Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’موٹر سپورٹس کی شہرت چھوڑ کر ننگے پاؤں سپین سے پاکستان سفر‘ ایلکس پونز کی کہانی

سنہ 2024 کے وسط میں پاکستان میں ایک ہسپانوی شخص کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اچانک توجہ کا مرکز بنیں۔ لمبے بال، داڑھی، کندھے پر ایک بیگ اور پاؤں میں جوتے نہیں۔ وہ پاکستان کی سڑکوں پر پیدل چل رہا تھا اور اپنا نام عیسیٰ بتا رہا تھا۔
لوگوں کے لیے یہ ایک عجیب منظر تھا، لیکن موٹر سپورٹس سے وابستہ افراد نے جلد ہی اس چہرے کو پہچان لیا۔ یہ کوئی عام سیاح نہیں بلکہ سپین کے سابق موٹو 2 رائیڈر ایکسل پونز رامون تھے، جو 2008 سے 2017 تک عالمی سطح کی موٹرسائیکل ریسنگ میں حصہ لے چکے تھے۔
کبھی وہ دنیا کے تیز ترین ریس ٹریکس پر موٹر سائیکل دوڑاتے تھے، اور اب وہ ہزاروں کلومیٹر کا سفر ننگے پاؤں طے کرتے ہوئے پاکستان پہنچ چکے تھے۔ خود ایکسل کے مطابق، انہوں نے سپین سے پاکستان تک قریباً 15 ماہ میں 10 ممالک کا پیدل سفر کیا۔
جب پاکستان میں بنائی گئی ویڈیوز وائرل ہوئیں تو ایکسل خود اس شہرت سے بے خبر تھے۔ وہ نہ سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں اور نہ سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ ان کے والد اور سابق عالمی چیمپئن سیٹو پونز کے مطابق، ایکسل کو سوشل میڈیا پر ملنے والی شہرت میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
رفتار کے درمیان پروان چڑھنے والا بچہ
ایکسل پونز 9 اپریل 1991 کو بارسلونا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سیٹو پونز موٹرسائیکل ریسنگ کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں اور 1988 اور 1989 میں 250 سی سی ورلڈ چیمپئن شپ جیت چکے ہیں۔
ایکسل نے بھی کم عمری میں موٹرسائیکل ریسنگ کا رخ کیا۔ وہ صرف اپنے مشہور والد کے نام کی وجہ سے ریسنگ میں نہیں آئے بلکہ کئی برس تک عالمی سطح پر باقاعدہ مقابلہ کرتے رہے۔
سنہ 2008 میں انہوں نے 125 سی سی عالمی چیمپئن شپ میں وائلڈ کارڈ کے طور پر ڈیبیو کیا۔ اگلے سال 250 سی سی کلاس میں مکمل سیزن کھیلا اور 16 ریسوں میں 3 پوائنٹس حاصل کیے۔
سنہ 2010  میں 250 سی سی کلاس کی جگہ نئی موٹو 2 کیٹیگری آئی تو ایکسل نے بھی اس میں قدم رکھا اور اپنے والد کی ٹیم کے لیے ریس کرنے لگے۔ ابتدائی سال ان کے لیے آسان نہیں تھے، لیکن وہ مسلسل مقابلہ کرتے رہے۔ 2010 میں 7، 2011 میں ایک اور 2012 میں 11 پوائنٹس حاصل کیے۔
ان کا بہترین سیزن 2016 تھا، جب انہوں نے 18 ریسوں میں 55 پوائنٹس حاصل کیے اور عالمی چیمپئن شپ میں 16ویں پوزیشن حاصل کی۔ اسی سال اٹلی کے مشہور مگّیلو سرکٹ پر انہوں نے اپنے کیریئر کی بہترین گرینڈ پری پوزیشن، چھٹی پوزیشن، حاصل کی۔
موٹر سائیکل ریسنگ کے ساتھ ساتھ ایکسل نے تعلیم بھی جاری رکھی۔ 2013 میں انہوں نے بارسلونا کی لا سال یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ڈگری اِن مینجمنٹ آف بزنس اینڈ ٹیکنالوجی مکمل کی۔
ایکسل نے سب کچھ  کیوں چھوڑ دیا؟
سنہ 2017  تک وہ موٹو 2 میں مقابلہ کر رہے تھے، لیکن اسی سال ان کے کیریئر کا اختتام ہوگیا۔ 26 سال کی عمر میں ریسنگ چھوڑنے کے بعد ان کا اگلا رخ ماڈلنگ کی دنیا تھا، جہاں وہ ایک ماڈلنگ ایجنسی کے ساتھ کام کرتے رہے۔
لیکن یہ زندگی بھی انہیں زیادہ دیر اپنی طرف متوجہ نہ رکھ سکی۔
سنہ 2019 میں ایل پائیس کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایکسل نے اپنے اس دور کے بارے میں کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے موٹر سائیکل ریسنگ، ماڈلنگ ایجنسی اور اپنی اُس وقت کی گرل فرینڈ، تینوں کو چھوڑ دیا تھا۔
ان کے اپنے الفاظ میں، وہ 'پھنسے ہوئے' محسوس کر رہے تھے۔
وہ انڈیا چلے گئے جہاں ان کا مقصد ایک نئی زندگی، نئی تحریک اور مختلف طرزِ زندگی تلاش کرنا تھا۔
یہیں سے ان کی زندگی میں وہ تبدیلی شروع ہوئی جو چند سال بعد انہیں سپین سے پاکستان تک ننگے پاؤں لے آنے والی تھی۔
سنہ 2018 وہ دو دوستوں کے ساتھ فلپائن کے جزیرے سیارگاؤ بھی گئے۔ بعد کے برسوں میں ان کی روحانی تلاش مزید گہری ہوتی گئی۔ انہوں نے مختلف جگہوں پر وقت گزارا، مراقبہ کیا اور اپنی زندگی کے مقصد پر غور کیا۔

ایلکس پونز ننگے پاؤں دنیا کے سفر پر پیدل چل پڑے اور 15 ماہ میں سپین سے پاکستان پہنچے (فائل فوٹو: پاکستان ٹورزم)

تیز رفتار سے آہستہ چلنے تک
ایکسل کے لیے اصل تبدیلی صرف موٹر سائیکل چھوڑنے تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی کی رفتار پر سوال اٹھانا شروع کر دیا۔
پاکستان میں بنائی گئی ایک ویڈیو میں انہوں نے بتایا کہ ایک وقت آیا جب وہ سوچنے لگے کہ اتنی تیز زندگی گزارنے کا مقصد آخر کیا ہے۔ پھر وہ آہستہ ہوتے گئے، یہاں تک کہ دنیا کو اس کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات کے ساتھ محسوس کرنے لگے۔
ان کے لیے پیدل چلنا صرف سفر نہیں تھا بلکہ ایک روحانی عمل بن گیا۔
وہ ننگے پاؤں چلتے ہیں اور اسے خدا کے ساتھ اپنے تعلق کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، زمین کو اپنے قدموں سے محسوس کرنا اور خدا کے ساتھ مکمل یکجائی کی خواہش اس سفر کا بنیادی مقصد ہے۔
وہ اب خود کو عیسیٰ کہتے ہیں، جو عربی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے استعمال ہونے والا نام ہے۔ تاہم دستیاب معتبر رپورٹس میں ایکسل کی جانب سے باقاعدہ مذہب تبدیل کرنے کا کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔ وہ اپنے سفر کو زیادہ تر خدا سے قرب اور روحانی تلاش کے طور پر بیان کرتے ہیں
سپین سے پاکستان تک ننگے پاؤں
ایکسل نے سپین سے مشرق کی جانب پیدل سفر شروع کیا اور بالآخر تقریباً 15 ماہ میں 10 ممالک عبور کرتے ہوئے پاکستان پہنچ گئے۔ ان کے پاس صرف ایک بیگ ہوتا ہے جس میں ضرورت کی بنیادی چیزیں ہوتی ہیں۔
وہ ہوٹلوں میں قیام نہیں کرتے۔ ان کے والد سیٹو پونز کے مطابق، ایکسل روزانہ صبح تقریباً پانچ بجے اٹھتے ہیں، مراقبہ اور یوگا کرتے ہیں اور پھر پیدل سفر شروع کر دیتے ہیں۔ وہ کم سے کم سامان رکھتے ہیں اور سفر کے دوران ہوٹل استعمال نہیں کرتے۔
ان کے والد خود بھی اس سفر کا ایک حصہ دیکھ چکے ہیں۔ جولائی 2023 میں وہ شمالی مقدونیہ میں ایکسل سے ملے اور دونوں نے ایک ہفتہ ساتھ پیدل چلتے ہوئے گزارا، حتیٰ کہ جنگل میں رات بھی گزاری۔
پاکستان پہنچنے کے بعد ایکسل کا اگلا مقصد انڈیا جانا تھا، لیکن ویزے کے مسائل کے باعث یہ منصوبہ رک گیا۔ اس کے بعد انہوں نے چین کے راستے آگے بڑھنے کا امکان بھی زیرِ غور رکھا۔
Pons hasn't posted on social media since July 2021 as he keeps away from the internet
ایلکس اپنے ساتھ کم سامان رکھتے ہیں اور سفر کے دوران ہوٹل استعمال نہیں کرتے۔ (فوٹو: ایلکس پونز)

پاکستان میں ایک نیا تعارف
پاکستان میں ایکسل نے خیبر پختونخوا کے شمالی علاقوں کا سفر کیا اور چترال سمیت پہاڑی علاقوں میں وقت گزارا۔ ان کی مختلف مقامی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں وہ سڑکوں پر پیدل چلتے، لوگوں سے بات کرتے اور اپنی زندگی کے بارے میں بتاتے دکھائی دیے۔
یہیں ایک عام پاکستانی کے لیے ان کی کہانی مزید حیران کن بن گئی۔
ایک شخص جو کبھی موٹو 2 کی موٹر سائیکل پر سینکڑوں کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ریس ٹریک پر دوڑتا تھا، اب پاکستان کے پہاڑی راستوں پر ننگے پاؤں چل رہا تھا۔ اس کے پاس نہ کوئی لگژری گاڑی تھی، نہ ہوٹل کا منصوبہ، نہ کسی برانڈ کی تشہیر اور نہ ہی سوشل میڈیا کی کوئی مہم۔
صرف ایک بیگ، ایک طویل راستہ اور ایک مختلف زندگی
والد نے بھی بیٹے کے فیصلے کی حمایت کی۔ ایکسل کی اچانک پاکستان میں موجودگی کے بعد ان کے بارے میں مختلف افواہیں بھی گردش کرنے لگیں۔ بعض لوگوں نے یہاں تک قیاس کیا کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے، لیکن ان کے والد سیٹو پونز نے ان خبروں کی تردید کی۔
انہوں نے بتایا کہ ایکسل خیریت سے ہیں اور جو زندگی انہوں نے اختیار کی ہے، وہ اسے اپنی مرضی سے گزار رہے ہیں۔
سیٹو پونز نے اپنے بیٹے کے سفر کو غیر معمولی بہادری اور حوصلے کا مظہر قرار دیا اور کہا کہ ایکسل کا مقصد دنیا کو دیکھنا، مختلف ثقافتوں اور مذاہب کو سمجھنا اور زندگی کے فلسفے کو جاننا ہے۔
ایکسل پونز ہیں کون؟
ایکسل پونز کی کہانی کو صرف 'سابق موٹر سائیکل ریسر جو ننگے پاؤں پاکستان پہنچ گیا' کہنا شاید اس پوری تبدیلی کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔
وہ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جہاں موٹر سائیکل ریسنگ ایک روایت تھی۔ انہوں نے عالمی سطح پر تقریباً ایک دہائی تک ریسنگ کی، موٹو 2 میں 144 گرینڈ پری ریسز کا حصہ بنے، تعلیم مکمل کی، ماڈلنگ کی اور پھر اپنی زندگی کے ایک ایسے مرحلے پر پہنچے جہاں انہیں محسوس ہوا کہ یہ سب کچھ ان کے لیے کافی نہیں۔
انہوں نے رفتار چھوڑ دی، شہرت سے دور ہوگئے، ماڈلنگ بھی چھوڑ دی، اور آخرکار جوتے بھی۔اب ان کی زندگی کا پیمانہ ریس ٹریک کا لیپ ٹائم نہیں بلکہ قدموں کی رفتار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چلتے ہوئے انہیں زندگی کی وہ چھوٹی چھوٹی تفصیلات نظر آتی ہیں جنہیں تیز رفتار زندگی میں انسان اکثر نظر انداز کر دیتا ہے۔
کبھی ایکسل پونز کے لیے منزل اگلی ریس ہوتی تھی۔ اب منزل شاید کوئی جگہ نہیں، صرف راستہ ہے۔

شیئر: