کیا ٹی بی خواتین کے مقابلے میں مَردوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے، نئی تحقیق کیا کہتی ہے؟
کیا ٹی بی خواتین کے مقابلے میں مَردوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے، نئی تحقیق کیا کہتی ہے؟
جمعرات 27 اگست 2026 14:33
کسی متاثرہ شخص کے ساتھ زیادہ دیر تک قریبی رابطے میں رہنے سے بھی ٹی بی لاحق ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے (فائل فوٹو: آئی سٹاک)
برطانیہ کے طبی جریدے ’ای کلینیکل میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مَرد ٹی بی کی بیماری کا زیادہ شکار کیوں ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ’مَردوں میں ٹی بی اس لیے زیادہ ہوتی ہے کہ اُن کا واسطہ اس کے جراثیم سے زیادہ پڑتا ہے، اور جراثیم سے متاثر ہونے کے بعد اُن میں بیماری کے پیدا ہونے کا حیاتیاتی امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔‘
تحقیق کے لیے براعظم یورپ، افریقہ، ایشیا اور جنوبی امریکہ کے کل 14 ممالک میں سے 22 ہزار سے زائد افراد کا انتخاب کیا گیا اور پھر اِن پر کی گئی تحقیق کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔
اس تحقیق کے آغاز ہی میں معلوم ہو گیا کہ مَردوں میں خواتین کے مقابلے میں ٹی بی کے جراثیم سے متاثر ہونے کی شرح زیادہ تھی۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ مَرد اپنی زندگی کے دوران ٹی بی کے جراثیم (بیکٹیریا) سے رابطے میں زیادہ آئے تھے۔
تاہم جب اس پہلو کو زیرِغور لایا گیا تو مَردوں میں خواتین کے مقابلے میں فعال ٹی بی کی بیماری پیدا ہونے کا امکان نمایاں طور پر زیادہ نہیں تھا۔
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مَردوں میں ٹی بی کی شرح زیادہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اُن میں پہلے ہی ٹی بی کے جراثیم سے متاثر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، نہ یہ کہ متاثر ہونے کے بعد اُن میں بیماری پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق میں شریک مصنفین کہتے ہیں کہ ’اس مطالعے سے یہ بات سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ٹی بی مَردوں کو خواتین کے مقابلے میں زیادہ متاثر کیوں کرتی ہے۔‘
’تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر مردوں کو ٹی بی کے جراثیم سے بچایا جائے تو مَردوں اور خواتین میں ٹی بی سے متاثر ہونے کے فرق کو کم کیا جا سکتا ہے۔ صرف اس بات پر توجہ دینا کافی نہیں کہ انفیکشن کو ٹی بی کی بیماری بننے سے کیسے روکا جائے۔‘
تحقیق کے مطابق ’مَردوں میں ٹی بی اس لیے زیادہ ہوتی ہے کہ اُن کا واسطہ اس کے جراثیم سے زیادہ پڑتا ہے‘ (فائل فوٹو: گیٹی)
ٹی بی ایک متعدی بیماری ہے جو ایک بیکٹیریا کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی جسم کے دوسرے حصوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
فعال ٹی بی کی عام علامات میں طویل عرصے سے جاری کھانسی، بخار، رات کے وقت پسینہ آنا، وزن میں کمی اور شدید تھکن جیسی علامات شامل ہیں۔
یہ بیماری عام طور پر ہوا کے ذریعے پھیلتی ہے۔ جب پھیپھڑوں کی فعال ٹی بی کا شکار مریض کھانستا، چھینکتا یا بات کرتا ہے تو جراثیم ہوا میں شامل ہو سکتے ہیں۔
کسی متاثرہ شخص کے ساتھ زیادہ دیر تک قریبی رابطے میں رہنے سے بھی ٹی بی لاحق ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے، اگر بھیڑ والی یا کم ہوادار جگہ ہو تو اس بیماری سے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
محققین اب یہ جاننے پر توجہ دینا چاہتے ہیں کہ مردوں کو ٹی بی کے جراثیم کا سامنا زیادہ کیوں ہوتا ہے اور کام کی نوعیت، سماجی ماحول، طرزِ زندگی اور صحت کی سہولیات تک رسائی جیسے عوامل اس فرق میں کس طرح کردار ادا کرتے ہیں۔
تحقیق میں شریک مصنفین نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں یہ مطالعہ ٹی بی میں مَردوں اور خواتین کے درمیان فرق کی حیاتیاتی اور سماجی وجوہات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔