’تفصیل نہیں بتائیں گے‘، امریکہ کی پہلی بار خلا میں ہتھیار تعینات کرنے کی تصدیق
’تفصیل نہیں بتائیں گے‘، امریکہ کی پہلی بار خلا میں ہتھیار تعینات کرنے کی تصدیق
منگل 15 ستمبر 2026 15:35
امریکہ نے پہلی بار تصدیق کی ہے کہ اس نے مدار میں ’خلائی کنٹرول کے ہتھیار‘ ںصب کیے ہیں (فائل فوٹو: گیٹی)
امریکہ نے پہلی بار تصدیق کی ہے کہ اس نے مدار میں ’خلائی کنٹرول کے ہتھیار‘ ںصب کیے ہیں جو دشمن کی کارروائی کے خلاف دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’آرس ٹیکنیکا‘ کے مطابق امریکی فضائیہ کے وزیر ٹرائے میِنک نے پیر کو واشنگٹن کے قریب نیشنل ہاربر میں ایئر اینڈ سپیس فورسز ایسوسی ایشن کی سالانہ ایئر، سپیس اینڈ سائبر کانفرنس سے خطاب کے دوران پہلی بار اس بات کی تصدیق کی۔
ٹرائے میِنک نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’آج ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ بدلتے ہوئے خطرات، وہ جہاں بھی ہوں، ان سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ اسی لیے امریکہ کے پاس اب مدار میں بھی ہتھیار موجود ہیں جو دشمن کی کارروائی سے بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
تاہم انہوں نے ان ہتھیاروں کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں اور یہ بھی نہیں بتایا کہ ان کو مدار میں لے جایا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دشمن کو کسی بھی کارروائی سے روکنے کے حوالے سے بہت اہم ہے، تاہم ہتھیاروں کے بارے میں تفصیلات بتانا اس مقصد کے لیے مفید نہیں ہو گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ان معاملات کے بارے میں بات کرنے کے طریقے سے متعلق بہت سے عوامل ہیں۔ ہم اس بات پر بھی کافی غور کرتے ہیں کہ ان چیزوں کے بارے میں کس طرح بات کرنی ہے۔‘
’ہم اس بات پر بہت وقت صرف کرتے ہیں کہ اس بارے میں کیسے بات کی جائے۔ یہ دشمن قوت کو کسی بھی کارروائی سے باز رکھنے کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔‘
’لیکن اگر اس بارے میں کیے گئے اقدامات کی تفصیل بتاؤں تو اس سے دشمن کو روکنے کا مقصد متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے ہم نہیں بتائیں گے کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں، اس کا تجربہ کیا ہے یا نہیں یا اس بارے میں کوئی اور تفصیل کیا ہے۔‘
ٹرائے مینک کا کہنا کہ ’خلائی میدان فوجی اور معاشی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے کہ امریکہ وہاں آزادانہ طور پر کارروائیاں کر سکے (فائل فوٹو: یو ایس سپیس)
آرس ٹیکنیکا کے مطابق امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے مدار میں ہتھیاروں کی موجودگی کا یہ اعتراف امریکی فوج کی خلا میں جنگ کے بارے میں سوچ میں نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
چند برس قبل اعلیٰ امریکی حکام خلا میں جنگ کے معاملے پر عوامی سطح پر بات کرنے سے گریز کیا کرتے تھے تاہم حالیہ عرصے میں فوجی حکام نے مدار میں جنگ، سیٹلائٹس کے دفاع اور دشمن کے سیٹلائٹس کو ناکارہ بنانے کی صلاحیتوں پر کھل کر بات کرنا شروع کی ہے۔
مینک کا کہنا ہے کہ ’خلائی میدان فوجی اور معاشی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ امریکہ وہاں آزادانہ طور پر کارروائیاں کر سکے۔‘
روس اور چین کا حوالہ
امریکی حکومت کی جانب سے خلا میں ہتھیاروں کی موجودگی کا اعتراف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ طویل عرصے سے روس اور چین کی خلائی فوجی صلاحیتوں پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے 2020 میں روس کی جانب سے مدار میں ایک ممکنہ اینٹی سیٹلائٹ ہتھیار کے تجربے کی نشان دہی کی تھی، جبکہ 2024 میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے حکام نے روس پر آپریشنل اینٹی سیٹلائٹ ہتھیار نصب کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
اسی سال ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سابق چیئرمین مائیک ٹرنر نے ایک امریکی حکومتی جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ روس خلا میں جوہری ہتھیار رکھنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
چین نے بھی ایسے سیٹلائٹس خلا میں بھیجے ہیں جنہیں امریکی فوجی حکام شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں (فائل فوٹو: گیٹی)
رپورٹ کے مطابق مدار میں جوہری دھماکہ ہزاروں تجارتی اور فوجی خلائی جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، جن میں ’سٹار لنک‘ کے سیٹلائٹس، امریکی جاسوسی سیٹلائٹس، چینی سیٹلائٹس اور بین الاقوامی خلائی سٹیشن شامل ہیں۔
چین نے بھی ایسے سیٹلائٹس خلا میں بھیجے ہیں جنہیں امریکی فوجی حکام شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
اوپن سورس ڈیٹا کے مطابق چینی سیٹلائٹس معمول کے مطابق مدار میں امریکی فوجی اثاثوں کے قریب اپنی پوزیشن تبدیل کرتے ہیں جنہیں ممکنہ نگرانی کی سرگرمی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے تجزیہ کاروں نے 2025 کی ’سپیس تھریٹ اسیسمنٹ‘ میں لکھا تھا کہ ’چین انتہائی تیزی سے حرکت کرنے والے سیٹلائٹس لانچ اور آپریٹ کرتا جا رہا ہے جو تکنیکی اور عملی مہارت کی ایک جدید سطح کو ظاہر کرتے ہیں۔
پریس کانفرنس میں میِنک نے خلا میں امریکی ہتھیاروں کی موجودگی کا دفاع کرتے ہوئے چین اور روس کی خلائی فوجی صلاحیتوں میں پیش رفت کا حوالہ دیا۔
ایک صحافی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’کیا یہاں کسی کو اس بات پر شک ہے کہ چینی یا روسی اس قسم کے ہتھیار تیار کر رہے ہیں؟ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ہم اس پر بات کر رہے ہیں اور تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ خلا کے لیے ہتھیار تیار کر رہے ہیں۔‘
خلا میں امریکی افواج
امریکی فوج کئی دہائیوں سے مواصلات، نیویگیشن اور میزائلوں کی وارننگ کے لیے سیٹلائٹس استعمال کر رہی ہے اور اب خلائی نظاموں کے استعمال کا دائرہ مزید وسیع ہو رہا ہے، جس میں نگرانی اور اہداف کی نشاندہی، ’سٹار لنک‘ جیسے نیٹ ورکس کے ذریعے براڈ بینڈ رابطہ اور ممکنہ طور پر میزائل دفاع کے لیے خلا میں نصب انٹرسیپٹرز بھی شامل ہیں۔
’خلائی کنٹرول‘ کے ’ڈائریکٹڈ انرجی‘ ہتھیار، ریڈیو فریکوئنسی جیمرز اور ایسے کائنیٹک ہتھیار شامل ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)
ٹرائے مینک کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم جو کچھ کرنے کی بات کر رہے ہیں، طویل فاصلے تک حملوں سے لے کر اپنی افواج کے کنٹرول تک، ان تمام معاملات میں خلائی صلاحیتوں کو برقرار رکھنا اور ان پر بھروسا کرنے کے قابل ہونا اہم ہے۔‘
ان کے مطابق ’یہ انتہائی اہم ہے کہ ہم نہ صرف فضا بلکہ خلا میں بھی اپنی برتری برقرار رکھیں۔ اس لیے ہمیں یہ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنا پڑے ہیں کہ جب ہمیں خطرہ لاحق ہو تو ہم اس سے نمٹ سکیں۔‘
آرس ٹیکنیکا کے مطابق میِنک کو گذشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فضائیہ میں اعلیٰ ترین سویلین عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔ اس سے قبل وہ فضائیہ کے افسر، سویلین پروگرام مینیجر اور ڈیموکریٹک و ری پبلکن دونوں حکومتوں میں سینیئر انٹیلی جنس عہدیدار کے طور پر کام کر چکے ہیں۔
خلا میں امریکی ہتھیار
آرس ٹیکنیکا کے مطابق ’خلائی کنٹرول‘ کے ہتھیاروں میں مختلف اقسام کی صلاحیتیں شامل ہو سکتی ہیں، جن میں لیزر جیسے ’ڈائریکٹڈ انرجی‘ ہتھیار، ریڈیو فریکوئنسی جیمرز اور ایسے کائنیٹک ہتھیار شامل ہیں جو کسی ہدف کو جسمانی طور پر تباہ کر سکتے ہیں۔
یہ ہتھیار زمین پر بھی نصب کیے جا سکتے ہیں اور خلا میں بھی رکھے جا سکتے ہیں۔
2025 میں امریکی سپیس فورس کے اس وقت کے سربراہ جنرل چانس سالٹزمین نے کہا تھا کہ دیگر ممالک خلا میں فوجی سرگرمیوں پر کام کر رہے ہیں۔
امریکی سپیس فورس نے رواں سال جون میں اپنے پہلے تسلیم شدہ ہتھیاروں کے نظام کا اعلان کیا تھا۔ یہ ’میڈولینڈز‘ نامی زمین سے چلنے والا موبائل سیٹلائٹ جیمر ہے۔
وکٹوریا سیمسن نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ’خلائی کنٹرول ہتھیار‘ ممکنہ طور پر مدار میں نصب جیمرز ہو سکتے ہیں (فائل فوٹو: گیٹی)
سکیور ورلڈ فاؤنڈیشن کی چیف ڈائریکٹر برائے سپیس سکیورٹی اینڈ سٹیبلٹی وکٹوریا سیمسن نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ’خلائی کنٹرول ہتھیار‘ ممکنہ طور پر مدار میں نصب جیمرز ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے آرس ٹیکنیکا کو ای میل میں بتایا کہ ’خیال کیا جاتا ہے کہ چین اور روس دونوں کے پاس خلا میں نصب جیمرز ہیں۔ میں ہمیشہ سے سمجھتی رہی ہوں کہ امریکہ کے پاس بھی یہ صلاحیت ہونی چاہیے۔‘
تاہم یہ واضح نہیں کہ امریکہ نے واقعی مدار میں کس قسم کے ہتھیار رکھے ہوئے ہیں۔
خلائی ملبے کا خطرہ
اینٹی سیٹلائٹ تجربات خصوصاً ایسے جن میں براہ راست میزائل یا دیگر کائنیٹک ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں، بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرتے رہے ہیں کیونکہ ان سے خلا میں ملبہ پیدا ہوتا ہے۔
امریکی حکام بھی متعدد مرتبہ ایسے ’کاؤنٹر سپیس‘ ہتھیاروں کو ترجیح دینے کی بات کر چکے ہیں جو خلائی ملبہ پیدا نہ کریں۔
سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے ’ایرو اسپیس سکیورٹی پراجیکٹ‘ کے نائب ڈائریکٹر کلیٹن سوپ کے مطابق خلا میں نصب کائنیٹک ہتھیار کے استعمال سے خلائی ملبے کا ایسا بادل پیدا ہو سکتا ہے جو مدار میں موجود بے شمار سیٹلائٹس، حتیٰ کہ امریکی فوج کے اپنے اثاثوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
سوپ کے مطابق ’امریکی فوج کے نزدیک خلائی کنٹرول کی تعریف وسیع ہے‘ (فائل فوٹو: گیٹی)
ان کے مطابق ’ایسے ہتھیار کے تجربے کا کوئی عوامی ثبوت موجود نہیں البتہ امریکی فوج زمین سے چلنے والے اینٹی سیٹلائٹ ہتھیار کا مظاہرہ کر چکی ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس کے بعد نان کائنیٹک ہتھیار آتے ہیں، جن میں سگنل جیمرز، سپوفرز اور لیزر ڈیزلرز شامل ہیں۔ بنیادی ہارڈویئر کے اعتبار سے یہ ہتھیار ایسی ٹیکنالوجی سے ملتے جلتے ہیں جو پہلے ہی بڑی تعداد میں خلا میں موجود ہے۔‘
ہتھیاروں کا ہدف کیا ہو گا؟
سوپ کے مطابق ’امریکی فوج کے نزدیک خلائی کنٹرول کی تعریف وسیع ہے اور اس میں خلا یا زمین پر موجود ایسے اہداف کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار شامل ہو سکتے ہیں جو کسی مخالف کی خلائی صلاحیتوں سے متعلق ہوں۔‘
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’کسی سیٹلائٹ کے گراؤنڈ سٹیشن کو تباہ کرنا تاکہ مخالف اسے استعمال نہ کر سکے، بھی خلائی کنٹرول کی ایک کارروائی ہے۔‘
انہوں نے جوہری ہتھیاروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’باہمی یقینی تباہی‘ کا تصور صرف جوہری ہتھیاروں کے وجود پر نہیں بلکہ اس بات پر مبنی تھا کہ انہیں کس طرح استعمال کیا جائے گا۔
تاہمرپورٹ کے مطابق پیر تک چین یا روسی حکام کی جانب سے امریکی اعلان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا (فائل فوٹو: گیٹی)
سوپ کے مطابق ’ڈیٹیرئنس کی قوت کے مؤثر ہونے کی ایک اور وجہ جوہری ہتھیاروں کی تباہ کن طاقت ہے لیکن خلا میں موجود ہتھیار کے معاملے میں یہ واضح نہیں کہ اسے کیسے اور کب استعمال کیا جائے گا اور اس کی تباہ کن صلاحیت کیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس اعلان کے بعد ماہرین اس پر بات کریں گے، لیکن یہ واضح نہیں کہ روس، چین اور دیگر ممکنہ مخالفین کو اس اعلان سے کیا پیغام لینا چاہیے۔
تاہمرپورٹ کے مطابق پیر تک چین یا روسی حکام کی جانب سے امریکی اعلان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
وکٹوریا سیمسن نے کہا کہ ’اب جبکہ امریکہ نے باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ اس کے پاس خلا میں یہ نظام موجود ہیں۔ اس نے چین اور روس کے لیے بھی یہی بات تسلیم کرنے کا راستہ کھول دیا ہے، جسے بعد میں امریکہ میں یہ جواز پیش کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ ہمیں بھی یہ نظام خلا میں رکھنے کی ضرورت کیوں تھی۔‘
آرس ٹیکنیکا کے مطابق ایک بات واضح ہے کہ مدار میں ہتھیاروں کی دوڑ ابھی جاری ہے۔ حجم اور تکنیکی پیچیدگی کے اعتبار سے امریکہ اور چین اس دوڑ میں آگے ہیں جبکہ حکمتِ عملی اور طریقۂ کار کے اعتبار سے روس زیادہ جارح دکھائی دیتا ہے۔