سنہ 2025 کے ایک ہیرس پول سروے کے مطابق 42 فیصد امریکیوں نے بیرونِ ملک منتقل ہونے کے بارے میں کبھی نہ کبھی ضرور سوچا ہے اور پاکستان میں یہ تعداد اِس سے کہیں زیادہ ہے۔
لیکن کسی دوسرے ملک میں زندگی گزارنا شاذ ہی نیٹ فلکس کے مقبول ڈرامے ’ایملی اِن پیرس‘ جیسا ہوتا ہے۔ اِس ڈرامے میں ایک نوجوان امریکی سوشل میڈیا انفلوئنسر اپنے خوابوں کی ملازمت حاصل کرنے کے لیے فرانس منتقل ہوتی ہے جہاں وہ مارکیٹنگ کے شعبے میں کام کرتی ہے، رنگ برنگے مہنگے ملبوسات پہنتی ہے اور وجیہہ مردوں کے عشق میں گرفتار ہو جاتی ہے۔
ٹریول انشورنس کمپنی ورلڈ نومیڈز میں براعظم امریکہ کے خطے کی سربراہ کرسٹینا ٹنا کہتی ہیں کہ ’انسٹاگرام پر بیرونِ ملک زندگی بہت دلکش دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت ہمیشہ ویسی ہی نہیں ہوتی جیسی دکھائی جاتی ہے۔‘
مزید پڑھیں
انگلینڈ میں پیدا ہونے والی اور زیادہ تر بیرونِ ملک پرورش پانے والی کرسٹینا ٹنا بیرونِ ملک مقیم افراد کی زندگی کے نشیب و فراز سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ یورپ، شمالی اور جنوبی امریکہ، کیریبین اور ایشیا کے مختلف ممالک میں رہنے، کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں۔ اِس وقت وہ شمالی کیلیفورنیا میں مقیم ہیں۔
انہوں نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اُن اہم امور پر روشنی ڈالی جنہیں کسی نئے ملک میں منتقل ہونے سے قبل ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے، خصوصاً جب آپ اپنی زندگی، ملازمت، خاندان اور مالی معاملات سب کچھ وہاں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔

یہ نکات اُن پاکستانیوں کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہوں گے جو بیرونِ ملک جانے کا سوچ رہے ہیں یا اپنی تیاری مکمل کر چکے ہیں۔
بیرونِ ملک حالات کا جائزہ لیں
سب سے پہلے تو آپ کو یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ کو ہفتے کے اختتام پر خریداری کے لیے کہاں جانا ہوگا۔ گروسری سٹورز کا رخ کریں، تعمیراتی سامان کی دکانوں پر جائیں اور جہاں تک ممکن ہو مختلف جگہوں کا رُخ کریں۔
رہائش کے لیے موزوں جگہ کا انتخاب
میں ہمیشہ ذہنی طور پر ایک چھوٹی سی مشق کرتی ہوں اور خود سے سوال کرتی ہوں کہ اگر مجھے یہاں منتقل ہونا پڑے تو میں کس علاقے میں رہنا پسند کروں گی؟ وہاں مکان کا کرایہ کتنا ہوگا؟ میرے بجٹ میں کس قسم کا اپارٹمنٹ مل سکتا ہے؟ اِس علاقے سے میرے دفتر تک پہنچنے کا کیا طریقہ ہوگا؟ کیا مجھے گاڑی کی ضرورت پڑے گی؟
ہم وطنوں سے تعلق قائم کرنا
بیرونِ ملک مقیم افراد کے لیے بہت سے بلاگز اور کمیونٹی ویب سائٹس موجود ہیں۔ بیرونِ ملک روانگی سے قبل اِن گروپس کو تلاش کریں اور اِن کے ارکان سے بات چیت کریں۔ یہ اپنے سماجی حلقے میں ابتدائی روابط قائم کرنے اور لوگوں کو جاننے کا بہترین طریقہ ہے۔

بعدازاں خود بھی حقیقت پسندانہ انداز میں جائزہ لیں اور اپنے آپ سے پوچھیں: کیا میں بیرونِ ملک مقیم اپنے ہم وطنوں کے ساتھ ہی رہنا چاہتا ہوں یا اِس ملک کے مقامی لوگوں سے تعلقات استوار کرنا چاہتا ہوں؟
ٹریول انشورنس کیوں ضروری ہے؟
ٹریول انشورنس سفر کے دوران پیش آنے والے غیر متوقع واقعات کے لیے ہوتی ہے۔ آپ اگر کسی جگہ چھ ماہ کے لیے قیام کر رہے ہیں تو ممکن ہے یہ انشورنس آپ پر لاگو ہو۔
تاہم، یہ طبی اخراجات کی انشورنس نہیں ہے۔ آپ کو اگر مستقل استعمال کی ادویات درکار ہیں، آپ کا چشمہ یا کانٹیکٹ لینز خراب ہو جائیں اور انہیں تبدیل کرانا ہو، یا آپ کو ذیابیطس یا کوئی دوسری پہلے سے موجود بیماری ہو جس کے علاج کی ضرورت پڑتی ہو، تو ٹریول انشورنس اِن طبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔
بیرونِ ملک علاج معالجے کی سہولیات
بعض ادارے بیرونِ ملک مقیم افراد کو صحت کی ایسی سہولیات فراہم کرتے ہیں جن کے ذریعے وہ معمول کے طبی معائنے اور مسلسل علاج کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔ بہتر ہے کہ آپ وہاں پہلے سے مقیم دوسرے غیر ملکیوں سے پوچھیں کہ وہ اپنے علاج معالجے کے لیے کیا کرتے ہیں۔

کچھ ملکوں میں مقامی کلینکس میں علاج بہت سستا ہوتا ہے، جبکہ بعض لوگ کسی قسم کی ہیلتھ انشورنس بھی نہیں کرواتے۔ وہ علاج کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنے اور طبی اخراجات کا بوجھ خود اُٹھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ بھی اچھی طرح معلوم کر لیں کہ آپ کی ٹریول انشورنس کتنے عرصے تک مؤثر رہے گی۔ اگر کوئی سنگین طبی مسئلہ پیش آ جائے تو کیا انشورنس کمپنی آپ کو واپس اپنے ملک بھیجنے کا انتظام کرے گی؟ کیا وطن واپسی کے فضائی سفر کے اِخراجات بھی اِس میں شامل ہوں گے؟
ٹیکس اور ویزا سے متعلق معاملات
اپنی آمدنی پر ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کہ اِسے کس ملک میں ظاہر کرنا ہے۔ تمام ملکوں کے درمیان ایسے معاہدے موجود نہیں ہوتے جن کے تحت کسی شخص کی آمدنی پر صرف ایک ہی مرتبہ ٹیکس عائد ہو۔

آپ کو یہ بھی اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کا ویزا آپ کو کن سرگرمیوں اور سہولتوں کی اجازت دیتا ہے۔ بہت سے لوگ کسی ملک میں قیام کی مقررہ مدت پوری ہونے کے قریب صرف تین دن کے لیے واپس اپنے ملک چلے جاتے ہیں تاکہ اُن کے قیام کی مدت کا حساب دوبارہ شروع ہو جائے، اور پھر اُسی ملک واپس آ جاتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنا بعض صورتوں میں ویزے کی شرائط کی سنگین خلاف ورزی تصور ہو سکتا ہے۔
بینکاری کے معاملات کے باری میں آگاہی حاصل کریں
بعض اوقات آپ اگر کسی ملک کے مستقل رہائشی نہیں ہیں تو وہاں اپنا بینک اکاؤنٹ کھلوانا ممکن نہیں ہوتا۔ اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت اگر مل جائے تو ٹیکس کے حوالے سے تمام معاملات واضح رکھیں اور اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آمدنی اور مالی لین دین کی تفصیلات متعلقہ حکام کو ظاہر کرنے کے حوالے سے کوئی ابہام باقی نہ رہے۔
ریٹائرمنٹ کے لیے مالی منصوبہ بندی
آپ کو اگر ریٹائرمنٹ کے لیے بچت کے کسی باقاعدہ نظام تک رسائی حاصل نہیں تو اپنے مالیاتی مشیر یا متعلقہ ادارے سے مشورہ کرکے طے کریں کہ آپ کو ریٹائرمنٹ کے لیے کتنی رقم اور کس طریقے سے جمع کرانی چاہیے۔
اِس کے ساتھ ہی سوشل سکیورٹی کا معاملہ بھی اہم ہے۔ آپ اگر بیرونِ ملک مقیم ہونے کے دوران سوشل سکیورٹی میں اپنا حصہ جمع نہیں کروا رہے تو وطن واپسی پر اِس کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟

بیرونِ ملک رہتے ہوئے ٹیکس ادا نہ کرنا شاید اتنا بڑا مالی فائدہ نہ ہو جتنا بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ کیا واقعی آپ کو ٹیکس سے مکمل چھوٹ حاصل ہو رہی ہوگی جبکہ آپ اُن دوسری سہولیات اور فوائد سے بھی محروم ہو رہے ہوں جو پانچ سال بعد اُس وقت آپ کے کام آ سکتے ہیں جب آپ وطن واپس آنے کا فیصلہ کریں؟
بیرونِ ملک رہائش کے لیے مکان کا انتخاب
مکان مالکان کو اگر معلوم ہو کہ آپ بیرونِ ملک سے آئے ہیں تو ممکن ہے کہ انہیں کرائے کی ضمانتی رقم یا مکان کو پہنچنے والے نقصان کی صورت میں اپنے حقوق کا تحفظ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو۔ اِس وجہ سے بعض مکان مالکان پورے ایک سال کا کرایہ پیشگی طلب کر سکتے ہیں۔
جائیداد خریدنے کا معاملہ اِس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ آپ کو جب تک کوئی کمپنی اِس سلسلے میں مکمل معاونت فراہم نہ کر رہی ہو، جائیداد خریدنے سے گریز کریں۔
بیرونِ ملک زندگی کیسی ہوتی ہے؟
میری ایک دوست اپنے بچوں کے ساتھ بارسلونا کے شمال میں منتقل ہوئی۔ اُس نے مستقل منتقلی سے قبل وہاں جا کر حالات کا جائزہ لیا، ایک اچھے مکان مالک کے ساتھ رہائش کا انتظام کیا اور منتقل ہونے سے قبل بچوں کے لیے سکول بھی تلاش کر لیا۔













