Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

الزبیل مملکت میں ’کھجور سے وابستہ ایک قدیم ترین ثقافتی ورثہ‘

یہ روایتی ٹوکری وزن میں ہلکی لیکن انتہائی مضبوط ہوتی ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
الزبیل کا کا شمار قدیم روایتی اشیا میں ہوتا ہے۔ اس کا  گہرا تعلق نخلستانوں، کھجور کے درختوں اور کھجور کٹائی کے سیزن سے ہے۔ ماضی میں زرعی معاشروں میں یہ روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ تھی۔
ایس پی اے کے مطابق الزبیل (کھجور کے خشک پتوں اور شاخوں سے بنی ٹوکری) عام طورپر گول یا بیضوی شکل کی بنائی جاتی تھی۔ اس کے درمیان والا حصہ قدرے بڑا بنایا جاتا تھا تاکہ اسے زمین پر بآسانی رکھا جا سکے۔
الزبیل کو اٹھانے کے لیے کھجور کے خشک پتوں سے ہی ہینڈل بنائے جاتے تھے جو دو یا اس سے زیادہ ہوتے تھے۔
اسے بنانے کے لیے خاص مہارت درکار ہوتی تھی۔ یہ وزن میں ہلکی لیکن انتہائی مضبوط ہوتی ہے۔ درختوں سے کھجوروں کو اتارنے کے بعد انہیں الزبیل میں جمع کرکے گوداموں میں منتقل کیا جاتا تھا جس کے بعد کھجوروں کی چھانٹی کا عمل شروع کیا جاتا۔
کھجور کے درخت کی یہ خاصیت ہے کہ یہ محض پھل پیدا کرنے کے لیے ہی مخصوص نہیں بلکہ درخت کی دیگر اشیا بھی قابلِ استعمال ہوتی ہیں۔

علاقے کے کاشتکار صالح الحسین نے بتایا کہ الزبیل کی تیاری میں مقامی طور پر دستیاب اشیا استعمال کی جاتی ہیں۔ ان میں کھجور کے خشک پتے بنیادی جزو ہیں جن سے ’لیف‘ (رسی) بھی بنائی جاتی ہے۔ یہی رسی ہینڈل بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
روایتی الزبیل کی تیاری کے متعدد مراحل ہیں۔ سب سے پہلے کھجور کے پتے ’خوص‘ کو جمع کیا جاتا ہے۔ انہیں خشک کرنے کے بعد صاف کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں انہیں مخصوص طریقے سے دھوپ میں خشک کرنے کے بعد سفید رنگ کیا جاتا ہے۔ پتوں کو بھی مخصوص طریقے سے بُنا جاتا ہے۔ اس سے ٹوکری یا چنگیر تیار کی جاتی ہے۔

آج بھی الزبیل کی صنعت مملکت میں کھجور سے وابستہ قدیم ترین ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔ یہ سعودی معاشرے کی قدیم دستکاری ہے جو نسل درنسل منتقل ہوتی آئی ہے۔
یہ روایتی اشیا آج عجائب گھروں، قدیم بازاروں اور ثقافتی میلوں میں نظر آتی ہیں جبکہ سماجی اور قومی تقریبات میں بھی ان کا استعمال اس قدیم ورثے کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

 

شیئر: