Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آئی پی ایل میں ایک بار پھر میچ فکسنگ کی گونج، سابق کرکٹر نے نیا ’پینڈورا باکس‘ کھول دیا

اشوک شرما نے کہا کہ ’ہم نے بورڈ کو لکھا ہے۔ جو بھی بی سی سی آئی ہم سے کہے گا، ہم وہی کریں گے۔ ‘ (فوٹو: اے این آئی)
دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن نے ایک سابق کھلاڑی کی جانب سے میڈیا آؤٹ لیٹ کے ذریعے کیے گئے سٹنگ آپریشن میں سامنے آنے والے ’میچ فکسنگ‘ کے دعووں پر ردعمل دیا۔
ہندستان ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی ڈی سی اے کے سیکریٹری اشوک شرما نے تصدیق کی کہ ادارے نے بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) سے رجوع کیا ہے تاکہ معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے ہدایات لی جا سکیں۔
اس سٹنگ آپریشن میں دہلی پریمیئر لیگ  میں میچ فکسنگ کے الزامات سامنے آئے۔ زیرِ بحث میچ ٹورنامنٹ کے تیسرے ایڈیشن کا ساتواں میچ تھا، جو سینٹرل دہلی کنگز اور نارتھ دہلی سٹرائیکرز کے درمیان ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔
سابق رنجی کھلاڑی راچت بھاٹیا، جو اس وقت ریکارڈنگ سے بے خبر تھے، نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ٹاس سے پہلے ہی قیمتی معلومات فراہم کی تھیں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے 2025 کے آئی پی ایل ایڈیشن میں چنئی سپر کنگز کے کچھ میچ فکس کیے اور 2018-19 کے سید مشتاق علی ٹرافی میں سپاٹ فکسنگ میں بھی ملوث رہے۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق بھاٹیا نے اس سیزن میں ناگالینڈ کے لیے دو ٹی20 میچ کھیلے اور دو وکٹیں حاصل کیں۔
ان دعووں پر ردعمل دیتے ہوئے ڈی ڈی سی اے نے ہندستان ٹائمز کو بتایا کہ اس نے بی سی سی آئی کو خط بھیج دیا ہے اور تمام دستیاب شواہد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ڈی پی ایل میں کوئی غلط کام نہیں ہوا۔
اشوک شرما نے کہا کہ ’ہم نے بورڈ کو لکھا ہے۔ جو بھی بی سی سی آئی ہم سے کہے گا، ہم وہی کریں گے۔ اگر بورڈ ویڈیو فوٹیج مانگے گا تو ہم وہ بھی دیں گے۔ جو بھی بورڈ درخواست کرے گا، ہم فراہم کریں گے۔ لیکن اگر بات ٹیلی فونک ریکارڈنگ کی تصدیق تک پہنچتی ہے تو وہ تبھی ممکن ہے جب کرائم برانچ یا دہلی پولیس کو شامل کیا جائے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جہاں تک سٹنگ آپریشن میں دکھائے گئے شواہد کا تعلق ہے، وہ محض ایک ریکارڈنگ ہے۔ جو دکھایا جا رہا ہے، اصل میں ہوا یا نہیں ہوا، یہ سب بیانات ہیں۔ لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے تو چاہے کوئی بھی کھلاڑی ملوث ہو، سب سے پہلے ملک آتا ہے، پھر ہمارا ڈی ڈی سی اے، فرد کی کوئی اہمیت نہیں۔‘

ڈی ڈی سی اے نے مزید کہا کہ اسے نہیں لگتا کہ الزامات میں کوئی وزن ہے (انڈین ایکسپریس)

’کیونکہ یہ ہمارا اتنا بڑا منصوبہ (ڈی پی ایل) ہے جو پچھلے تین سال سے چل رہا ہے۔ ہزاروں بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہے۔ اگر یہ کسی وجہ سے معطل ہو گیا یا کچھ ہوا تو سوچیں ہمیں کتنا نقصان ہوگا۔ اور سب سے بڑی چیز ہماری دیانت داری ہے۔ میں ذاتی طور پر یہاں اتنے سال اسی لیے رہا ہوں کہ کبھی کسی نے ہم پر انگلی نہیں اٹھائی۔ یہ صرف ہمارا جذبہ ہے۔‘
ڈی ڈی سی اے نے مزید کہا کہ اسے نہیں لگتا کہ الزامات میں کوئی وزن ہے، اور اس نے دعویٰ کیا کہ تیسرے ایڈیشن کے دوران اس کی اینٹی کرپشن یونٹ مکمل طور پر فعال اور محفوظ تھی۔
ڈی ڈی سی اے کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’ہمارے پاس ڈی پی ایل کے دوران 30-35 لاکھ روپے کا خصوصی اینٹی کرپشن پیکیج تھا۔ بورڈ نے خصوصی افسران تعینات کیے تھے۔ وہ ہر بس کے ساتھ تھے اور ہوٹلوں میں بھی قیام پذیر تھے۔ ہم نے پہلے ہی اس طرح کی چیزوں کو روکنے کے لیے تیاری کر لی تھی۔‘
’ہمارے لوگ ہر ٹیم کے ساتھ موجود تھے۔ وہ تمام آٹھ ٹیموں کے ساتھ تعینات تھے۔ ہمارا 30 لاکھ روپے کا بجٹ اس کے لیے منظور ہوا تھا۔ اور انہیں براہِ راست بورڈ نے مقرر کیا تھا۔ ہم ہمیشہ اینٹی کرپشن اہلکاروں کو براہِ راست بورڈ کے ذریعے ہی شامل کرتے ہیں، کبھی نجی طور پر نہیں۔‘

 

شیئر: