Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اے آئی کی مدد سے ایک نوجوان نے کینسر کے خلاف جنگ کیسے جیتی؟

کرسٹو نے دوبارہ تحقیق کی اور اپنی تمام رپورٹس مصنوعی ذہانت کے ذریعے جانچیں (فوٹو: فیس بُک)
35 سالہ کاروباری شخصیت کونو کرسٹو اپنی صحت کے حوالے سے غیر معمولی حد تک محتاط تھے۔ وہ اپنی نیند، خوراک، ورزش اور جسمانی کارکردگی کا باقاعدگی سے ڈیٹا جمع کرتے تھے۔
’ٹیک کرنچ‘ کے مطابق جدید ویئرایبل ڈیوائسز استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ہر سال قریباً 100 مختلف طبی اشاریوں (بائیوماکرز) کے ٹیسٹ بھی کرواتے تھے۔
صحت مند طرز زندگی اپنانے اور تمام رپورٹس معمول کے مطابق ہونے کے باوجود ان کی زندگی نے اس وقت غیر متوقع موڑ لیا جب ورزش کے بعد ان کے بازو میں اچانک سوجن پیدا ہوئی۔
ابتدائی طور پر معاملہ معمولی محسوس ہوا، تاہم طبی معائنے کے دوران ڈاکٹروں کو سینے کے اندر ایک بڑا رسولی نما ماس نظر آیا۔ مزید ٹیسٹ اور بایوپسی کے بعد انکشاف ہوا کہ وہ نان ہاجکن لیمفوما نامی ایک نایاب اور تیزی سے پھیلنے والے سرطان میں مبتلا ہیں۔
کرسٹو کے مطابق ’یہ سرطان محض چند ماہ کے اندر وجود میں آیا تھا اور اگر تشخیص میں مزید چند ہفتوں کی تاخیر ہو جاتی تو بیماری چوتھے مرحلے میں داخل ہو سکتی تھی۔‘
تشخیص کے بعد انہیں علاج کے دو مختلف راستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک معروف ماہرِ امراضِ سرطان نے نسبتاً ہلکے کیموتھراپی پروگرام کی تجویز دی، جبکہ دوسرے ڈاکٹر نے زیادہ سخت لیکن مؤثر علاج کا مشورہ دیا، جس کی کامیابی کی شرح نمایاں طور پر زیادہ تھی۔
کرسٹو نے کسی ایک رائے پر انحصار کرنے کے بجائے دنیا بھر کے 12 ماہرین سے مشورہ کیا۔ ان میں سے 11 ڈاکٹروں نے سخت علاج کی حمایت کی، جس کے بعد انہوں نے اسی راستے کا انتخاب کیا۔
چھ ماہ تک جاری رہنے والے علاج کے دوران انہوں نے اپنی صحت سے متعلق ہر تفصیل کا ریکارڈ رکھا۔ نیند، خون کے ٹیسٹ، سکین رپورٹس، علامات اور روزمرہ کی جسمانی کیفیت کو باقاعدگی سے نوٹ کیا اور اس تمام ڈیٹا کو مصنوعی ذہانت کے ماڈل ’کلاڈ‘ میں شامل کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’مصنوعی ذہانت نے ڈاکٹروں کی جگہ نہیں لی بلکہ مجھے بہتر سوالات پوچھنے اور اپنی بیماری کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے میں مدد دی۔‘
علاج کے اختتام پر ایک اور مشکل مرحلہ سامنے آیا جب ’پی ای ٹی سکین‘ کی رپورٹ واضح نتائج نہ دے سکی اور ڈاکٹروں نے ممکنہ طور پر مزید علاج، حتیٰ کہ ریڈیوتھراپی پر بھی غور شروع کر دیا۔

چھ ماہ تک جاری رہنے والے علاج کے دوران انہوں نے اپنی صحت سے متعلق ہر تفصیل کا ریکارڈ رکھا (فوٹو: کلاڈ)

کرسٹو نے دوبارہ تحقیق کی اور اپنی تمام رپورٹس مصنوعی ذہانت کے ذریعے جانچیں۔ اے آئی نے ایک ایسے طبی امکان کی نشاندہی کی جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کے مطابق نوجوان مریضوں میں کیموتھراپی کے بعد تھائمس گلینڈ دوبارہ فعال ہو سکتا ہے، جسے بعض اوقات سکین میں غلطی سے سرطان سمجھ لیا جاتا ہے۔
اس تجزیے کے بعد انہوں نے مزید ماہرین سے رائے لی۔ بالآخر ایک اور ماہر نے تصدیق کی کہ یہ سرطان کی واپسی نہیں بلکہ تھائمس گلینڈ کی معمول کی بحالی تھی۔ یوں انہیں اضافی ریڈیوتھراپی کی ضرورت پیش نہیں آئی اور وہ مکمل طور پر کینسر فری قرار پائے۔
کرسٹو کا کہنا ہے کہ ’اس تجربے نے انہیں نہ صرف صحت بلکہ زندگی کے بارے میں بھی نیا نقطۂ نظر دیا۔‘ انہوں نے دیکھا کہ ’جدید طبی نظام میں ڈاکٹر اور نرسیں انتظامی امور میں کس قدر مصروف رہتی ہیں اور کس طرح مصنوعی ذہانت مستقبل میں مریضوں اور طبی عملے دونوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔‘
ان کے مطابق ’اے آئی کوئی جادوئی حل نہیں، لیکن اگر ذمہ داری سے استعمال کی جائے تو یہ مریضوں کو بہتر فیصلے کرنے، زیادہ معلومات حاصل کرنے اور اپنی صحت کے بارے میں باخبر رہنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔‘
کرسٹو کہتے ہیں کہ ’مصنوعی ذہانت کی یہ صلاحیت کوئی مستقبل کا خواب نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جو آج ہی لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔‘

شیئر: