جنریشن زیڈ کی ہیڈ فونز سے محبت، مگر کیا وہ اس کے نقصانات سے آگاہ ہیں؟
جنریشن زیڈ کی ہیڈ فونز سے محبت، مگر کیا وہ اس کے نقصانات سے آگاہ ہیں؟
بدھ 4 نومبر 2026 7:03
مسلسل ہیڈ فون استعمال کرنے کی عادت صرف سماعت ہی نہیں بلکہ سماجی زندگی اور ذہنی صحت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے (فوٹو: پکسابے)
جنریشن زیڈ (جین زی) کے لیے ہیڈ فون زندگی کا لازمی حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ موسیقی، پوڈکاسٹس اور آڈیو مواد سننا نوجوانوں کے روزمرہ معمولات میں اس قدر شامل ہو چکا ہے کہ بہت سے لوگ جاگنے سے لے کر سونے تک ہیڈ فون استعمال کرتے رہتے ہیں۔
تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ مسلسل ہیڈ فون استعمال کرنے کی عادت صرف سماعت ہی نہیں بلکہ سماجی زندگی اور ذہنی صحت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔
امریکی نیوز چینل سی این این کے مطابق 24 سالہ نیویارک کی رہائشی اتیرا گالی ان لاکھوں نوجوانوں میں شامل ہیں جو تقریباً ہر وقت کچھ نہ کچھ سنتی رہتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ برتن دھوتے وقت بھی ہیڈ فون استعمال کرتی ہیں کیونکہ اس کے بغیر انہیں بوریت محسوس ہوتی ہے۔ دفتر جاتے ہوئے، کام کے دوران، واپسی پر اور رات کے وقت روزمرہ کے کام کرتے ہوئے بھی ان کے کانوں میں ہیڈ فون موجود ہوتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 13 سے 34 سال کی عمر کے افراد روزانہ اوسطاً ساڑھے چار گھنٹے آڈیو مواد سنتے ہیں، جبکہ موسیقی سٹریمنگ پلیٹ فارم سپاٹی فائی کی بڑی تعداد جین زی پر مشتمل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہیڈ فون کا استعمال بظاہر بے ضرر لگتا ہے، لیکن یہ انسانوں کے درمیان قدرتی روابط کو محدود کر سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی پروفیسر ڈاکٹر گلوریا مارک کے مطابق بہت سے لوگ غیر ارادی طور پر ہیڈ فون کو دوسروں سے فاصلے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
یونیورسٹی آف وسکونسن کے ماہر نفسیات رچرڈ ڈیوڈسن کا کہنا ہے کہ نوجوان تعلیمی اداروں میں مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں سے ملنے اور تعلقات بنانے کے قیمتی مواقع کھو رہے ہیں۔ ان کے مطابق آج جامعات میں بڑی تعداد میں طلبہ ہر وقت ہیڈ فون لگائے رکھتے ہیں، جس سے آپس کی گفتگو کم ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خاموشی دراصل ذہنی سکون، خود آگاہی اور توجہ بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے (فوٹو: پکسابے)
ماہرین کے مطابق روزمرہ زندگی میں اجنبی افراد کے ساتھ مختصر گفتگو یا مسکراہٹ کا تبادلہ بھی ذہنی صحت اور خوشی پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ لیکن ہیڈ فون ایسے مواقع کو کم کر دیتے ہیں، جس سے تنہائی کے احساس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ مسلسل موسیقی یا آڈیو مواد سننے سے لوگ خاموشی برداشت کرنے کی صلاحیت کھو رہے ہیں۔ ڈاکٹر مارک کے مطابق آج بہت سے افراد اکیلے بیٹھ کر اپنے خیالات کے ساتھ وقت گزارنے یا بوریت کو برداشت کرنے کے عادی نہیں رہے۔ جیسے ہی خاموشی پیدا ہوتی ہے، وہ فون یا ہیڈ فون کا سہارا لے لیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خاموشی دراصل ذہنی سکون، خود آگاہی اور توجہ بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ مسلسل بیرونی آوازوں میں مصروف رہنے سے انسان اپنی سوچوں، جذبات اور اردگرد کے ماحول سے کم جڑ پاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہیڈ فونز سے مکمل گریز ضروری نہیں، لیکن ان کا متوازن استعمال اہم ہے (فوٹو: پکسابے)
انہی خدشات کے باعث اتیرا گالی نے حال ہی میں اپنے دفتر کے سفر کے دوران ہیڈ فون استعمال نہ کرنے کا تجربہ کیا۔ صرف دو دن کے اندر انہوں نے اپنے راستے میں کئی نئی دکانوں کے سائن بورڈ دیکھے، جن پر پہلے کبھی توجہ نہیں گئی تھی، حالانکہ وہ روزانہ اسی راستے سے گزرتی تھیں۔
ماہرین کے مطابق ہیڈ فونز سے مکمل گریز ضروری نہیں، لیکن ان کا متوازن استعمال اہم ہے۔ کبھی کبھار خاموشی کو موقع دینا، اردگرد کے ماحول پر توجہ دینا اور دوسروں سے مختصر رابطے قائم کرنا ذہنی توازن، سماجی تعلقات اور مجموعی فلاح و بہبود کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔