ ’اپنے ملک پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے‘ میں مدد دے گا۔
دوسری جانب برسرِ اقتدار لیبر پارٹی بھی امیگریشن پالیسی کو مزید سخت بنانے کے عزم کا اظہار کر چکی ہے۔
گزشتہ ماہ آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے ویزا قوانین سخت کرنے، طلبہ اور ورکنگ ہالیڈے ویزا پروگراموں پر مزید نگرانی اور مقررہ مدت سے زیادہ قیام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔

ون نیشن کی رہنما پالین ہینسن نے دعویٰ کیا کہ ’امیگریشن پر بحث میں لیبر اور لبرل دونوں جماعتوں کو ون نیشن نے مجبور کیا ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق دائیں بازو کی جماعت ون نیشن، جو کئی دہائیوں تک ایک نسبتاً غیر نمایاں سیاسی قوت سمجھی جاتی تھی، حالیہ مہینوں میں مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔
ون نیشن کی رہنما پالین ہینسن نے دعویٰ کیا کہ ’امیگریشن پر بحث میں لیبر اور لبرل دونوں جماعتوں کو ون نیشن نے مجبور کیا ہے۔‘
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ آسٹریلوی عوام لبرل یا لیبر پارٹی کے امیگریشن سے متعلق وعدوں پر اعتماد نہیں کر سکتے۔

 

شیئر: