اسلام آباد میں آن لائن فراڈ کے خلاف دوسری بڑی کارروائی، مزید 275 غیرملکی باشندے گرفتار
بدھ 19 اگست 2026 17:52
صالح سفیر عباسی -اردو نیوز، اسلام آباد
وزارتِ داخلہ نے ان تمام غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کر کے 15 روزہ ’ون ٹائم ایگزٹ پرمٹ‘ جاری کر دیا ہے (فائل فوٹو: اے پی پی)
پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں ایک اور کارروائی کرتے ہوئے 275 غیر ملکی باشندوں کو حراست میں لے کر فارنرز ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
بدھ کو ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ ایف آئی آر کے مطابق ان غیر ملکی شہریوں کو اسلام آباد کے سیکٹر I-10/3 میں قائم ’اکبر فلور ملز‘ کی حدود سے حراست میں لیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں آن لائن فراڈ اور ویزا ضوابط کی خلاف ورزیوں کے خلاف جاری اس کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار ہونے والے غیر ملکیوں کا تعلق زیادہ تر چین، ویتنام اور انڈونیشیا سے ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایف آئی اے نے 11 اگست کو اسلام آباد کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی گلبرگ گرینز سے 284 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا تھا۔
ان تمام شہریوں کے ویزے منسوخ کر کے انہیں 15 دن کا ایگزٹ پرمٹ دے کر ملک بدر اور بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جبکہ موجودہ معاملے میں بھی اسی طرز کے آن لائن فراڈ نیٹ ورک کی تفتیش کی جا رہی ہے۔
ایف آئی اے کی دوسری کارروائی کب اور کیسے عمل میں آئی؟
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے قریباً ایک ہفتے کے وقفے کے بعد 19 اگست کو اسلام آباد کے سیکٹر I-10/3 میں واقع ’اکبر فلور ملز‘ پر چھاپہ مار کر دوسری بڑی کارروائی کی۔
خفیہ اطلاع پر کی گئی اس کارروائی کے دوران 275 غیر ملکیوں کو حراست میں لیا گیا جن کی شناختی پڑتال انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم سے کی گئی۔
ایف آئی اے کے مطابق چین، ویتنام اور انڈونیشیا سے آئے یہ افراد وزٹ، ٹورسٹ اور بزنس ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔
ملزمان پر بغیر ورک پرمٹ غیر قانونی کال سینٹر قائم کرنے اور آن لائن مالیاتی فراڈ میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت فارنرز ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی اے تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ تمام افراد وزٹ، ٹورسٹ اور بزنس ویزا کی کیٹیگریز پر پاکستان میں داخل ہوئے تھے، تاہم انہوں نے اپنے ویزا کی طے شدہ شرائط اور قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی۔
ایف آئی آر کے مطابق تمام 275 غیر ملکیوں کے نام، قومیت، ویزا کیٹیگری اور پاسپورٹ نمبرز پر مشتمل الگ دستخط شدہ فہرست استغاثہ کی رپورٹ کے ساتھ منسلک کی گئی ہے۔
ایف آئی آر میں موقف اپنایا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران اگر اس غیر قانونی نیٹ ورک یا کال سینٹر میں کسی بھی مقامی یا غیر ملکی سہولت کار یا ملوث شخص کا کردار سامنے آیا تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
وزارتِ داخلہ نے ان تمام غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کر کے 15 روزہ ’ون ٹائم ایگزٹ پرمٹ‘ جاری کر دیا ہے تاکہ انہیں جلد از جلد ڈی پورٹ کیا جا سکے جبکہ روانگی کے فوراً بعد ان کے نام ’بلیک لسٹ‘ اور ’فارنرز کنٹرول لسٹ‘ میں ڈال دیے جائیں گے تاکہ وہ دوبارہ پاکستان نہ آ سکیں۔
