زمین کی طرف بڑھتا ہوا بڑا سیارچہ، خطرہ یا محض ایک خلائی نظارہ؟
یہ خلائی چٹان زمین سے تقریباً 16 لاکھ میل (26 لاکھ کلومیٹر) کے فاصلے سے گزرے گی (فائل فوٹو: گیٹی)
ایک بڑا سیارچہ اس ہفتے کے اختتام پر زمین کے قریب سے گزرے گا، لیکن فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ اس سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یورپی خلائی ایجنسی نے کہا ہے کہ یہ خلائی چٹان NCI 1997 سنیچر کی صبح زمین کے سب سے قریب آئے گی اور تقریباً 16 لاکھ میل (26 لاکھ کلومیٹر) کے فاصلے سے گزرے گی۔
تقریباً تین دہائیاں قبل امریکی ریاست ہوائی میں سیارچوں کی نگرانی کے ایک نظام نے اس خلائی چٹان کو دریافت کیا تھا۔ اس سیارچے کی چوڑائی 2,461 فٹ (0.75 کلومیٹر) سے 5,413 فٹ (1.65 کلومیٹر) کے درمیان ہے یعنی یہ تقریباً دو سے چار ایمپائر سٹیٹ عمارتوں کے برابر ہے۔
دوربین یا چھوٹے ٹیلی سکوپ رکھنے والے شوقین افراد اسے آسمان میں ایک چھوٹی روشنی کے نقطے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جو بے ضرر انداز میں گزر جائے گی۔ ناسا کے مطابق، یہ سیارچہ دوبارہ زمین سے قریب اس قدر قریب 2133 میں ہی آئے گا۔
اس سے پہلے اسی حجم کا ایک سیارچہ زمین کے اور بھی قریب سے محفوظ انداز میں 2022 میں گزرا تھا، جسے 1994 PC1 کہا جاتا ہے۔
ناسا، یورپی خلائی ایجنسی اور دیگر خلائی ادارے سیارچوں اور دیگر خلائی ملبے کے راستوں پر نظر رکھتے ہیں تاکہ زمین کو کسی ممکنہ تصادم سے محفوظ رکھا جا سکے۔ گزشتہ سال ماہرین فلکیات نے ایک نسبتاً چھوٹے سیارچے کا بھی سراغ لگایا تھا، جو گھومتی ہوئی ہاکی پک جیسا دکھائی دیتا تھا، اور انہوں نے اس وقت یہ کہا تھا کہ اس کے زمین یا چاند سے ٹکرانے کا کوئی امکان نہیں۔
