افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے آٹھ ڈرون مار گرائے: سکیورٹی حکام
افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے آٹھ ڈرون مار گرائے: سکیورٹی حکام
بدھ 23 ستمبر 2026 12:33
پاکستانی حکام نے 21 ستمبر کو کہا تھا کہ افغانستان پر فضائی حملوں میں شدت حملوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق افغانستان کی طرف سے آنے والے آٹھ ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔
پاکستان ٹیلی ویژن نیوز نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ آج صبح آٹھ ڈرونز پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے جن کو پاکستان کے فعال اور مستعد ایئر ڈیفنس سسٹم نے نشانہ بناتے ہوئے مار گرایا۔
رپورٹ کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے اس کو ایک ’بزدلانہ کوشش‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے افغان رجیم ان کے ذریعے عوامی مقامات کو نشانہ بنانا چاہتی تھی۔
’چار ڈرون طورخم بارڈر سے ملحقہ جبکہ چار کوہاٹ سے متصل بارڈر کے پہاڑی علاقوں میں گرائے گئے۔‘
ابتدائی معلومات کے مطابق حملے کے آنے والے ڈورنز دیسی ساخت کے تھے۔
خیال رہے 21 ستمبر کو پاکستان کے حکام کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ جنگی جہازوں کے ذریعے افغانستان کے مشرقی حصے میں مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 28 شدت پسند ہلاک ہوئے۔
یہ حملے پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا میں ہونے والے دہشت گردی کے کئی واقعات کے بعد کیے گئے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پچھلے چند ماہ سے سخت کشیدگی کا شکار ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
اس سے قبل ضلع ہنگو میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں دو فوجی افسران سمیت چھ اہلکار جان سے گئے تھے جبکہ اس سے ایک روز قبل کوہاٹ شہر میں پولیس کمپاؤنڈ پر حملہ کیا تھا جبکہ ایک خودکش دھماکہ بھی ہوا، جس کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
حالیہ برسوں کے دوران پاکستان کی پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان فروری سے اب تک ہونے والی جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں کے بعد افغانستان نے بھی جوابی کارروائیاں شروع کی تھیں۔
اسلام آباد کے حکام تشدد کا زیادہ تر ذمہ دار پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) اور اس سے وابستہ عسکریت پسندوں کے گروہوں کو قرار دیتے ہیں، پاکستانی طالبان 2021 میں اقتدار میں آنے والے افغان طالبان سے الگ تنظیم ہے تاہم ان کو افغان طالبان کا اتحادی سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب افغانستان ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے۔