Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شوقیہ مطالعے سے ڈیمنشیا کا خطرہ ایک تہائی تک کم ہوسکتا ہے: کیمبرج تحقیق

اخبارات، رسائل اور کتابیں پڑھنے کو الزائمر کی بیماری کے خطرے میں 33 فیصد کمی سے منسلک کیا گیا (فائل فوٹو: پکسابے)
برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کے مطابق کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شوق سے مطالعہ کرنے سے ڈیمنشیا کا خطرہ ایک تہائی تک کم ہوسکتا ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی کے شعبۂ نفسیات کی پروفیسر باربرا سہاکیان اور ڈاکٹر کرسٹل لینگلی نے مختلف تحقیقی مطالعات کا جائزہ لیا، جس کے نتائج طبی جریدے ’سائیکولوجیکل میڈیسن‘ میں شائع ہوئے۔
تحقیق کے مطابق عمر سے قطع نظر مطالعہ دماغ اور ذہنی صحت کے لیے مفید ہے۔ اس سے ذہنی کارکردگی بہتر ہوتی، ذہنی تناؤ کم ہوتا، دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا اور تنہائی کا احساس کم ہوسکتا ہے۔
55 سال اور اس سے زائد عمر کے تقریباً پانچ ہزار 500 افراد پر کی گئی ایک تحقیق میں سامنے آیا کہ مطالعے جیسی ذہنی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے افراد میں پانچ سال کے دوران ذہنی کمزوری پیدا ہونے کا امکان نمایاں طور پر کم تھا۔
ایک اور تحقیق میں اخبارات، رسائل اور کتابیں پڑھنے کو الزائمر کی بیماری کے خطرے میں 33 فیصد کمی سے منسلک کیا گیا۔
تحقیقی جائزے میں 10 ہزار سے زائد بچوں اور نوجوانوں کے اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے۔
اس کے مطابق کم عمری میں شوق سے پڑھنے والے بچوں کی توجہ مرکوز رکھنے، یادداشت اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت بہتر تھی۔ وہ سکول میں بھی بہتر کارکردگی دکھاتے، ذہنی صحت کے کم مسائل کا سامنا کرتے اور زیادہ صحت مند طرز زندگی اپناتے تھے، جس میں زیادہ نیند اور سکرین کا کم استعمال شامل تھا۔
ڈاکٹر لینگلی نے کہا کہ ’بچوں اور نوجوانوں میں مطالعے کے فوائد کے پیش نظر انہیں پڑھنے کی طرف راغب کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔‘
ان کے مطابق بچوں کی دلچسپی کے موضوع سے مطالعے کا آغاز کیا جاسکتا ہے، جبکہ کامکس اور گرافک ناول بھی کتابیں پڑھنے کی جانب ایک آسان ذریعہ بن سکتے ہیں۔

تحقیقی جائزے میں 10 ہزار سے زائد بچوں اور نوجوانوں کے اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے (فائل فوٹو: پکسابے)

تحقیق کے مطابق بک کلبز اور اجتماعی مطالعہ بھی سماجی روابط بڑھاتے اور تنہائی کم کرتے ہیں، جو ڈیمنشیا کے خطرے میں کمی سے منسلک ہے۔
پروفیسر سہاکیان نے کہا کہ ’مطالعہ شروع کرنے کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی اور اس کے فوائد زندگی بھر، حتیٰ کہ بڑھاپے میں بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔‘
’دی ٹیلی گراف‘ کی رپورٹ شائع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق بچوں اور نوجوانوں میں کتابیں پڑھنے کا رجحان ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کی کم ترین سطح پر ہے، خاص طور پر کم سہولیات والے گھرانوں کے بچوں میں۔
اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کی 91 ممالک کے سات لاکھ 60 ہزار طلبہ پر کی گئی حالیہ تحقیق کے مطابق 15 سالہ بچوں کی پڑھنے کی صلاحیت اس صدی کی کسی بھی سابقہ سطح کے مقابلے میں کم ہے، جس کا اثر ریاضی اور سائنس کی کارکردگی پر بھی پڑ رہا ہے۔

شیئر: