Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کمزور معیشت، گِرتی کرنسی اور مہنگائی‘، انڈین مرکزی بینک نے شرح سود بڑھا دی

مرکزی بینک کو انڈین روپے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے مسئلے کا بھی سامنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کے مرکزی بینک نے تین سال سے زائد عرصے کے دوران پہلی بار شرح سود میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے انڈین روپے پر بڑھتے دباؤ اور کمزور معیشت کی عکاسی ہوتی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایشیا کی تیسری بڑی معیشت کو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث مسائل کا سامنا ہے مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کمرشل بینکوں کو قرض دینے کی بنیادی شرح 25 بیسس پوائنٹ کا اضافہ کرتے ہوئے پانچ اعشاریہ 50 فیصد کیا جا رہا ہے جس کا فیصلہ چھ رکنی پینل نے متفقہ طور پر کیا ہے۔
اس فیصلے کے ساتھ ہی انڈیا بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے مہنگائی پر قابو پانے یا اپنی کرنسی کی قدر کو بڑھانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیا ہے۔
آر بی آئی نے فروری میں شروع ہونے والی ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے شرح سود میں تبدیلی نہیں کی تھی اور وہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے انڈین معیشت پر اثرات کا جائزہ لے رہا تھا۔
تاہم پچھلی سہ ماہی کے دوران انڈیا کی معاشی صورت حال نے مرکزی بینک کو بڑھتے اخراجات کا جائزہ لینے کی طرف راغب کیا جو توانائی سے متعلق زیادہ تر اشیا درآمد کرتا ہے جبکہ مون سون کے دوران فضلوں کو لاحق ہونے والے خطرات کے باعث غذائی اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات بھی ہیں۔
اگست میں اشیائے خورد و نوش سے متعلق مہنگائی کی شرح چار اعشاریہ 82 فیصد تک گئی۔ یہ مسلسل تیسرا مہینہ تھا جب مجموعی مہنگائی مرکزی بینک کے ہدف چار فیصد سے زیادہ رہی۔

مسلسل تین مہینے سے انڈیا میں مہنگائی کی شرح مرکزی بینک کے ہدف سے زیادہ رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی کا بڑھتا صرف خوراک کی اشیا اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں تک محدود نہیں رہا۔
مرکزی بینک کو انڈین روپے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے مسئلے کا بھی سامنا ہے جو پچھلے ہفتے کے دوران ریکارڈ کم ترین سطح پر رہا۔
روپے کی قدر میں مزید کمی کو روکنے کے لیے انڈین مرکزی بینک نے ڈالر ملک میں لائے جانے کے حوالے سے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں بیرون ملک مقیم انڈینز کے لیے ایک ڈپازٹ سکیم بھی شامل ہے، اس سکیم کے ذریعے ایک سو ارب کے قریب ڈالر جمع ہوئے۔
ایسے اقدامات کی بدولت روپے کی قدر میں کمی کو روکنے میں مدد ملی لیکن غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے انڈین کمپنیز کے حصص کی مسلسل فروخت اور خام تیل کی قیمت قریباً 100 ڈالر فی بیرل رہنے کے باعث اس کی کرنسی کو مشکلات کا سامنا ہے۔
دنیا کا تیل کا سب سے بڑا خریدار ملک انڈیا عام طور پر اپنی خام تیل کی قریباً نصف ضروریات آبنائے ہرمز کے راستے پوری کرتا ہے جو مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے بند ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس صورت حال کے باعث انڈیا ان معیشتوں میں شامل ہو گیا ہے جو عالمی سطح پر تیل کے بحران کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں کیونکہ خام تیل کے علاوہ کھاد کی قیمتوں میں بھی اضافے سے ملک کا درآمدی خرچہ بھی بڑھ رہا ہے۔

شیئر: