حرمین شریفین کی سکیورٹی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیسے کیا جا رہا ہے؟
وزارتِ داخلہ نے سکیورٹی نظام کے حوالے سے خصوصی رپورٹ جاری کی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزارتِ داخلہ نے حرمین شریفین کے سکیورٹی نظام کے تاریخی سفر کے حوالے سے جاری خصوصی رپورٹ جاری کی ہے جو بانی مملکت شاہ عبدالعزیز سے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور تک ہے۔
ایس پی اے کے مطابق رپورٹ میں زائرینِ کی خدمات اور ان کے لیے حفاظتی اقدامات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
زائرین کو حرمین شریفین میں تحفظ اور اطمینان قلب مملکت کی کئی دہائیوں سے جاری مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ مملکت نے ایک مربوط سکیورٹی نظام کو مسلسل ترقی دی۔
شاہ عبدالعزیز کے دور میں حرمین شریفین کی دیکھ بھال کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا، سکیورٹی کو مقدس مقامات کی ترقی سے الگ نہیں سمجھا گیا بلکہ اسے دیکھ بھال کا لازمی حصہ بنایا گیا۔
شاہ عبدالعزیز کے دور میں ریاست کی ذمہ داری صرف ایک حج یا عمرہ سیزن کو محفوظ بنانے کی نہیں تھی، اس میں ان دونوں مقدس شہروں کی سکیورٹی قائم کرنا شامل تھا۔

اس کے لیے پولیس اور سکیورٹی اداروں کی بنیاد رکھی گئی۔ سال ہجری 1354 میں پولیس اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا جس سے سکیورٹی اہلکاروں کی باقاعدہ تربیتی دور کا آغاز ہوا۔
بعد ازاں حرمین شریفین کی توسیع، سڑکوں، بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی نظام کی ترقی کے ساتھ زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو منظم کرنے کے لیے سکیورٹی اور خدمات کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔
جدہ میں شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ، مشاعر مقدسہ میں ترقیاتی منصوبے، حرم مکی کی دوسری اور تیسری سعودی توسیع، جمرات پل، مشاعر ریلوے اور دیگر بڑے منصوبوں کی وجہ سے لاکھوں زائرین حرمین کی آمدورفت اور سلامتی کو مزید منظم بنانے میں مدد ملی۔

رپورٹ میں بتایا گیا شاہ سلمان کے دور میں سعودی وژن 2030 کے تحت حرمین کی خدمت اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کی ترقی میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جدید نظام اور ازدحام کے مواقع پر انتظامات کو مزید مربوط کیا گیا۔
آج سکیورٹی نظام صرف نگرانی تک محدود نہیں بلکہ ڈیٹا کے تجزیے، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ممکنہ مسائل کی پیشگی نشاندہی اور بروقت کارروائی پر بھی توجہ مرکوز کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حرمین کا سکیورٹی نظام کسی ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ سکیورٹی، صحت، ٹرانسپورٹ، بلدیاتی اور دیگر اداروں کے باہمی تعاون کی واضح مثال ہے۔
اس کا بنیادی مقصد صرف مقامات کا تحفظ نہیں بلکہ زائرین حرمین کے پورے سفر کو محفوظ، منظم اور پرسکون بنانا ہے تاکہ حجاج و عمرہ زائرین اطمینان کے ساتھ مناسک ادا کرکے بحفاظت اپنے وطن کو لوٹ سکیں۔
