امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی کارروائی کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج قریباً نو ہزار مزید فوجیوں کو بحری جہازوں کے ایک گروپ کے ذریعے مشرق وسطیٰ روانہ کر رہی ہے۔‘
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق مشرق وسطیٰ جانے والے بحری جہازوں میں سات ہزار سے زائد ملاح اور دو ہزار میرینز شامل ہوں گے۔
اس گروپ میں یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کیریئر اٹرائیک گروپ شامل ہے، جو حال ہی میں یو ایس ایس چوسن نامی کروزر کے ساتھ تعینات ہوا تھا۔
مزید پڑھیں
-
صدر ٹرمپ کی چین کو ہتھیار فروخت کرنے کی پیشکش: امریکی سفیرNode ID: 908880
اس کے علاوہ ’یو ایس ایس میکِن آئی لینڈ ایمفیبیئس ریڈی نس گروپ‘ بھی مشرق وسطیٰ روانہ کیا گیا ہے، جس میں ’یو ایس ایس جان پی مرثا‘ اور ’یو ایس ایس اینکریج‘ نامی ایمفیبیئس لینڈنگ شپ شامل ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے اے پی کو بتایا کہ ’اکتوبر کے اختتام تک خطے میں تین امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے موجود ہو سکتے ہیں۔‘
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود امریکی فوجیوں کے ساتھ نئی تعیناتی کے بعد خطے میں امریکی ملاحوں اور میرینز کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر جائے گی، جبکہ سینکڑوں طیارے بھی وہاں موجود ہوں گے۔‘
امریکی بحریہ نے اپریل میں بھی مشرق وسطیٰ میں تین کیریئر سٹرائیک گروپس تعینات کیے تھے، جو سنہ 2003 کے بعد پہلی بار ہوا تھا۔
اس وقت ’یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش‘ اور ’یو ایس ایس جارج واشنگٹن‘ خطے میں موجود ہیں، جبکہ ’یو ایس ایس باکسر ایمفیبیئس ریڈی نس گروپ‘ بھی وہاں تعینات ہے۔
’یو ایس ایس جارج واشنگٹن‘ عام طور پر بحرالکاہل میں تعینات رہتا ہے تاہم اسے ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کی جگہ مشرق وسطیٰ بھیجا گیا تھا۔ ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی کے دوران اس کا عملہ مسلسل 260 سے زائد دن سمندر میں رہا تھا۔
USS George Washington (CVN 73) conducts flight operations while sailing in regional waters in the Middle East. pic.twitter.com/tKubxRdacp
— U.S. Central Command (@CENTCOM) October 1, 2026
دوسری جانب ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئی کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا۔ جمعرات کو شائع ہونے والے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’تین نومبر کو ہونے والے امریکی انتخابات کے بعد ایران میں بمباری بڑھانا ممکن ہے۔‘
مزید تفصیلات بتانے کے سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ وہ اپنی حکمت عملی کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کر سکتے۔
صدر ٹرمپ نے انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی تازہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے، کیونکہ ان کے بقول ’وہ چیزیں جنہیں میں ایک سال پہلے منظور نہیں کرتا، آج بھی نہیں کروں گا۔‘
صدر ٹرمپ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران نے اہم توانائی کی گزرگاہ آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کی تھی‘، تاہم ان کے مطابق مجموعی تجویز ’کافی اچھی نہیں تھی۔‘












