ایران کو پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثے جاری کرنے کی پیشکش نہیں کی: صدر ٹرمپ
ایران کو پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثے جاری کرنے کی پیشکش نہیں کی: صدر ٹرمپ
منگل 29 ستمبر 2026 8:51
ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی اس رپورٹ کی تردید کر دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے ایران کو پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثے واپس کرنے کی پیشکش کی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں لکھا ’ایکسیوس نے خبر دی ہے کہ میں نے ایران کو پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثے واپس کرنے کی پیشکش کی ہے، یہ غلط ہے، میں نے کوئی پیشکش نہیں کی۔‘
نیوز ویب سائٹ نے نامعلوم امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کے پروگرام سے متعلق ٹھوس اقدامات کے بدلے میں ایران کو پابندیوں میں نرمی دینے اور منجمد اثاثے جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے رپورٹ کو ’جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نیوز سائٹ کو اسے واپس لینا چاہیے۔
یہ ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی پیر کو قطری ثالثوں کے ساتھ ملاقات ہونا تھی۔ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان پچھلے ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی تھی۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا نے پیر کو اطلاع دی تھی کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مزید براہ راست بات چیت طے نہیں ہے۔
سنیچر کو صدر ٹرمپ نے تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تجویز کو مسترد کیا تھا۔
اتوار کو صدر ٹرمپ نے ایکسیوس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں مذاکرات پھر شروع ہو جائیں گے۔
سنیچر کو صدر ٹرمپ نے تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کی تجویز مسترد کر دی تھی (فوٹو: روئٹرز)
سٹریٹیجک اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کا مرکزی نکتہ ہے، یہ گزرگاہ تیل کی تجارت کے حوالے سے بہت اہم ہے اور عام حالات میں یہاں سے عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ یہاں سے ہو کر گزرتا ہے۔
28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے تہران نے اس گزرگاہ کے ذریعے آمد و رفت کو مکمل طور پر بند کر رکھا ہے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ میں گیس اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ عوامی رائے کے جائزوں سے بھی عیاں ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو قومی سطح پر مقبولیت میں کمی کا سامنا ہے جبکہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات بھی ہونے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ریپبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں کانگریس میں اکثریت کھو دینے کے خدشات بھی لاحق ہیں۔