Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اقوام متحدہ: اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کے دوران درجنوں سفارتی نمائندوں کا واک آؤٹ

اجلاس کے آغاز کے وقت میں ہال کے اندر بہت کم لوگ موجود تھے (فوٹو: اے ایف پی)
اقوام متحدہ میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی تقریر کے دوران درجنوں ممالک کے سفارت کار احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو ہونے والے اجلاس کے دوران شور مچایا گیا جبکہ ان کی اپنی ٹیم کے ارکان کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے رہے اور سپیکر نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کرتے رہے۔
بنیامین نتین یاہو نے کہا کہ ’اگر اب بھی ہال میں اخلاقی طور پر کوئی بزدل شخص موجود ہے تو وہ بھی براہ مہربانی ابھی باہر چلا جائے۔‘
اجلاس کے آغاز کے وقت میں ہال کے اندر بہت کم لوگ موجود تھے تاہم نیتن یاہو کی تقریر سے قبل ہال کافی حد تک بھر گیا تھا۔
فلسطین کے وفد نے ایک یادداشت کے ذریعے دیگر ممالک کے سفارتی مشنز سے بھی احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔
اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی تقریر میں مخالفین اور اتحادیوں دونوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
27 اکتوبر کو اسرائیل میں ہونے والے انتخابات میں اپنے اقتدارکو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں نیتن یاہو نے اس عالمی فورم پر ایران کی قیادت سے لے کر نیویارک کے پہلے مسلمان میئر، برطانیہ فرانس اور ترکیہ جیسے اتحادی ممالک تک سب پر تنقید کی۔
انہوں نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کو ’یہود مخالف‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’جب سے آپ منتخب ہوئے ہیں، بہت سے یہودی خود کو محفوظ تصور نہیں کرتے۔‘
ظہران ممدانی نے کچھ عرصہ قبل عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم کی گرفتاری کے وارنٹ پر عمل کی دھمکی دی تھی، تاہم بعدازاں تسلیم کیا تھا کہ انہیں ایسا کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
عالمی فوجداری عدالت نے 2024 میں کہا تھا کہ اس کے پاس ایسی معقول وجوہات موجود ہیں جن کی بنیاد پر نیتن یاہو غزہ میں ’جنگی جرائم کے ذمہ دار‘ ٹھہرتے ہیں۔
یہ کارروئیاں سات اکتوبر کو حماس کی جانب سے ہونے والے حملے کے جواب میں شروع کی گئی تھی۔
صورت حال میں مزید دباؤ اس وقت محسوس کیا گیا جب درجنوں مظاہرین اقوام متحدہ کی عمارت کے قریب جمع ہوئے جن میں سے بعض نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’نسل کشی بند کرو‘ درج تھا، ان میں سے کچھ کو حراست میں بھی لیا گیا جن میں ہالی وڈ اداکارہ سوزن سارینڈن بھی شامل تھیں۔
برطانیہ اور فرانس جو اسرائیل کے پرانے اتحادی رہے ہیں اب اس پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی تقریر میں ان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
برطانیہ اور فرانس دونوں نے مقبوضہ کنارے سے اسرائیلی برآمدات پر محدود پابندیاں لگا رکھ ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں کی اس تقریر نے بھی اسرائیل کو ناراض کیا جس میں کہا گیا تھا کہ حماس مغربی کنارے میں سرگرام نہیں رہی اور اس کا گڑھ روایتی طور پرغزہ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے برطانیہ اور فرانس کو ان کی سابقہ نوآبادیاتی سلطنتوں کا حوالہ دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ چھوٹے سے اسرائیلپر نوآبادیات کا الزام لگاتے ہیں اور ان میں فرانس اور برطانیہ بھی شامل ہیں حالانکہ اصطلاح خود انہوں نے ہی ایجاد کی تھی۔‘
نیتن یاہو کے میکخواں کے ساتھ تعلقات پہلے بھی خراب تھے، فرانسیسی صدر نے پچھلے برس جنرل اسمبلی میں مغربی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی کوشش کی قیادت کی تھی۔

شیئر: