’خوبصورت نظر آنے کا جنون‘، چین میں 75 سالہ خاتون سے ساڑھے چار لاکھ ڈالر کا فراڈ کیسے ہوا؟
’خوبصورت نظر آنے کا جنون‘، چین میں 75 سالہ خاتون سے ساڑھے چار لاکھ ڈالر کا فراڈ کیسے ہوا؟
جمعرات 17 ستمبر 2026 6:12
متاثرہ خاتون کو یہ رقم دراصل اپنا گھر فروخت کرنے سے حاصل ہوئی تھی (فوٹو: سائوتھ چائنہ مارننگ پوسٹ)
شنگھائی کی ایک 75 سالہ عمر رسیدہ خاتون نے ایک بیوٹی سیلون میں خوب صورتی سے متعلق علاج اور خدمات پر 30 لاکھ یوان (4 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر) خرچ کر دیے اور اپنی ریٹائرمنٹ کی تمام جمع پونجی ختم کر ڈالی۔ یہ معاملہ اس وقت منظرِعام پر آیا جب اُس کی بیٹی کو صورتِ حال کا علم ہوا۔
خاتون کی بیٹی نے حال ہی میں شنگھائی کے ایک ٹیلی وژن پروگرام سے اُس وقت مدد طلب کی، جب اُس کے علم میں یہ بات آئی کہ اُس کی والدہ اپنی تمام بچت بیوٹی سروسز پر خرچ کر چکی ہیں۔
خاتون کا خاندانی نام یو بتایا گیا ہے، اور انہوں نے سال 2016 سے یونگ چی بیوٹی اینڈ ہیئر ڈریسنگ کمپنی کی ایک شاخ اور اس سے منسلک طبی طور پر خوبصورتی کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے سے مختلف خدمات حاصل کرنے پر اپنی جمع پونجی خرچ کی۔
یو کے مطابق، اِن خدمات میں جِلد کو پُرکشش بنانے کا علاج، دھاگوں کے ذریعے فیس لفٹنگ اور میریڈیئن مساج شامل تھا۔
یو کی بیٹی نے دونوں اداروں سے حاصل کیے گئے بِلوں کی تفصیلات دیکھیں تو معلوم ہوا کہ اُس کی والدہ نے سیلون میں بھنوؤں اور ہونٹوں پر ٹیٹو بھی بنوائے تھے۔
تشویش کی بات یہ تھی کہ اِن خدمات کے لیے وصول کی جانے والی رقم مارکیٹ میں رائج نرخوں سے 10 سے 20 گنا زیادہ تھی۔ مثال کے طور پر ہونٹوں پر ٹیٹو بنانے کے متعدد مراحل پر مشتمل ایک سیشن کی قیمت 39,800 یوان (تقریباً 6 ہزار امریکی ڈالر) وصول کی گئی تھی۔
بِل سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ یو نے بعض ایک ہی نوعیت کے طریقۂ علاج کئی بار کروائے، حالانکہ خاص طور پر ٹیٹو بنانے کے معاملے میں ایسا بار بار کروانا ضروری نہیں ہوتا۔
یو نے بتایا کہ اُنہوں نے اِخراجات پر توجہ نہیں دی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہ مالی طور پر خوش حال ہیں۔
اُن کو یہ رقم درحقیقت اپنا گھر فروخت کرنے سے حاصل ہوئی تھی۔ اُن کی بیٹی کو جب صورتِ حال کا علم ہوا تو یو کے پاس فلیٹ کا کرایہ ادا کرنے کے لیے بھی رقم باقی نہیں رہی تھی اور انہیں اپنے زیورات تک فروخت کرنا پڑے۔
یونگ چی کے سیلون کے عملے نے انہیں روئی نامی ایک میڈیکل بیوٹی کلینک بھیجا، جہاں ان سے ایک ’ذاتی نگہداشت‘ کے طریقۂ علاج کے لیے 3 لاکھ یوان (45 ہزار امریکی ڈالر) وصول کیے گئے۔
یو نے رقم تو ادا کر دی، لیکن یہ طریقۂ علاج کروایا ہی نہیں۔ بعد میں کلینک نے اِس کے بدلے اُن کے جلد کی دیکھ بھال سے متعلق دیگر علاج کیے۔
روئی کی جانب سے جاری کیے گئے بِلوں میں ’ہیپی نس چیئر‘ اور ’سپیس کیپسول‘ جیسی خدمات بھی شامل تھیں، جن کے بارے میں یو خود بھی وضاحت نہیں کر سکیں۔
ساوتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے روئی سے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن اُن کے بِلوں پر درج فون نمبرز فعال نہیں تھے۔
یو کی بیٹی کو بعد میں معلوم ہوا کہ کلینک نے یو سے حاصل کی گئی رقم یونگ چی کے اکاؤنٹ کے ذریعے وصول کی تھی۔
یونگ چی کے ایک ملازم نے اصرار کیا کہ یہ طریقۂ علاج بار بار کروانے کی خواہش خود یو کی تھی، کیونکہ وہ ’اپنی ظاہری شکل و صورت کے بارے میں بے چینی‘ کا شکار تھیں۔
ملازم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تمام خدمات کی قیمتیں واضح طور پر درج تھیں اور یو نے ادائیگی کرکے اِن قیمتوں کو قبول کیا تھا۔
خاتون نے اپنی جمع پونچی خرچ کرنے کے باوجود قانونی کارروائی نہیں کی (فوٹو: سائوتھ چائنہ مارننگ پوسٹ)
عمر رسیدہ افراد کو بھی اگرچہ خوب صورت نظر آنے کے لیے علاج اور خدمات حاصل کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، لیکن اِن کی خواہشات کا غلط طور پر کاروبار کرنے والوں کی جانب سے ناجائز فائدہ نہیں اُٹھایا جانا چاہیے۔
اس معاملے میں سیلون نے یو کی پیشگی ادا کی گئی رقم کا کچھ حصہ واپس کرکے معاملہ طے کرنے کی کوشش کی۔
ساوتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے سیلون کی انتظامیہ سے بھی مزید وضاحت طلب کی، تاہم انتظامیہ نے کہا کہ معاملہ حل ہو چکا ہے اور مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
یو نے قانونی کارروائی نہیں کی۔ یونگ چی کا سیلون بدستور کام کر رہا ہے اور بظاہر اِس کے خلاف اس فراڈ پر کسی قسم کی سرکاری تحقیقات یا اِس کی معطلی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔
سیلون نے اپنے دفاع میں ’واضح طور پر درج قیمتوں‘ کا حوالہ دیا، تاہم چین کے ’واضح قیمتوں کے ساتھ مارکیٹنگ اور قیمتوں میں دھوکا دہی کی ممانعت‘ سے متعلق قواعد کاروباری اداروں کو شفافیت، انصاف اور دیانت داری کے اصولوں پر عمل کرنے کا بھی پابند بناتے ہیں۔
ایک مبصر نے کہا کہ ’عمر رسیدہ افراد کو بھی خوب صورت نظر آنے کا ویسا ہی حق حاصل ہے جو دوسروں کو ہے، لیکن غلط طور پر کاروبار کرنے والوں کو اِن کی خواہشات کا ناجائز فائدہ نہیں اُٹھانا چاہیے۔‘
ایک اور شخص نے کہا کہ ’بیوٹی شاپس اپنے کاروبار کو چلانے کے لیے صارفین پر اضافی رقم خرچ کروانے پر زور دیتی ہیں۔ اِن کے اِس طریقۂ کار کے حوالے سے محتاط رہنا بہت ضروری ہے۔‘