Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی حل کا کوئی متبادل نہیں‘

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں:سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی حل کا ’کوئی متبادل نہیں‘ ہے۔
منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے دو ریاستی حل سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے خبردار کیا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے کیونکہ مستقبل میں ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی بنیادیں بتدریج ختم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل متعدد ممالک نے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ ان کے مطابق اس اقدام کے ذریعے ان ممالک نے اس بات کو تسلیم کیا کہ 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل ہی فلسطینیوں، اسرائیلیوں اور پورے خطے میں دیرپا امن و سلامتی کے لیے قابلِ عمل راستہ ہے۔
یہ اجلاس گذشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر فرانس اور سعودی عرب کی جانب سے دو ریاستی حل کے حوالے سے منعقد کیے گئے سربراہی اجلاس کے ایک سال بعد ہوا۔
برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت متعدد ممالک نے گذشتہ سال اسی اجلاس کے قریب فلسطین کو تسلیم کیا تھا۔ یہ پیش رفت ’نیویارک ڈیکلریشن‘ کی بنیاد پر ہوئی، جو جولائی 2025 میں فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی کانفرنس میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک روڈ میپ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
اجلاس میں سیکریٹری جنرل گوتریش نے خبردار کیا کہ اس پیش رفت کے باوجود ایک آزاد، جمہوری، مربوط، قابلِ عمل اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ضروری حالات مسلسل ختم کیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے عالمی عدالت انصاف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا نے اسرائیل کی ایسی پالیسیوں اور اقدامات کا مشاہدہ کیا ہے جو غیر قانونی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ان کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کی منظوری کو تقریباً ایک دہائی گزرنے کے باوجود مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، میں یہودی بستیوں کی توسیع غیر معمولی حد تک تیزی سے ہو رہی ہے، جبکہ آبادکاروں کے تشدد میں بھی تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ مکانات کو منہدم کرنے، بے دخلی، نقل مکانی، زمینوں پر قبضے اور مقدس مقامات کی موجودہ حیثیت میں تبدیلی کے اقدامات نے ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس کے نتیجے میں فلسطینی خاندان اپنے گھروں اور زمینوں سے محروم ہو رہے ہیں۔

سیکریٹری جنرل گوتریش نے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں میں تیزی سے اضافے پر تشویش کا اظہار کیا: فائل فوٹو اے ایف پی

سیکریٹری جنرل نے یروشلم کے مشرق میں اسرائیل کے ای ون سیٹلمنٹ منصوبے کا بھی خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ اس منصوبے پر پیش رفت ایک مربوط اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو شدید نقصان پہنچائے گی۔
غزہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تباہی اور مایوسی میں گھِرے خاندانوں کے لیے بہتر مستقبل کے وعدے اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک زمینی صورتحال میں حقیقی تبدیلی نہ آئے۔ ان کے مطابق غزہ سے متعلق امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔
سیکریٹری جنرل گوتریش نے کہا کہ دو ریاستی حل کی حمایت اب صرف بیانات تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے پالیسیوں، فیصلوں اور عملی اقدامات میں بھی نظر آنا چاہیے۔
انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی بستیوں کی توسیع روکیں، الحاق کی کوششوں کو ناکام بنائیں، فلسطینی اداروں اور ان کی مالی استعداد کی حمایت کریں اور قبضے کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل آگے بڑھائیں۔
انہوں نے کہا کہ مقصد واضح ہے کہ اسرائیل اور فلسطین پر مشتمل دو آزاد، خودمختار اور جمہوری ریاستیں، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر محفوظ اور تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ امن و سلامتی سے رہیں اور یروشلم دونوں ریاستوں کا دارالحکومت ہو۔

شیئر: