جلدی سونے کے کئی فوائد ہیں اور ِان کا تعلق صرف اگلی صبح تازہ دم بیدار ہونے تک محدود نہیں۔ ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جلد نیند آنا شوگر کا مرض لاحق ہونے کے خطرے سے دوچار مریضوں میں وزن کم کرنے کے حوالے سے زیادہ بہتر نتائج کی وجہ بن سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق، تحقیق کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نیند کے دورانیے اور معیار کے ساتھ ساتھ سونے کا وقت بھی وزن کو قابو میں رکھنے اور میٹابولزم بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ سونے کے معمولات میں تبدیلی شوگر سے بچاؤ کے لیے اختیار کی جانے والی طرزِ زندگی کی دیگر تبدیلیوں میں ایک مفید اضافہ ثابت ہو سکتی ہے۔
جرنل ’نرسنگ ریسرچ‘ میں شائع ہونے والی اِس تحقیق میں شوگر سے پہلے کی کیفیت میں مبتلا تقریباً 200 ایسے بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا جو ہر رات ساڑھے چھ گھنٹے سے کم سوتے تھے۔ محققین نے پایا کہ جو شرکا نسبتاً جلد سو جاتے تھے، انہوں نے آٹھ ہفتوں کے دوران وزن کم کرنے کے حوالے سے بہتر نتائج حاصل کیے۔ خون میں شکر کی سطح میں اگرچہ کوئی بہتری نہیں آئی، تاہم اس سے یہ بات سامنے آئی کہ سونے کا وقت وزن کو قابو میں رکھنے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
-
خواتین میں شوگر زیادہ خطرناک کیوں ہوتی ہے؟Node ID: 903484
-
کیا ناشپاتی دل کی صحت اور شوگر کے علاج میں مفید ہے؟Node ID: 909279
تحقیق سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ جلد سونے سے رات گئے کھانے پینے کی عادت کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
تحقیق کیسے کی گئی؟
محققین نے شوگر سے پہلے کی کیفیت میں مبتلا تقریباً 200 بالغ افراد کو قرعہ اندازی کے ذریعے دو گروپوں میں تقسیم کیا۔ دونوں گروپوں نے آٹھ ہفتوں پر مشتمل ایک پروگرام میں حصہ لیا، جس میں صحت بخش غذا، جسمانی سرگرمی اور ہفتہ وار ویڈیو کالز کے ذریعے ذہنی دباؤ پر قابو پانے پر توجہ دی گئی تھی۔ تاہم، ایک گروپ کو نیند کے حوالے سے اضای رہنمائی بھی فراہم کی گئی۔
تمام شرکا روزانہ اپنی نیند کا ریکارڈ رکھتے تھے۔ پروگرام شروع ہونے سے پہلے اور اختتام پر انہوں نے خون میں شکر کی سطح مسلسل جانچنے والے آلات (کنٹینیوئس گلوکوز مانیٹرز) بھی استعمال کیے۔ اس کے علاوہ انہیں کلائی پر پہننے والے تحقیق کے لیے تیار کردہ مخصوص آلات، جنہیں ایکٹی گراف کہا جاتا ہے، دیے گئے تاکہ اِن کی نیند کے معمولات کا جائزہ لیا جا سکے۔

محققین نے پایا کہ دونوں گروپوں کی نیند کے معیار اور وزن میں بہتری آئی۔ تاہم، نیند کے حوالے سے اضافی رہنمائی حاصل کرنے والے افراد نے نیند کے معیار میں زیادہ بہتری اور دن کے وقت غنودگی میں زیادہ کمی کی اطلاع دی۔ اُن کے سونے کے اوقات بھی نمایاں طور پر تبدیل ہو گئے تھے اور وہ جلد سونے لگے تھے۔
جلد سونے سے وزن کم کرنے میں مدد کیوں ملتی ہے؟
محققین کے مطابق سونے کا وقت جسمانی وزن کو قابو میں رکھنے کے عمل میں شامل کئی عوامل کو متاثر کر سکتا ہے۔
نیویارک یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ کی اسسٹنٹ پروفیسر اور تحقیق کی مرکزی مصنفہ سوزن کوہل میلون نے کہا کہ ’صرف یہ اہم نہیں کہ ہم کتنی دیر سوتے ہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ ہم کس وقت سوتے ہیں اور یہ وزن کم کرنے اور میٹابولزم بہتر بنانے کے حوالے سے ایک اہم اور نظرانداز کیا گیا پہلو ہے۔‘
تحقیق میں معلوم ہوا کہ شرکا کا تعلق کسی بھی گروپ سے ہو، جلد سونے کا تعلق وزن میں زیادہ کمی سے تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھانے سے اس طرح کے نتائج سامنے نہیں آئے۔

شرکا نے جتنی جلدی سونا شروع کیا، آٹھ ہفتوں کے دوران ہر ایک گھنٹہ پہلے سونے کے نتیجے میں اُن کے وزن میں تقریباً 1.3 پاؤنڈ (0.73 کلوگرام) کی کمی دیکھی گئی۔ محققین نے اِس کی چند ممکنہ وجوہات بیان کی ہیں:
< رات گئے کھانے پینے میں کمی: جو لوگ رات دیر تک جاگتے ہیں، اُن میں رات کے وقت کچھ نہ کچھ کھانے یا اضافی کیلوریز استعمال کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ جلد سونے سے غیر ضروری کھانے پینے کے مواقع کم ہو سکتے ہیں۔
< میٹابولزم کے قدرتی اوقات سے بہتر مطابقت: جسم کی گلوکوز کو پراسیس کرنے اور انسولین کے ردِعمل کی صلاحیت دن کے مختلف اوقات میں تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ رات کے وقت انسولین کی حساسیت اور گلوکوز برداشت کرنے کی صلاحیت عموماً کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے رات گئے کھانا جسم کے معمول کے میٹابولک عمل میں خلل ڈال سکتا ہے۔
< مصنوعی روشنی سے کم واسطہ: رات دیر تک جاگنے کا مطلب اکثر یہ ہوتا ہے کہ انسان ٹیلی ویژن، موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات سے نکلنے والی مصنوعی روشنی میں زیادہ وقت گزارتا ہے۔ اِس سے جسم کا قدرتی نیند اور بیداری کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
< ہارمونز کا بہتر توازن: ناکافی نیند اور سونے جاگنے کے بے قاعدہ معمولات بھوک اور خوراک کی طلب کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز کو متاثر کر سکتے ہیں۔ رات دیر تک جاگنے کا تعلق گھریلن نامی ہارمون کی سرگرمی میں اضافے سے بھی جوڑا گیا ہے، جسے بھوک کا ہارمون کہا جاتا ہے۔ اِس سے بھوک بڑھ سکتی ہے اور انسان زیادہ خوراک استعمال کر سکتا ہے۔













