پاکستان کے تعلیمی بحران کی دو بڑی شکلیں ہیں: ملک میں سکول جانے والی عمر یعنی پانچ سے 16 سال کے تقریباً 35 فیصد بچے سکول سے باہر ہیں جبکہ باقی 65 فیصد جو سکول جاتے ہیں، وہ بھی خاطر خواہ نہیں سیکھ پا رہے۔
اس بحران کے دونوں پہلوؤں کے ساتھ جڑا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جہاں استاد اور استانیوں کی ضرورت ہے، یعنی کلاس روم، وہاں استاد موجود ہی نہیں۔ ’پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن‘ کی حالیہ رپورٹ، جس کا عنوان ’اُستانی غیر حاضر‘ ہے، اسی بڑے چیلنج کے مختلف زاویوں کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔
تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اب بھی سکول سے باہر ہیں، اس لیے یہ بات اب کسی بحث کی محتاج نہیں کہ اس نظام کو اضافی اساتذہ کی ضرورت ہے۔ اگر ہم موجودہ تعلیمی نظام ہی، چاہے وہ جیسا بھی ہے، کو پانچ سے 16 سال عمر کے باقی تمام بچوں تک پہنچانا چاہیں تو ہمیں موجودہ افرادی قوت میں تقریباً 35 فیصد مزید اساتذہ شامل کرنا ہوں گے، یعنی موجودہ دو ملین کے اوپر کم از کم سات لاکھ نئے استاد۔
مزید پڑھیں
یہ ایک ایسا نمبر ہے جو پالیسی سازوں کی نیند اڑانے کے لیے کافی ہونا چاہیے کیونکہ سات لاکھ اساتذہ کی اس پیداواری کمی کو پورا کرنے کے لیے ہمارے پاس ایسے تربیتی ادارے ہی نہیں جن سے اساتذہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ گریجویٹ کریں۔
لیکن اگر ہم بھی موجودہ نظام کے سرکردہ پالیسی سازوں کی طرح، سکول سے باہر بچوں کو فی الحال نظر انداز کر دیں اور صرف موجودہ سرکاری سکولوں میں جانے والے بچوں پر توجہ دیں، تب بھی تقریباً ایک لاکھ 95 ہزار منظور شدہ آسامیاں خالی پڑی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ منصوبہ ساز یہ کیسے طے کرتے ہیں کہ اتنے بچوں کے لیے کتنے استاد درکار ہیں؟
پاکستان میں 30 طلبہ کے لیے ایک استاد کی موجودگی کو معیار قرار دیا گیا ہے جو عالمی رجحانات سے ملتا جلتا ہے۔ جب ہم یہی شاگرد بمقابلہ استاد تناسب (ایس ٹی آر) موجودہ اساتذہ اور طلبہ کی تعداد پر لگاتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بلوچستان کو چھوڑ کر باقی پاکستان کے سرکاری سکولوں میں اس معیار کو پورا کرنے کے لیے کم از کم 76 ہزار مزید اساتذہ درکار ہیں۔
بلوچستان اس تصویر میں ایک استثنیٰ ہے، جہاں کاغذوں میں اساتذہ کی تعداد ضرورت سے زیادہ دکھائی دیتی ہے، جس کی بڑی وجہ صوبے کا پھیلا ہوا جغرافیہ اور آبادی کا پھیلاؤ ہے۔ سندھ، جو اس سال تقریباً 93 ہزار نئے سکول اساتذہ کی بھرتی مکمل کر رہا ہے، بھی تعداد کے لحاظ سے ایک بڑی افرادی قوت کا حامل صوبہ بن جائے گا۔
صوبوں میں پنجاب کی صورت حال سب سے مختلف اور تشویشناک ہے: یہاں ایک استاد کے مقابلے میں طلبہ و طالبات کی تعداد سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے کلاسوں میں رش زیادہ ہیں اور ہر بچے کوانفرادی وقت دینا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ سب سے بڑھ کر تشویش کی بات یہ ہے کہ اساتذہ کی اتنی کمی اور بلند ایس ٹی آر کے باوجود پنجاب نے سنہ 2017 کے بعد سے کسی باقاعدہ سرکاری سکول ٹیچر کی بھرتی نہیں کی۔ ہر سال ریٹائرمنٹ اور دیگر وجوہات کی وجہ سے اساتذہ نظام سے نکل رہے ہیں اور خلا مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
لیکن ایس ٹی آر اکیلا کسی بھی موثر اور جامع تدریسی افرادی قوت کا مکمل پیمانہ نہیں ہو سکتا۔ اگر کہیں کاغذوں میں 30 طلبہ فی استاد کا معیار پورا ہو بھی رہا ہو، تب بھی اس کے نیچے غیر منصفانہ تقسیم اور غلط پریکٹسز، جیسے کہ ملٹی گریڈنگ، چھپی رہ جاتی ہیں۔

بلوچستان کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں ایس ٹی آر کے مطابق تقریباً 13 ہزار اساتذہ ’اضافی‘ ہیں لیکن اسی صوبے میں لڑکیوں کے داخلے والے 50 فیصد سے زائد سرکاری پرائمری سکول صرف ایک استاد کے ساتھ چل رہے ہیں۔
ایک استاد یا استانی جو ایک ہی کمرے میں ایک ہی دن میں کچی جماعت سے لے کر پہلی، دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں جماعت کے بچوں بچیوں کو پڑھا رہی ہے۔
اسی تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ کئی شہری سرکاری سکولوں میں ضرورت سے زیادہ اساتذہ تعینات ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر دیہی سکول اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایس ٹی آر سے کہیں زیادہ فوری مسئلہ یہ ’غیر منصفانہ تعیناتی‘ ہے، جس کی ایک بڑی وجہ اساتذہ کے تبادلے ہیں جو دیہات سے شہروں کی طرف کیے جاتے ہیں، اکثر سیاسی اثر و رسوخ اور نظام میں موجود کمزوریوں کے ذریعے۔
اسی طرح، مڈل سکولوں میں ایس ٹی آر کو پرائمری سطح کے ایس ٹی آر سے بہت مختلف زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مڈل سطح پر ہماری سب سے بڑی کمی مضمون کے ماہر اساتذہ کی ہے۔ یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ مڈل سکول کی سطح پر جو چند ’سبجیکٹ سپیشلسٹ‘ بھرتی کیے گئے ہیں، وہ زیادہ تر آرٹ مضامین کے اساتذہ ہیں، مثلاً قاری صاحبان، عربی کے اساتذہ اور ڈرائنگ ماسٹرز۔ ایک ایسی قوم کے لیے جو پہلے ہی سائنسی جدت میں پیچھے ہے، ہمیں ’ایس ٹی ای ایم‘ مضامین کے ماہر اساتذہ کی بھرتی کو ترجیح دینی چاہیے۔













